آج خوشی کا دن ہے

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(984)

*آج خوشی کا دن ہے ___!!!*

توحید کی امانت، سینوں میں ہے ہمارے

آساں نہیں مٹانا، نام و نشاں ہمارا

*مسجد آیا صوفیہ نے نمازیوں کو دیکھ لیا، اس کے ممبر و محراب صدائے الہی سے گونج اٹھے، در و دیوار سے تکبیریں بلند ہوگئیں، عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجوم ہو اٹھا، پروردگار عالم کی بے پایاں محبت و کرم کا فیضان جاری ہوگیا، سلطان محمد فاتح کے جانشین کشاں کشاں اس کے دامن میں جمع ہوگئے، قسطنطنیہ کہ فتح کا وہ تاریخی دن پھر سے یاد کیا گیا، جمعہ کی نماز پڑھی گئی، خطبہ دیا گیا، ترکی کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر علی ارباش نے بنفس نفیس خطبہ دیا، سلطان محمد فاتح کی تلوار اور فتح قسطنطنیہ کی علامت بھی ساتھ لائے، خود صدر ترکی جناب طیب أردوغان صاحب مدظلہ موجود تھے، واللہ__ اسے دیکھ کر دل جھوم اٹھا، امیدوں کا سیلاب بہہ پڑا، ایمانی جذبہ جو چنگاری بن کر دہک رہا تھا شعلہ بن بیٹھا، ایسا محسوس ہوا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، ظلم کا دور رکتا ہے، عدل پروری عام ہوتی ہے، انصاف کا بول بالا ہوتا ہے، اسلام ہی کا اقبال ہے، مستقبل مؤمن کے ہاتھوں میں ہے، آج دنیا کی تنگی دیکھ کر مسلمانوں کے ہوش اڑے پوئے ہیں، اپنی بے بضاعتی اور کم مائیگی کے سامنے وہ جھکے جاتے ہیں، ایک بھیڑ بن کر رہ گئے ہیں، عالمی ترقی و تہذیب کے جدید دھارے میں کہیں گم ہوئے جاتے ہیں، ان کا تشخص مٹتا جاتا ہے، مغرب کی بلندی اور دجالی طاقتوں کے سامنے پست حوصلہ ہوتے جاتے ہیں؛ لیکن وقت وقت پر اللہ تعالٰی ایسے مناظر دکھلاتا ہے جو اس کی طاقت و قوت اور اسلام کی ابدیت پر نشاندہی ہو، اہل ایمان کیلئے سکون طبع ہو، بے چینی و بے قراری میں ایمان کو جلادینے کا ہتھیار ہو، وہ یہ جتاتا رہتا ہے کہ اسلام ہی اس کے نزدیک دین ہے، سربلندی اسی کیلئے ہے، اگر گردش ایام میں سورج چھپ جائے اور روشنی ماند پڑنے لگے تو اسے معدوم نہیں سمجھنا چاہئے یا پھر اسے کمزور و ناتواں جان کر ہنسی ٹھٹھولا نہیں کرنا چاہئے.*

*آج واقعی خوشی کا دن ہے، جمعہ تو ویسے بھی عید ہے؛ مگر آج اس عید کی خوشیاں دو آتشہ ہوگئی ہیں، اسلام اور اسلام پسندوں کیلئے نئی لہر لے آئی ہے، اس نے نئی نسل کو بتایا ہے کہ تم گھبراؤ نہیں، خوف نہ کھاؤ، اسلام اور اس کے شعائر کی حفاظت ہوکر رہے گی، دنیا کتنا ہی زور لگا لے، شیطانی طاقتیں سرگرم ہوجائیں؛ لیکن اس کا دین مکمل ہوکر رہے گا، اس کی علویت برقرار رہے گی، آج تقریباً چھیاسی برس بعد آیا صوفیہ کی مسجدوں سے اذان کی آواز گونجی ہے، انشاء اللہ زمانہ کتنا ہی طویل ہوجائے، کتنی ہی صدیاں گزر جائیں، پھر سے دیگر مساجد میں بھی تکبیر ہوگی، جنہیں باطل نے مسمار کردیا ہے، اس پر ناجائز حق جما رکھا ہے، فاشزم طاقتیں ہوں یا پھر اسرائیلی جارحیت ہر ایک کے ہاتھوں سے اسلامی شعائر کی حفاظت ہوگی، اگر ہم نہ کرسکے تو ہماری نسلیں کریں گی، ہماری اولادیں اپنے فرائض سے غفلت کا شکار نہ ہوں گی، بالخصوص آج کا دن انہیں یاد دلاتا رہے گا کہ انہیں بھی یہی کارنامہ انجام دینا ہے، اسلام کیلئے اٹھ کھڑا ہونا ہے، باطل کے سامنے ڈٹ کر کبھی سیاست و حکمت تو کبھی دو بدو ہو کر مقابلہ کرنا ہے؛ مگر اپنی پہچان، اسلامی شعائر اور دینی اثاثے سے سمجھوتہ نہیں کرنا، زندگی دینے اور لینے کا حق صرف خدا کو ہے، اگر اسے ختم ہونا ہے تو کیوں نہ اسلام کے تحفظ، اس کی شان اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ کرتے ہوئے ہو، اسی جذبہ و شکر کے ساتھ شاعر مشرق علامہ اقبال کے یہ اشعار پڑھتے جائیں اور دل کی سرد انگیٹھی کو سلگاتے جائیں:*

نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ میں ہے

جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے

صنَم‌کدہ ہے جہاں اور مردِ حق ہے خلیل

یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لااِلٰہ میں ہے

وہی جہاں ہے تِرا جس کو تُو کرے پیدا

یہ سنگ و خِشت نہیں، جو تری نگاہ میں ہے

مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کا

وہ مُشتِ خاک ابھی آوارگانِ راہ میں ہے

خبر مِلی ہے خدایانِ بحر و بَر سے مجھے

فرنگ رہ گزرِ سیلِ بے پناہ میں ہے

تلاش اس کی فضاؤں میں کر نصیب اپنا

جہانِ تازہ مری آہِ صُبح گاہ میں ہے

مِرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ ناب

نہ مَدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے

✍ *محمد صابر حسین ندوی*

Mshusainnadwi@gmail.com

7987972043

24/07/2020

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔