احتجاج کو مزید موثر اور طاقتور بنائیں

*محمد قمرالزماں ندوی*

*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*جمہوری* ملکوں میں ظلم کے خلاف احتجاج و پروٹسٹ کرنا،ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا اور اپنے آئینی و جمہوری حقوق کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کرنا ،بہت ضروری ہوتا ہے۔ اپنے جمہوری اور قانونی حقوق کو حاصل کرنے کے لئے یقینا یہ ایک مؤثر طریقہ و ذریعہ ہے، احتجاج و پروٹسٹ کا حق جمہوری ممالک میں عوام کو قانونی طور پر حاصل ھوتا ہے، احتجاج سے اکثر مرتبہ خوشگوار اثرات مرتب اور عمدہ نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔اس لئے اس وقت ہمارے ملک میں جمہوریت کی بقاء کے لئے احتجاج کرنا اور اس کالے قانون کی مخالفت کرنا بہت ضروری اور اہم ہے، چونکہ سی اے اے اور این آر سی اور این آر پی کا موجودہ قانون ملک عزیز میں مسلمانوں کی بقا اور موت و زیست کا مسئلہ ہے ۔ اس لئے اس احتجاج کو زیادہ سے زیادہ موثر اور ہمہ جہت و ہمہ گیر بنانے کی ضرورت ہے، تمام طبقوں کو اور سارے برادران وطن کو ہم خیال بناکر اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے اس لئے کے یہ مسئلہ سب کا ہے ۔ یہ کتنا حساس،نازک اور پرخطر معاملہ ہے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے، کہ سابق صدر جمہوریہ *فخر الدین علی احمد* جو آسام کے رہنے والے تھے، اور اتنے اعلی عہدے اور مقام و منصب پر فائز رہے اور ملک کو آزادی دلانے میں ان کا نام اور ان کا کردار بہت نمایاں رہا ،ان کے خاندان اور بھائ بھتیجوں کا نام بھی این آر سی کی لسٹ میں نہیں ہے اور وہ غیر ملکی قرار دئیے جارہے ہیں ۔ وہاں کے کئی ریٹائرڈ مسلم فوجی افسران اور دیگر اعلی عہدیداران اور افسران کا نام بھی اس فہرست سے غائب ہے، ان کو اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے ناکوں چنے چبانا پڑ رہا ہے، ان میں ایک دو تو کیمپ میں بھی رہ چکے ہیں ، اور کئی رہ رہے ہیں ۔ *سعیدہ انورہ تیمور*، آسام کی سابق وزیر اعلی ہیں، اور آسام کی اب تک کہ اکیلی خاتون وزیر اعلی بھی ـ ۲۴ نومبر ۱۹۳۶ میں آسام میں ہی پیدا ہوئیں، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پڑھی سعیدہ ، جورہاٹ کے طالبات کالج میں پروفیسر رہی ـ کوئی پندرہ سترہ سال کی نوکری کے بعد ۱۹۷۲ء میں پہلی بار ودھایک (رکن اسمبلی) چنی گئیں، 1980-81 میں وزیر اعلی ہوئیں. وغیرہ وغیرہ. بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ بھی ۸۰ سال کی عمر میں NRC میں فیل ہوچکی ہیں. لہذا آپ اپنے گھر میں رکھے ہوئے کاغذ کے ٹکڑوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے میدان میں نکلئے. سی اے اے ، این آر سی کا ملک میں نفاز ہو چکا ہے ۔ بہت سی جگہوں پر اس کے فیور میں کرنے کے لئے طرح کے حربے اور مکر و فریب کئے جارہے ہیں، اور فراڈ بھی کئے جا رہے ہیں ۔ باوجود ملک گیر پھیلے ہوئے احتجاجی مظاہروں کے کل مورخہ 10/جنوری 2020 کو CAA کا گزیٹ نوٹیفکیشن بھی ہوگیا، یعنی اس کے نفاذ کا سرکاری اعلان کردیا گیا، ظاہر ہے کہ CAA+NRC میں اہلِ اقتدار کو اپنی دیرینہ خواہش اور آرزوؤں کی تکمیل نظر آرہی ہے، لہذا وہ اتنی جلدی قانون کو واپس کرنے کے لئے تیار نہیں ہونگے، دوسری طرف الحمد للہ مظاہرین کے حوصلے بلند ہیں، اور پورے ملک میں زوردار احتجاج کر رہے ہیں سرد موسم میں بھی جہاں کڑاکے کی سردی ہے جامعہ کے شاہین صفت نوجوانوں اور شاہین باغ کی عورتوں مردوں اور بچے اور بچیوں نے جو کارنامہ انجام دیا اور دے رہے ہیں وہ تاریخ کا ایک روشن باب بنے گا ۔، اب لوگوں کے دلوں سے مظاہروں میں شرکت کی جھجھک اور اس کا خوف نکل چکا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ جوق درجوق غیر مسلم اور یونیورسٹیوں کے طلبہ واساتذہ بھی شریک ہورہے ہیں، اب باضابطہ CAA کے نفاذ کے سرکاری اعلان کے بعد پر امن احتجاجی مظاہروں کو مزید مہمیز دینے، انہیں توانائی بخشنے اور مضبوطی دینے کی ضرورت ہے، اب ضرورت پہلے سے دوچند بڑھ گئی ہے کہ عوام اپنے گھروں سے تیزی سے نکلیں اور پر امن احتجاجوں کی بلند آواز سے حکومت کو جھکنے پر اور غیر منصفانہ قانون کو واپس لینے پر مجبور کردیں، ناامیدی اور مایوسی کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، چیلینجز یقیناً بہت بڑے ہیں، مگر عوام کے حوصلوں سے بڑھ کر نہیں۔ حکومت کا غرور ٹوٹ کر رہے گا،ان کا نشہ ضرور اترے گا، اور قانون واپس ہوکر رہے گا۔۔ ان شاء اللہ. اس لئے وقت ضائع کئے بغیر تیزی سے آگے بڑھیں اور خود کو اور اپنی نسلوں کو ناقابلِ تصور مظالم سے حفاظت کے لئے حتی المقدور کوشش کریں، اللہ تعالی کی بارگاہ میں الحاح وزاری کے ساتھ خوب دعائیں بھی کریں،نفلی روزوں کا اہتمام بھی کریں۔ *لکھنئو* سے شائع ہونے والے روز نامه راشٹر يه سهارا کے 10 جنوری کے شمارے میں فرنٹ پیج پر يه خبر چہپى هے کہ ؛آسام کے ضلع بيسوآناتھ کے چوٹيا اسمبلي حلقه مين ٦ دسمبر سے زبردستى كسى قانونى عمل كے بغير 426مسلم خاندانون كے 1800 افراد كو گھروں سے بے دخل کر دیا گیا ہے، افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان تمام خاندانون كے نام nrc ميں شامل ہيں , ان nrc. Caa. Npr جيسے قانون كے بعد جو کچھ ہو گا يا هو سكتا هے اس کى ايك جهلك اس خبر ميں ديكهى جا سكتى هے، موجودہ قانون کى مخالفت ميں جو مظاہرے اور پروٹسٹس ہوئے ہیں یا ہو رہے ہیں، ان میں شاید ہمارى جو تعداد، اور شركت هونى چاہیے وہ نہیں ہے، اتنے بڑے خطرات كا سامنا كرنے کے لیے جو کچھ کيا جا رہا هے ، وہ بالکل کافی نہیں ہے، اور ہمارے قائدين كا رويه بھی بہت زیادہ اچھا نہیں ہے، معلوم نہیں اب بھی وہ کن خیالات میں گم اور مگن ہیں ۔ ان حالات میں تو سارے مسلک اور جماعت کے لوگوں کو متحد ہوجاتا چاہیے ۔سارے اختلافات کو بھلا کر سیسہ پلائی دیوار بن جانا چاہئے ۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ آخر ہم کب ہوش کے ناخن لیں گے اور ہمارا شعور کب بیدار ہوگا ۔ اس لئے درخواست ہے کہ خدا را ایک ہو جائیے امت کی ڈوبتی کشتی کو بچائیے، ملت کی بقا کے لئے متحد ہوجائیے اور یہ ثابت کر دیجئے کہ

*باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم* *سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا*

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔