انسان اور وقت کا ساتھ بہت پُرانا ہے، یہ زندگی بھی عجیب چیز ہے جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو بڑے ہونے کی لئے مرتے ہیں کہ کب میں بڑا ہو جاؤں اور دنیا کی عیش و عشرت کو حاصل کرلوں، اور جب شباب کو پہنچتے ہیں تو بچپن کو یاد کرکے خوب روتے ہیں اور یہ تمنا کرتے ہیں کہ کاش میرا بچپنہ واپس آ جاتا اور دنیا کی ان الجھنوں سے دور ہوجاتا، وہ بچپن میں دنیا سے بے فکر ہو کر کھیلنا کودنا، نہ بیوی بچے کی فکر اور نہ ذریعہ معاش کی کوئی فکر ، اور جب بڑھاپے کو پہنچتے ہیں تو یہ تمنا ہوتی ہے کہ کاش میں پھر سے جوان ہوجاتا ، اور یہ روز روز بیماری سے الجھنا نہ پڑتا، حالانکہ یہ بات ہر آدمی کو معلوم ہے کہ گزرا ہوا وقت کبھی دوبارہ ہاتھ نہیں آتا ، فارسی کا ایک مشہور مقولہ ہے "وقت ازدست رفتہ و تیر از کمان جستہ بازنیایند" یعنی ہاتھ سے گیا وقت اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتا ۔۔۔!!
تاریخ شاہد ہے کہ کامیابی وکامرانی ہمیشہ انہیں لوگوں کو حاصل ہوئی ہے جو وقت شناس اور اس کے قدردان ہوتے ہیں، اور جو دنیا کی لہو و لعب میں مبتلا ہو کر وقت کی ناقدری کرتے ہیں اور محض بیٹھے بیٹھے خیالی پلاؤ پکاتے ہیں انہیں ناکامی کے علاوہ کبھی کچھ حاصل نہیں ہوا، حتیٰ کہ کبھی زندگی انہیں اس موڑ تک پہنچا دیتی ہے کہ وہ خودکشی تک کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔۔۔!!
(بخاری شریف، کتاب الرقاق، باب لاعیش الا عیش الآخرۃ) میں ایک حدیث ہے: حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو نعمتوں کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں: (١) صحت (٢) فراغت ۔۔۔!!
آپ اکابرین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ بات عیاں ہوگی کہ انہوں نے اپنے وقت کی حقیقی معنی میں قدر کی ، تبھی تو صدیاں گزرنے کے باوجود وہ تاریخ کے اوراق میں زندہ ہیں ۔۔۔!!
اگر آج ہم اپنی زندگی کو خیرات و حسنات کے بیج بونے میں صرف کریں گے تو کل یوم قیامت ہمیں فلاح و نجات کا ثمرہ ملے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِO (الحاقة، 69 : 24)
کہ خوب لطف اندوزی کے ساتھ کھاؤ اور پیو، اُن اَعمال کے بدلے جو تم گزشتہ زندگی کے ایام میں آگے بھیج چکے تھے۔۔۔!!
اور اگر ہم نے زندگی غفلت میں گزاردی، نہ قران سے ہمارا واسطہ رہا اور نہ صوم و صلوٰۃ سے، تو پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کل قیامت دن فرمائیں گے کہ
أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم مَّا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَن تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِن نَّصِيرٍO (فاطر، 35 : 37)
کہ کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا، وہ سوچ سکتا تھا اور (پھر) تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آچکا تھا، پس اب (عذاب کا) مزہ چکھو سو ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہ ہوگا ۔۔۔!!
ایک ایسا بھی دور تھا کہ لوگ وقت کو سونے چاندی سے بھی زیادہ قیمتی سمجھتے تھے چنانچہ امام حسن بصریؒ قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے احوال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
"أدرکت أقواماً کان أحدهم أشح علي عمره منه علي دراهمه ودنانيره" (ابن مبارک، الزهد، 1 : 4، رقم : 8)
کہ میں نے ایسے لوگوں کا زمانہ پایا ہے جن میں سے ہر ایک درہم و دینار کے مقابلے میں اپنی طاعت و عبادت کی مجاہدانہ زندگی کو زیادہ ترجیح دیتا تھا۔۔۔!!
اگر آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وقت کی ناقدری ایک عام چیز ہوگئی ہے لوگ وقت ضائع کرنے کو بالکل قبیح عمل نہیں سمجھتے، ایسے غافل لوگوں کے متعلق ابن ابی شیبہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ایک قول مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ کہ مجھے اس فارغ شخص سے نفرت ہے جسے کسی دنیاوی اور اخروی عمل کی پرواہ نہیں ہے!
ابھی لاک ڈاؤن کا موسم چل رہا ہے، لوگ بے پرواہ ہوکر گھر میں بیٹھے ہیں، صوم و صلوٰۃ کو ترک کرکے لہو و لعب میں مبتلا ہیں، حالانکہ یہ ایک بہترین وقت تھا قرآن وحدیث کو سیکھنے کا ، چونکہ ابھی دنیاوی مشغلہ سے درکنار ہیں ، پورا وقت گھر میں گزر رہا ہے، لہذٰا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ رضاء الٰہی کے لئے تن من دھن کی بازی لگا کر قرآن وحدیث کو پڑھیں اور رضاء الٰہی تلاش کریں ۔۔!!
اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائے ????
آمین ثم آمین یارب العالمین ۔۔۔!!