???? *صدائے دل ندائے وقت*????(885)
*آپ کی پرائیویسی خطرہ میں ہے__!!*
*جس طرح جینے کا حق ایک بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے، اسی طرح ذاتیات، نجتا جسے انگریزی میں Right to privacy کہتے ہیں ،یہ بھی ایک بنیادی حق ہے، کسی سرکار یا انتظامیہ کو حق نہیں ہے کہ وہ عام حالت میں عوام کی نجی زندگی پر ہاتھ ڈالے، اگر کوئی مجرم ہو، یا شک کے دائرے میں ہو تو اس کے متعلق تحقیقات کرنا الگ بات ہے، وہ خود مختاری کی فہرست سے نکل جاتا ہے، اور قومی قانون کے ماتحت ہوجاتا ہے، مگر نجتا عمومی طور پر ایک ایسا حق ہے کہ اس میں دخل نہیں دیا جاسکتا، یہ ایک عالمی قانون ہے، جسے انسانی زندگی میں تصور کیا گیا ہے، بھارت میں سپریم کورٹ بھی اپنے ایک فیصلہ میں اس کی طرف اشارہ کر چکا ہے، بلکہ اس نے یہاں تک کہا ہے کہ دفعہ چودہ کے تحت نجتا بھی آتی ہے، لیکن آئے دن اس حق پر حملہ ہوتا ہے، چوطرفہ اسے زخمی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس قانون کو ہی مسخ کرنے یا بے معنی بنانے کی سازش کی جاتی ہے، اس کا سب سے بڑا حملہ آدھار کارڈ کا بنوانا تھا، جس کے تحت ہماری آنکھوں کی پتلیاں، چہرے کے نشان، بدن کی خاص علامت جیسے اہم ثبوت اکھٹا کرلئے گئے ہیں، اسی کی بنیاد پر جیو (JIO) نے اپنی SIM لوگوں کو مفت میں دے دی اور عوام کا سارا ڈاٹا جمع کر لیا گیا، چونکہ سرکار سے اس کمپنی کی قربت کا اندازہ سبھی کو ہے، اسی لئے جمع شدہ ڈاٹا سرکار کو بیچنے کی بھی خبر آئی، اور چناؤ کے کیمپین میں استعمال کرنے کی باتیں بھی گردش کرتی رہی ہیں، اگر عدالت عظمی نے روک نہ لگائی ہوتی تو آدھار کارڈ کو سرکار مستقل طور پر ہر میدان میں لازم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی.*
*اس کے بعد ایک اور خبر یہ بھی آئی تھی کہ سرکار کے ڈپارٹمنٹ آف ٹیلکوم نے یہ درخواست کی ہے کہ ٹیلیکام سیکٹر سرکار کو کچھ خاص صوبے کے لوگوں کی کال رکارڈ مہیا کروائے، ان میں دہلی، آندھرا پردیش، ہماچل پردیش، ہریانہ، دہلی، مدھیہ پردیش، جمو کشمیر، کیرل، اڑیشہ اور پنجاب شامل ہیں، انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ کال رکارڈ جنوری اور فروی/ ٢٠٢٠ کے مانگے جارہے ہیں، سکریٹری ڈپارٹمنٹ آف ٹیلکوم سے یہ بات کہی گئی تھی، ایسے میں یہ کہا گیا کہ اگر ایسے متعدد افراد اور صوبے کے لوگوں کی کال رکارڈ دی جائے گی، تو خطرہ ہوسکتا ہے، لوگوں کی جان پر بن سکتی ہے؛ بالخصوص دہلی جیسے صوبے میں جہاں ملک کے اعلی سیاست دان رہتے ہیں ان کی نجتا ختم ہو سکتی ہے، وہاں ساڑھے پانچ کروڑ سبسکرائبر ہیں، ایسے میں یہ کام آسان نہیں ہے، خاص بات یہ ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر نے ٢/ ٣/ ٤/فروری ٢٠٢٠ کی خصوصی طور پر کال رکارڈ مانگی ہے، یاد کیجیے یہ وہ ایام ہیں، جن میں دہلی کے اندر سی اے اے کے خلاف سخت مخالفت چل رہی تھی، عوام بری طرح سے بھڑکی ہوئی تھی، ہر جگہ بی جے پی کی تھو تھو ہورہی تھی، جامعہ ملیہ، جے این یو کے واقعات سے پورے ملک کے اندر بی جے پی کیلئے غصہ پایا جارہا تھا، اور یہی وہ تاریخ ہے جب دہلی کے اندر صوبائی انتخابات کی تیاری زوروں پر تھی، چناؤ کی تشہیر خوب ہورہی تھی، عام آدمی پارٹی پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی؛ جبکہ بی جے پی والے اپنے نالائق بیان بازوں کی بنا پر مورد الزام تھے.*
*سرکار بری طرح سے حالات کا شکار تھی ان کی ساری کیمپین پر پانی پھر گیا تھا، جب انہیں دو دنوں کے بعد دہلی انتخابات کے نتائج سامنے آئے تھے، جس میں بی جے پی کی بری طرح سے شکست سے دوچار ہوئی، ان کی ناک خاک آلود ہوئی اور وہ کچھ وقت کیلئے سناٹے میں چلے گئے تھے. اس کے علاوہ ایک اور خبر یہ بھی آئی تھی کہ سرکار ہم سب کا تین سو ساٹھ ڈگری ڈاٹا بیس تیار کررہی ہے، جس میں آدھار کارڈ کو بنیاد ٹھہرایا گیا ہے، اس کے اندر یہ ہوگا کہ سبھی لوگوں کی زندگی بھر کی ایکٹیوٹی سرکار کے پاس خود بخود اپلوڈ ہوجائے گی، اور وقت کے ساتھ تحلیل ہوتا جائے گا، چونکہ آدھار میں سب کچھ موجود ہے، اسی لئے اس بنا پر جو کوئی بھی کہیں جائے گا، گھر بدلے گا، شادی کرے گا، نوکری بدلے گا، کون زمین خرید رہا ہے، یا بیچ رہا ہے، اس کے گھر کوئی خوشی آئے یا غمی آئے ہر کیفیت اس کے ذریعے اپلوڈ ہوتی جائے گی، یعنی یہ ایک aouto apdate نظام ہوگا، جس سے کے اندر یہ track کر لیا جائے گا کہ کونسا شہری کب کیا کر رہا ہے__؟ غرض ہر طرح کا ڈاٹا محفوظ کیا جائے گا، اسے اپنے ہی ملک میں اور جمہوریت کے سایہ تلے حکومت کا ایک tool بنا دیا جائے گا.*
*ابھی تازہ ترین اندیشہ یہ ہے کہ کرونا وائرس کے علاماتِ اور علاقوں کی اپڈیٹ کیلئے سرکار نے Arogya setu app ڈاؤنلوڈ کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے اندر ایک شخص کی تمام نجی معلومات جمع ہوجاتی ہیں، یہ اگرچہ موجودہ حالات کے پیش نظر ہے، مگر آپ جانتے ہیں کہ این پی آر، سی اے اے کی تلوار سر پر ہے، اور ویسے بھی بھارت میں ڈاٹا کے تحفظ کو لیکر اب تک کوئی قانون نہیں ہے، اندازہ یہی ہے کہ یہ بھی عوام کی پرائیویٹ زندگی کو خطرے میں ڈال دے گی، تو وہیں یہ بھی پوشیدہ نہیں کہ اس کے علاوہ اکثر شہروں میں کیمرے تو رہتے ہیں، جن سے ہم پر چوبیسویں گھنٹے نگرانی رکھی جاتی ہے، اسے مزید ترقی دینے کی کوشش ہے، مگر عجیب بات ہے کہ یہ چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کو پکڑنے کے کام نہیں آتے، چناؤ کے وقت امت شاہ کو یہ بتانے کیلئے کہ کب وہاں کہاں گئے تھے، سی سی ٹی وے کیمرے کام آتے تھے؛ لیکن جب دہلی تین دنوں تک جلتی رہی تو ایک بھی کیمرہ کام نہ آیا____ بہرحال ان سب چیزوں پر غور کریں!! اشارہ صاف ہے کہ حکومت کی نیت صحیح نہیں ہے، یہ ہندوستانی عوام کو غلام بنانا چاہتی ہے، یہ بتانا چاہتی ہے کہ وہی سرکار ہے، وہی قانون ہے، وہی سب کچھ ہے، ان کے سامنے کسی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، یہ ہٹلر، مسولینی، لینن کی طرح ڈکٹیٹر بن کر راج کرنا چاہتی ہے، عوام کو اپنی انگلیوں پر نچانا چاہتی ہے، یہ انگریزوں کے بعد خود آقا بننا چاہتے ہیں، ضرورت ہے کہ عوام اس خطرہ کو محسوس کرے اور ضروری اقدام کرے، ورنہ سرکار کب غلام بنا لے کوئی بھروسہ نہیں. یاد رکھیں! آپ لاک ڈاؤن میں ہیں حکومت نہیں.*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
16/04/2020