امام جامع النقر، رجال المع، ابہا، سعودی عرب
مذہب اسلام نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو اخوت و محبت کا درس دیا ہے، اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے منع کیا ہے اور انسانوں کو گناہوں سے دور رہنے کی تاکید کی ہے، کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ جوانسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، تہمت و الزام تراشی ہے، اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر تہمت لگاتا ہے تو وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ خود اپنے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور اپنی ذات کو گناہوں سے آلودہ کرلیتا ہے، ایسا ہی ایک گناہ پاک باز بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ہے، قرآن و حدیث میں تہمت لگانے والوں کے لئے بڑی ہی سخت وعدوں اور عذاب کا ذکر ہے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے، "اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں پر بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی کوڑے مارو اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور یہی بد کردار(فاسق) ہیں"(النور:4)۔
یعنی جو لوگ کسی عورت پر یا کسی مرد پر زناکاری کی تہمت لگائیں اور ثبوت نہ دے سکیں تو انہیں اسی کوڑے لگائے جائیں گے، ہاں اگر شہادت پیش کردیں تو حد سے بچ جائیں گے اور جن پر جرم ثابت ہوا ہے ان پر حد جاری کی جائے گی، اگر شہادت نہ پیش کرسکے تو اسی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ کیلئے ہمیشہ ان کی شہادت غیر مقبول رہے گی اور وہ عادل نہیں بلکہ فاسق سمجھے جائیں گے، اس آیت میں جن لوگوں کو مخصوص اور مستثنیٰ کردیا ہے، تو بعض تو کہتے ہیں کہ یہ استثنا صرف فاسق ہونے سے ہے یعنی بعد از توبہ وہ فاسق نہیں رہیں گے۔ بعض کہتے ہیں نہ فاسق رہیں گے نہ مردود الشہادۃ(گواہی کے لئے نااہل) بلکہ پھر ان کی شہادت بھی لی جائے گی، ہاں حد جو ہے وہ توبہ سے کسی طرح ہٹ نہیں سکتی۔ امام مالک، احمد اور شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب تو یہ ہے کہ توبہ سے شہادت کا مردود ہونا اور فسق ہٹ جائے گا۔ سید التابعین حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ اور سلف کی ایک جماعت کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں صرف فسق دور ہو جائے گا لیکن شہادت قبول نہیں ہوسکتی، بعض اور لوگ بھی یہی کہتے ہیں، شعبی اور ضحاک کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس بات کا اقرار کرلیا کہ اسے بہتان باندھا تھا اور پھر توبہ بھی پوری کی تو اس کی شہادت اس کے بعد مقبول ہے، واللہ اعلم۔
تہمت لگانے کا گناہ بدکاری( زنا)سے کچھ کم نہیں بلکہ اس کے قریب درجہ کا ہے، شریعت میں بدکاری کرنے والے کی سزا سو کوڑے رکھی گئی ہے تو بدکاری کی تہمت لگانے والےکے لیے ( اگر وہ اس پرچار گواہ پیش نہ کر سکے) سزا اسی کوڑے مقرر کی گئی ہے، دوسری جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے، جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے(النور:23)، بعض مفسرین نے اس آیت کو حضرت عائشہ (رضی الله عنها) اور دیگر ازواج مطہرات (رضي الله عنهن) کے ساتھ خاص قرار دیا ہے کہ اس آیت میں بطور خاص ان پر تہمت لگانے کی سزا بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کے لئے توبہ نہیں ہے، اور بعض مفسرین نے اسے عام ہی رکھا ہے اور اس میں وہی حد قذف بیان کی گئی ہے جو پہلے گزرچکی ہے، اگر تہمت لگانے والا مسلمان ہے تو لعنت کا مطلب ہوگا کہ وہ قابل حد ہے اور مسلمانوں کے لئے نفرت اور بعد(دوری) کا مستحق اور اگر کافر ہے، تو مفہوم واضح ہی ہے کہ وہ دنیا وآخرت میں ملعون یعنی رحمت الٰہی سے محروم ہے، ایک اور جگہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں(الاحزاب:58)، یعنی ان کو بدنام کرنے کے لئے ان پر بہتان باندھنا، ان کی ناجائز تنقیص و توہین کرنا، جیسے روافض صحابہ کرام (رضي الله عنهم) پر سب وشتم کرتے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا، امام ابن کثیر فرماتے ہیں رافضی منکوس القلوب ہیں، ممدوح اشخاص کی مذمت کرتے اور مذموم لوگوں کی مدح کرتے ہیں۔
احادیث میں بھی کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانے کو شرعاً انتہائی سخت گناہ اور حرام قرار دیاگیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، "جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی الزام لگایا ، تہمت ، یا جھوٹی بات منسوب کی جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں ، تو اللہ اسے الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے ، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے دنیا میں باز آ جائے رک جائے ، توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے"(مسنداحمد)، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے(کنز العمال)، ایک حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: مسلمان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو(مشکاة)، ایک اور حدیث میں ہے: جو شخص کسی دوسرے کو فسق کا طعنہ دے یا کافر کہے اور وہ کافر نہ ہو تو اس کا فسق اور کفر کہنے والے پر لوٹتا ہے(مشكاة).
تہمت معاشرے کی سلامتی کوجہاں بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہے وہیں اجتماعی عدل و انصاف کو ختم کردیتی ہے ، حق کو باطل اور باطل کو حق بناکر پیش کرتی ہے ، تہمت انسان کو بغیر کسی جرم کے مجرم بناکر اس کی عزت و آبرو کو خاک میں ملادیتی ہے، اگر معاشرے میں تہمت کا رواج عام ہوجائے اور لوگ اس پر یقین کرلیں تو حق و باطل کی تمیز مشکل ہو جائے گی، وہ معاشرہ جس میں تہمت کا رواج عام ہوگا اس میں حسن ظن کو سوء ظن کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اورلوگوں کا ایک دوسرے سے اعتماد و بھروسہ اٹھ جائے گااور معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا یعنی پھر ہر شخص کے اندر یہ جرات پیدا ہوجائے گی کہ وہ جس کے خلاف ، جو بھی چاہے گازبان پر لائے گااوراس پر جھوٹ ، بہتان اور الزام لگا دے گا،
جس معاشرے میں تہمت و بہتان کا بہت زیادہ رواج ہوگا اس میں دوستی و محبت کے بجائے کینہ و عداوت زیادہ پائی جائے گی اور عوام میں اتحاد اور میل و محبت کم اور لوگ ایک دوسرے سے الگ زندگی بسر کریں گے، کیونکہ ان کے پاس ہر طرح کی دولت ہونے کےباوجود محبت جیسی نعمت سے محروم ہوں گے اور ہر انسان اس خوف و ہراس میں مبتلا ہوگا کہ اچانک اس پر بھی کوئی الزام عائد نہ ہوجائے، معلوم ہوا کہ مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے اور جس پر تہمت لگائی ہے اس سے معافی مانگنی چاہیے؛ تاکہ آخرت میں گرفت نہ ہو، اللہ تعالی اس لعنت سے ہم سب کی حفاظت فرمائے، اور حدیث میں بیان کردہ تمام مہلک گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین ۔