اگر کسی شخص نے ایک ہی بات پر کئی بار قسم کھائی مثلاً اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہا کہ فلاں کام ضرورکروں گا اور کئی بار کہا پھر اگر وہ قسم پوری نہیں کر پاتا ہے تو ان سب کی طرف سے ایک ہی کفار کافی ہوگا کیونکہ ایک ہی بات پر کئی بار قسم کھائی گئی ہےنہ کہ الگ الگ بات پر۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی بنوریہ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 714):"وفي البحر عن الخلاصة والتجريد: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء؛ ولو قال: عنيت بالثاني الأول ففي حلفه بالله لايقبل، وبحجة أو عمرة يقبل۔ ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار HIDAYATULLAH TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں CONTACT NO 6206649711 ????????????????????????????????????????????????
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔