???? *صدائے دل ندائے وقت*????(873)
*افسوس کرونا وائرس پر شکریہ ادا کرنے والے__!!*
*جب قوموں کی عقل ماری جاتی ہے تو حقائق کو پس پشت ڈال کر بے تکے تخمینے لگانے لگتی ہیں، جب لوگ مسالک و مکاتب میں تقسیم ہوجاتے ہیں اور ان میں علمی چھاپ نہ ہو کر صرف عصبیت کی پرت جمی ہوتی ہے، تو وہ ہر چیز کو اپنے فائدے اور اسی چیز کو دوسروں کے نقصانات کے طور پر شمار کرتے ہیں، ہر معاملہ میں خود کی فوقیت اور دیگر کی فضیحت تلاش کرنے کی عادت لگ جاتی ہے، وقت کی سنجیدگی اور متانت سے انہیں کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے، زمانہ کی گمراہی و ضلالت اور ان کی تاریک ترین ذہنیت سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کی زبانیں بس قینچی کے مثل چل پڑتی ہیں اور لوگوں کے کلیجے کاٹتی ہوئی، درد و جگر کا خون کرتی ہوئی بڑی تیزی سے گزرجاتی ہیں، پھر وہ موت کا بھی تماشہ کرتے ہیں، انسانی زندگی کی بے بسی کا بھی مزاق بناتے ہیں، ذرا غور کیجئے __ جس امت کے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے قحط میں مدد کیلئے اناج بھجوایا ہو، جس نے ہمدردی و محبت کو دین کا جز کا قرار دیا ہو، جس نے منافق کی موت پر نماز جنازہ پڑھنے اور اس کیلئے مغفرت کی درخواست کی ہو، جس کے سامنے ایک کافر کا بے جا خون بھی زجر و توبیخ کا ذریعہ بن جاتی ہو، ذمی کافر کو قتل کرنے پر مسلمان کو قتل کرنے کا بھی حکم ہو، اس نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے بہت سے ناداں آج ایک مہلک بیماری کو رحمت قرار دیتے ہیں، خدا کی برتری اور خود کی مظلومیت ثابت کرنے کیلئے ایک وائرس کا سہارا لے رہے ہیں.*
*اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر چیز کا ایک مثبت پہلو ہوتا ہے، ہر شئی میں خیر ہے، خدا کے نزدیک نیک بندوں کی قدر ہے، ان پر ظلم کا حساب ہے، ان کیلئے قوانین الہی سخت ہیں، رب کی پکڑ بھی مضبوط ہے؛ لیکن کیا ظاہری اسباب کو الگ کیا جاسکتا ہے، عمومی اموات پر شکریہ ادا کیا کرنے کی اجازت ہے، کیا وہ انا للہ وانا الیہ راجعون اور سبحان اللہ، ماشاءاللہ کہنے کا فرق نہیں جانتے، ویسے بھی جب نقصان بڑا ہو تو کیا فائدے پر توجہ کی جاسکتی ہے، شراب کی حرمت کا اعلان کرتے ہوئے قرآن نے اسے نفع بخش کہا ہے، سود بھی انسانوں کیلئے بہت فائدہ مند ہے، تو کیا انہیں بھی جائز کہہ دیا جائے، خنزیر کی چربی کو مفید بتلایا جاتا ہے، رسرچ سے ثابت ہے کہ اس سے کھانے میں ذائقہ بڑھتا ہے، چنانچہ عالمی مارکیٹ میں اس کی بڑی ڈیمانڈ ہے، تو کیا اسے بھی روا رکھا جائے، کیا اس میں پوشیدہ مرض کی ہلاکت کو بھول جائیں، کرونا وائرس سے ممکن ہے کہ بہت سے فوائد منسلک ہوں، بے ایمانوں کیلئے درس ہو، معروف و منکر اور خیر و شر کے سمجھنے کیلئے معاون ہو، جغرافیائی اور فضائی اعتبار سے بھی ممکنہ فوائد گنوائے جا سکتے ہیں، لیکن کیا اسکی ہولناکیوں کے سامنے یہ فوائد بڑے ہیں، کیا ہمیں حق ہے کہ انسانوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اس کے مرنے کے فوائد شمار کروائیں، آج کرونا کی وجہ باسٹھ ہزار سے زائد لوگ مارے جا کے ہیں، دس لاکھ سے زیادہ متاثر ہیں، دو سو سے زائد ممالک اس مرض سے کراہ رہے ہیں، اب تک کوئی علاج نہیں، کوئی اس کا حل نہیں، دنیا حیران و پریشان ہے، اس کی بنا پر پوری دنیا تھپ پڑ چکی ہے، ایک دہشت ہے، خوف ہے، انسانوں نے جینے تمنا چھوڑ دی ہے، گھروں میں قید ہیں، جس کی وجہ سے ذہنی امراض کے شکار لوگ سنگین ترین پوزیشن اختیار کر چکے ہیں، عالمی معیشت ڈوبنے کو ہے، دنیا ایک نئی کروٹ لے رہی ہے.*
*انسان انسان کو دیکھنے کیلئے ترس رہا ہے، ترقی یافتہ ممالک بچھڑ رہے ہیں، کچھ اندازہ بھی ہے کہ دنیا اس وائرس کی وجہ سے کس قدر نقصان میں جارہی ہے، تمام سہولیات اور تمام انسانی جانیں کس خطرے میں ہیں، عالمی صحت کی رپورٹس ڈراتی ہیں، کہا جارہا ہے کہ اس سے دو کروڑ لوگ مارے جا سکتے ہیں، اور دنیا سالہا سال پیچھے جا سکتی ہے، مگر افسوس خاص ذہنیت کے لوگ اسے عذاب قرار دے کر خوش ہورہے ہیں، یا پھر اسے ایک خدا کی رحمت قرار دیتے ہیں، ممکن ہے کہ یہ ایک آزمائش ہو، انسانوں کو چیک کیا جارہا ہو؛ کہ وہ سب آپس میں کس قدر محبت کرتے ہیں، ان میں ہمدردی و رواداری کا جز کتنا باقی ہے، وہ اپنے رب کے سامنے جھکنے والے ہیں یا نہیں، انہیں اس بات کا بھی سگنل دیا جارہا ہو کہ دنیا میں صرف ایک طاقت ہے، ہتھیار کا گھمنڈ کچھ نہیں ہے، سیاست کی برتری اور ظاہری ترقی کی سیڑھیاں سب ہیچ ہیں، اب تک الحمداللہ یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ انسانیت جاگ رہی ہے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام رہی ہے، ان میں مرنے والوں کیلئے ہمدردی پیدا ہورہی ہے، وہ اختلافات اور سرحدوں سے اٹھ کر ایک باپ اور ایک ماں کی اولاد ہونے کا حق ادا کر رہی ہے، اس وائرس سے رب کی مرضی اور انسان کی مرضی کا فرق ظاہر ہوگیا ہے؛ سب کچھ ہے لیکن چند دماغوں کی تشویشناک اپج دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، وہ بیماری کو بھی ایک رحمت سمجھ رہے ہیں، اور اپنے مسلک کی تائید میں لئے پھر رہے ہیں، یہ وقت عبرت پکڑنے کا ہے، خدا پرستی اور انسانی ہمدردی پیدا کرنے کا ہے، دنیا کے سامنے یہ بتانے کا ہے کہ انسان کتنا کمزور ہے، اور اس کا مالک کتنا طاقتور ہے.*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
04/04/2020