????سوال وجواب????
????مسئلہ نمبر 1199????
(کتاب الطھارۃ، باب الوضو)
سوال: اگر کسی کی آنکھ کا آپریشن ہوا ہو اور ڈاکٹر نے پانی کے استعمال سے منع کردیا ہو تاکہ آنکھ میں جاکر نقصان نہ کرے تو ایسا شخص وضو کرے گا یا تیمم؟ (بندۂ خدا ممبئی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
شریعت اسلامی کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ اس کے احکام یسر و سہولت پر مبنی ہیں، اور انسان کی حالت و طاقت کی خوب رعایت کی گئی ہے؛ چنانچہ ایسا شخص جسے ڈاکٹر نے پانی کے استعمال سے روک دیا ہو وہ وضو تو کرے گا اور اپنے ہاتھ پاؤں کو دھوئے گا نیز سر کا مسح بھی کرے اور چہرے کے جس حصے کو دھونا ممکن ہو اس کو دھو لے گا اور اگر نقصان کا قوی اندیشہ ہو تو اس کو بھی نہیں دھوئے گا صرف تر ہاتھوں سے ہلکے سے مسح کرلینا کافی ھوگا اور آنکھ کے اوپری حصے پر بھی ہاتھ پھیرنا ضروری ہوگا۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
????والدليل على ما قلنا ????
(١) تیمم لو کان أکثرہ أی أکثر أعضاء الوضوء عددا وفی الغسل مساحة مجروحا أو بہ جدری اعتبارا للأکثر وبعکسہ یغسل الصحیح ویمسح الجریح․ وقال العلامة الشامي تحتہ: إذا کان یمکن غسل الصحیح بدون إصابة الجریح وإلا تیمم، فلو کانت الجراحة بظہرہ مثلاً، وإذا صبّ الماء سال علیہا یکون ما فوقہا في حکمہا فیضم إلیہا کما بحثہ الشرنبلالي في الإمداد (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/ ۴۳۰، ط: زکریا)
كتبه العبد محمد زبير الندوى
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 10/11/1441
رابطہ 9029189288
دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔