ایک مسجد میں پیسے دینے کی نذر مان کر دوسری مسجد میں دینا

اگر کسی شخص نے یہ منت مانی کہ اگر میرا کام ہوگیا تو میں اللہ کے لیے فلاں مسجد میں رقم دوں گاپھر کام پورا ہونے کے بعد وہ رقم جس مسجد کے لئے کہا تھا اس میں نہ دے کر کے دوسری مسجد میں دیتا ہے تب بھی اس کی منت پوری ہوجائے گی اسی طرح بجائے اس کے کہ وہ مسجدمیں دے اگر کسی غریب کو دے دیتا ہے تب بھی اس کی منت پوری ہوجائے گی۔ ۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی قاسمیہ ج١٧ص٨٦ احسن الفتاوی جلد نمبر 5 صفحہ نمبر 487 فتاوی محمودیہ جلد نمبر 14 نمبر 18۔ 19فتاوی شامی جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 424 ۔۔???????????????????????? *اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے* ناقل✍ہدایت اللہ۔خیرون۔گریڈیہ۔جھارکھنڈ. خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار HIDAYATULLAH KHERON BAGODIH SURIYA GIRIDIH JHARKHAND INDIA PIN NO 825320 TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA

نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں

CONTACT NO 6206649711 ????????????????????????????????????????????????

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔