اندرون ملک میں بین الاقوامی سرحدیں

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(1177)
*اندرون ملک میں بین الاقوامی سرحدیں -*
https://t.me/joinchat/T78wo9HSWkM5dOhs

*اس وقت کسان آندولن کو روکنے، انہیں ناکام بنانے اور عوام کے درمیان اس کے متعلق افواہ پھیلا کر غیر معتبر قرار دینے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے، مذہبی، سماجی، علاقائی اور دہشت گردی کے مختلف زاویے سرمنڈنے کے بعد پولس اور فوجی کارروائیاں زوروں پر ہیں، ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے جیسے کہ وہ اس ملک کے باشندے نہ ہوں، صاف طور 6لگتا ہے کہ حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں، اور وہ بوکھلاہٹ میں جو نہ بَن سکے وہ بھی کرگزرنے کو تیار ہیں، ذرا سوچیں! ایک فاشسٹ سرکار یا کہیں ڈکٹیٹر حاکم اپنی رعایا کا گلا کن کن ذرائع سے کاٹتا ہے، اور ان کی آواز کو کن مختلف اسباب سے دبانے کی کوشش کرتا ہے، وہ کیا ہتھکنڈے ہیں جن سے خود سروں کو قابو میں کرنے کوشش ہوتی ہے، یہاں پر ان سب کا نظارہ علی الإعلان دیکھا جاسکتا ہے، ٢٦/ جنوری ٢٠٢١ کے واقعہ پر بندوق رکھ کر پہلے کسانوں کو مشتعل مظاہرین کہہ کر انہیں دانے پانے سے محروم کیا جارہا ہے، لاکھوں لوگوں بے موت مارنے اور انہیں اپنی آواز بلند کرنے کی سزا دی جارہی ہے، انہیں ملک کیلئے خطرناک بتاکر ان کی حیثیت ملیامیٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، پھر ان کی آواز بننے والے آزاد صحافیوں کو دن کے اجالے میں بے جا الزامات لگا کر گرفتار کرنے کی مہم چھیڑی گئی ہے، متعدد صحافیوں کو اب تک سلاخوں کے پیچھے ڈالا جا چکا ہے، ان کی آواز کو کچلا جا رہا ہے، ایک معمولی پوسٹ پر بھی کھلبلی مچائی جارہی ہے، حالانکہ اس کے خلاف صحافی دنیا میں ہلچل دیکھی گئی، مودی حکومت اور بی جے پی کے ساتھ ساتھ خود مودی کو تاناشہ کہہ کر نعرہ بازی کی گئی، نتیجتاً صحافیوں میں سے بعضوں کو ضمانت دی گئی ہے، اور معاملہ سرد بستے میں ڈالنے کی سعی لاحاصل کی جارہی ہے، اس سے بھی چین نہ ملا تو اب کسان آندولن کو کریک ڈاؤن کے ذریعہ قبضے میں کرنے کی جہد مسلسل ہورہی ہے، عجیب بات ہے کہ کسانوں کو دہلی کے اندر داخل نہ ہونے دینے کیلئے شاہ راہ (ہائی وے) پر دس فٹ سے زائد کھدائی کردی گئی، اور اب غازی پور بارڈر کے ساتھ ان کے دھرنا استھل کو کانکریٹ، سلاخوں کی قطار والی سڑکیں بھی بنائی جارہی ہیں؛ بلکہ بعض علاقوں میں جس طرح پاکستان بارڈر پر جالیوں کے ذریعہ گھیراؤ کیا گیا ہے، کاٹنے دار جل اور سلاخوں کا سہارا لیکر مضبوط حد بندی کی گئی ہے، ٹھیک اسی طرح اپنے ہی ملک کے اندر حد بندی کی جارہی ہے، تاکہ کسانوں تک نہ کوئی آسکے نہ کوئی جاسکے، رپورٹس بتلاتی ہیں کہ ان کیلئے پانی، بجلی وغیرہ کی سپلائی بھی بند کردی گئی ہے، انٹرنیٹ کی سہولت تو کئی دن سے تھپ ہے، بنیادی ضروریات کو پہلے سے ہی روک لیا جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ سرکار اب یہ طے کر چکی ہے کہ ان لوگوں کو گِن اور گھیر کر قابو میں کرے گی، ان کے نیتا راکیش ڈکیت لگاتار ذرائع ابلاغ کے ذریعے نمائندگی کر رہے ہیں اور بتارہے ہیں کہ سرکار ان کے ساتھ کس طرح ناانصافی کر رہی ہے.*
*اس واقعہ پر بہت سے صحافیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹنگ کی ہے اور اسے دیش کی بدنصیبی قرار دیا ہے، سینئر صحافی ونود دوا نے بھی HW news کے ذریعہ آواز اٹھائی ہے، ایک اور سینئر صحافی ایم ودود ساجد صاحب (دہلی) نے - غازی پور میں "بین الاقوامی" سرحد - کے عنوان سے ایک مختصر تحریر فیس بُک دیوار پر لگائی کہ : "نیوز 24 کے رپورٹر پربھاکر مشرا نے ایک رپورٹ دکھائی ہے۔۔ ۔۔ پربھاکر مشرا نے بتایا ہے کہ غازی پور کی احتجاج گاہ کے پاس دہلی سے غازی آباد جانے کا راستہ بڑے بڑے گول اور خاردار تاروں کی باڑھ لگاکر بند کردیا گیا ہے۔۔۔ یہی نہیں سڑک پر لوہے کی بڑی بڑی اور موٹی موٹی کیلیں ٹھوک دی گئی ہیں ۔۔۔ چھوٹی موٹی راہداری' پگڈنڈی یا گلی نما راستہ بھی بند کردیا گیا ہے۔۔ پربھاکر نے اس علاقے کو International Border قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو اگر میری بات پر شبہ یا اعتراض ہو تو وہ یہاں آکر خود دیکھ سکتا ہے۔۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ جب مجھ جیسے لوگوں کو' جنہوں نے صحافی ہونے کا بھرم پال رکھا ہے' رپورٹنگ کیلئے اُس پار نہیں جانے دیا جارہا ہے تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔۔۔ اُدھر کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے بھی کہا ہے کہ پولیس جان بوجھ کر عام لوگوں کا راستہ روک رہی ہے تاکہ ہماری تحریک بدنام ہوجائے اور لوگ ہم سے متنفر ہوجائیں ۔۔۔ کہتے ہیں کہ ملک میں 75 کروڑ لوگ براہ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہیں ۔۔۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے ملک بھر میں اور خاص طور پر یوپی میں بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔۔ آج بی جے پی کی حکومت ہی اس طبقہ کی راہ میں کانٹے بچھا رہی ہے۔۔۔ اب یوپی میں اور خاص طور پر مغربی یوپی میں بڑی بڑی کھاپ پنچایتیں ہورہی ہیں جن میں بلند آواز سے بی جے پی کے خلاف نعرے لگ رہے ہیں ۔۔۔ سچ ہے الله کا نظام بڑا پرفیکٹ اور پُر اسرار ہے۔۔۔" اب دیکھنا یہ ہے کہ بین الاقوامی سرحدیں کتنا کام آتی ہیں، حکومت کی ہیکڑی کب تک قائم رہتی ہے، افسوس انہیں لگتا ہے کہ کھیتوں کو اپنے خون پسینے سے سبز کردینے والا اور بھری دوپ و بارش اور جھلسادینے والی گرمی میں کام کرنے والا کسان ان کے بَس میں آجائے گا تو وہ بڑی بھول کر رہے ہیں اور نہ صرف سرکار کو بلکہ ملک کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، اگر وقت رہتے حکمت عملی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ دونوں گروہ آمنے سامنے سے آر پار نہ ہوجائیں.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
02/02/2021

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔