حروف جر

حروف جر کی تعریف: حروفِ جر وہ حروف ہے جو صرف اسم میں داخل ہوتے ہیں۔ فعل یا معنی فعل کا اسم کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے لئے بالفاظ دیگر یہ بتلانے کے لئے کہ فعل یا معنی فعل کا تعلق اس سم کے ساتھ ہے۔ مثلاً: کتبتُ بالقلم

مذکورہ مثال میں دیکھئے قلم ایک اسم ہے اس پر با داخل ہے جو ایک حرف جر ہے، کتابت کا تعلق قلم کے ساتھ اسی با نے قائم کیا ہے۔

حروف جر کا حکم: یہ ہیکہ یہ اپنے اسم کو جر دیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر ان کے بعد آنے والا اسم مجرور ہوتا ہے اسی حرف جر کی وجہ سے۔

تصویر کے ساتھ عربی الفاظ یاد کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حروف جر سترہ ہیں

ب، ت، ک، ل، و، منذ، مذ، خلا، رُب، حاشا، من، عدا، فی، عن، الیٰ، حتی، علیٰ۔۔۔۔۔۔۔۔   درج ذیل شعر میں حروف جر جمع کر دیا گیا ہے اسے یاد کرلیں۔

باؤ تاؤ کاف و لام واو منذُ ومُذْ خَلا
رُبَّ حَاشَا ِمنْ عَدَا في عَنْ إِلٰی حَتّٰی علٰی

ب: کے مشہور معنی نو ہیں: اِلصاق، استعانت، مقابلہ، تعدیہ، قسم، تعلیل، مصاحبت، ظرفیت اور زائدہ۔
۱۔ الصاق یعنی ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ ملنا، خواہ حقیقتاً ملنا ہو یا حکماً۔ جیسے: بِہٖ دَآئٌ (اس کے ساتھ بیماری ہے) مَرَرْتُ بِزَیْدٍ۔
۲۔ استعانت یعنی مدد چاہنا۔ جیسے: کَتَبْتُ بالقلم (میں نے قلم کی مدد سے لکھا)۔
۳۔ مقابلہ یعنی بدلہ ہونا۔ جیسے: بِعْتُ الثَّوْبَ بِدِرْہَمٍ (میں نے کپڑا ایک روپیہ کے بدلہ میں بیچا)۔
۴۔ تعدیہ یعنی لازم کو متعدی بنانا۔ جیسے: ذَہَبْتُ بزیدٍ (میں زید کو لے گیا)، ذَہَبَ (گیا) لازم تھا ب کی وجہ سے متعدی ہوگیا۔
۵۔ قسم کھانے کے لیے۔ جیسے: بِاللّٰہِ! لَأَفْعَلَنَّ کَذَا (بخدا! میں ایسا ضرور کروں گا)۔
۶۔ تعلیل یعنی علت بیان کرنے کے لیے۔ جیسے: {اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ} (بےشک تم نے ظلم کیا اپنی ذاتوں پر تمہارے بچھڑا بنانے کی وجہ سے)۔
۷۔ مصاحبت یعنی ساتھ ہونا بتانے کے لیے۔ جیسے: خَرَجَ زَیْدٌ بِأُسْرَتِہٖ (زید اپنے خاندان کے ساتھ نکلا)۔
۸۔ ظرفیت یعنی جگہ ہونا بتانے کے لیے۔ جیسے: جَلَسْتُ بالمَسْجدِ (میں مسجد میں بیٹھا) ۔
۹۔ زائدہ یعنی کچھ معنی نہیں ہوتے۔ جیسے: أَلَیْسَ زَیْدٌ بقَائِمٍ؟ (کیا زید کھڑا نہیں ہے؟) اس میں لیس کی خبر پر ب زائد ہے۔

ت: قسم کھانے کے لیے آتا ہے مگر لفظ اللّٰہ کے ساتھ خاص ہے، باقی اسمائے حسنیٰ پر داخل نہیں ہوتی۔ جیسے: {تَاللّٰہِ لَاَکِیْدَنَّ اَصْنَامَکُمْ}

ک: تشبیہ کے لئے آتا ہے جیسے: زَیْدٌ کَالأسَدَ (زید شیر جیسا ہے)

ل: کے تین معنی ہیں۔ اختصاص، تعلیل اور زائدہ۔
۱۔ اختصاص یعنی ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ خاص ہونا بتلانے کے لیے۔ جیسے: الْجُلُّ لِلْفَرَسِ (جھول گھوڑے کے لیے خاص ہے) ۔
۲۔ تعلیل یعنی علت بیان کرنے کے لیے۔ جیسے: ضَرَبْتُہٗ لِلتَّأدیِْبِ میں ضرب کی علت تادیب ہے۔
۳۔ زائدہ جیسے: رَدِفَ لَکُمْ (تمہارا ردیف یعنی سواری پر تمہارے پیچھے بیٹھنے والا)۔ اس میں لام زائد ہے۔


و: بھی قسم کھانے کے لیے ہے۔ جیسے: {وَاللّٰہِ إِنَّ زَیْدًا لَقَائِمٌ}


مذ اور مُنذُ دو معنی کے لیے ہیں:
۱۔ زمانہ ماضی میں ابتدائے غایت بتانے کے لیے۔ جیسے: مَا رَأَیْتُہٗ مُذْ/ مُنْذُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ (نہیں دیکھا میں نے اس کو جمعہ کے دن سے)۔
۲۔ کسی کام کی پوری مدت بتانے کے لیے۔ جیسے: مَا رَأَیْتُہٗ مُذْ/ مُنْذُ یَوْمَیْن (نہیں دیکھا میں نے اس کو دو دن سے یعنی نہ دیکھنے کی پوری مدت دو دن ہے۔


رُبَّ تقلیل کے لیے ہے، یعنی کسی چیز کی کمی بیان کرنے کے لیے ہے۔ جیسے: رُبَّ رَجُلٍ کَرِیْمٍ لَقِیْتُہٗ: کچھ ہی سخی آدمیوں سے ملا ہوں میں۔

حَاشَا، خَلَا، عَدَا یہ تینوں استثنا کے لیے ہیں۔ جیسے: جَائَ ا لْقَوْمُ حَاشَا / خَلَا / عَدَا زَیْدٍ : آئی قوم زید کے علاوہ۔


مِنْ: کے چار معنی ہیں۔ ابتدائے غایت، تبیین، تبعیض اور زائدہ۔
۱۔ ابتدائے غایت یعنی مسافت کی ابتدا بتانے کے لیے۔ جیسے: سِرْتُ مِنَ الْبَصْرَۃِ إِلَی الْکُوْفَۃِ (چلا میں بصرہ سے کوفہ تک)۔
۲۔ تبیین یعنی کسی مبہم چیز کی وضاحت کرنے کے لیے۔ جیسے: سَأُعْطِیْکَ مالاً مِنَ الدَّرَاہِمِ (میں ابھی آپ کو مال دوں گا دراہم میں سے)۔ اس میں مِنَ الدَّرَاہِمِ نے مال کی وضاحت کی ہے کہ وہ دراہم کے قبیل سے ہے۔
۳۔ تبعیض یعنی بعض حصہ ہونا بتانے کے لیے۔ جیسے: أَخَذْتُ مِنَ الدَّراہِمِ (میں نے کچھ دراہم لیے)۔
۴۔ زائدہ جیسے: مَا جَائَ نِيْ مِنْ أَحَدٍ (نہیں آیا میرے پاس کوئی) ۔

في ظرفیت کے لیے ہے، یعنی اس کے ما بعد کا اس کے ما قبل کے لیے زمانہ یا جگہ ہونا بتانے کے لیے ہے۔ جیسے: زَیْدٌ فِي الدَّارِ، صُمْتُ في رَمَضَانَ۔

عن دور ہونا اور آگے بڑھ جانا بتانے کے لیے ہے۔ جیسے: رَمَیْتُ السَّہْمَ عَنِ الْقَوْسِ (میں نے تیر کمان سے پھینکا) یعنی تیر کمان سے دور ہوا اور آگے بڑھ گیا۔


إلیٰ انتہائے غایت یعنی مسافت کی آخری حد بتانے کے لیے ہے۔ جیسے: سِرْتُ مِنَ البَصرۃِ إِلَی الْکُوْفۃِ۔

حتٰی انتہائے غایت کے لیے ہے۔ جیسے: سِرْتُ حَتَّی السُّوْقِ، نِمْتُ حَتَّی الصَّبَاح۔پر ل

علیٰ تین معنی کے لیے ہے: استعلاء، بمعنی ب اور بمعنی في۔
۱۔ استعلاء یعنی بلندی بتانے کے لیے، خواہ حقیقی ہویا مجازی۔ جیسے: زَیْدٌ عَلَی السَّطْحِ اور عَلَیْہِ دَیْنٌ (اس پر قرض ہے)۔
۲۔ بمعنی ب جیسے: مَرَرْتُ عَلَیْہِ أيْ بِہٖ (گزرا میں اس کے پاس سے)۔
۳۔ بمعنی في جیسے: {اِنْ کُنْتُمْ عَلیٰ سَفَرٍ} أي في سفرٍ (اگر ہو وتم سفر میں)۔

Leave a Reply