جمو کشمیر کی حالت اب بھی دگر گوں ہے

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(1194)
*جمو کشمیر کی حالت اب بھی دگر گوں ہے*
https://t.me/joinchat/T78wo9HSWkM5dOhs

*اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب بھی درد و آہ، مظلومیت اور بے کسی کی بات ہوگی تو جمو کشمیر کا وجود نگاہوں کے سامنے گردش کرنے لگے گا، شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے سینے میں دل ہو اور وہ انسانیت، محبت اور انسیت کو لازمی سمجھتا ہو اور وہ جمو کشمیر کے ساتھ انسانیت سوز کارروائیوں کی گواہی نہ دے، بالخصوص موجودہ سرکار اور دفعہ ٣٧٠/ ہٹائے جانے کے بعد؛ نیز کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی بے رحمی نے ان کی بے چینی میں سہ گُنا اضافہ کردیا، اب بھی وہاں حالات معمول پر نہیں ہے، اسے مستقل صوبے کی حیثیت نہیں دی گئی؛ بلکہ سیاست کی نوک پر چھوڑ دیا گیا، عجیب بات ہے کہ ملک عزیز کے باشندے وہاں عمومی طور پر نہیں جارہے ہیں اور ناہی سیاست دانوں کو وہاں جاکر احوال جاننے کی اجازت ہے؛ لیکن کچھ دنوں قبل دوسری مرتبہ یورپی یونین کے پارلیمانی ارکان کا ایک ڈیلیگیشن وہاں بھیجا گیا تھا، ویسے اب انٹرنیٹ 4G کی سہولت بھی شروع کردی گئی ہے، مگر عمومی حالت جَس کی تَس ہے، ١٤/ فروری ٢٠٢١ کو معروف ویبسائٹ The quint نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے، وہ رپورٹ کیا انسان کا انسان پر ظلم کی شہادت اور جنت نظیر کو جہنم نظیر بنانے کی جیتی جاگتی تصویر ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل ٣٧٠/ کی منسوخی کے بعد سے ریاست میں انسانی حقوق کی بہ تدریج خلاف ورزی ہوتی رہی ہے۔ فورم برائے انسانی حقوق نے یہ رپورٹ جاری کی ہے۔ اس فورم میں تعلیم اور انسانی حقوق سے متعلق بہت سے بڑے نام شامل ہیں۔ ان میں جسٹس مدن لوکور، رادھا کمار، نروپما راؤ، سنتھا سنہا، ایئر وائس مارشل کپل کاک اور رامچندر گوہ قابل ذکر ہیں۔ یہ کوئی پہلی رپورٹ نہیں بلکہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل ٣٧٠/ کو ختم کرنے کے بعد وادی میں انسانی حقوق سے متعلق اس فورم کی یہ دوسری رپورٹ ہے۔ اس رپورٹ میں شہری حفاظت، خواتین اور بچوں کی حفاظت، صحت کی سہولیات کی فراہمی، صنعت اور روزگار نیز کوڈ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے اثرات جیسے امور شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں اگست ٢٠٢٠ سے جنوری ٢٠٢١ کے حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کی چند جھلکیاں یہ ہیں:*
*١- ریاست میں سول سیکیورٹی کی صورتحال تشویشناک ہے، اسی طرح لاک ڈاؤن کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ گذشتہ سال سے آئی ای ڈی دھماکے، دستی بم حملے اور سرحد پار سے فائرنگ کی وجہ سے متعدد شہری اور سیکیورٹی فورسز ہلاک ہوگئے ہیں۔*
*٢- جموں و کشمیر میں سیاستدانوں اور کارکنوں کی گرفتاری اور نظربندی کا عمل جاری ہے۔ سرحد پار سے فائرنگ اور دہشت گردانہ حملوں میں عام شہری ہلاک ہوگئے ہیں اور متعدد مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔ ریاست میں جموں وکشمیر کے محکمہ داخلہ کی طرف سے انٹرنیٹ پر کئی پابندیاں جاری کی گئی ہیں۔*
*٣- کورونا کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن نے ریاست کی معیشت پر برا اثر ڈالا ہے۔ حکومت جموں وکشمیر نے تمام نجی اسکولوں کو داخلہ فیس وصول نہ کرنے کا حکم دیا تھا؛ لیکن بہت سے اسکولوں نے حکومت کے اس حکم کی تعمیل نہیں کی۔ فیس مقرر کرنے والی کمیٹی کی منظوری کے بعد ٹیوشن فیس، سالانہ اور ٹرانسپورٹ کی فیسیں بازیافت کی گئیں جو کورونا کے وقت والدین کے لئے کافی مشکلات کا باعث بنیں.
*٤- کرونا، انٹرنیٹ پابندی اور بجلی کے مسئلے کی وجہ سے طلباء کو سردیوں کے موسم میں مستقل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔*
*٥- اسی کے ساتھ ہی ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس سلسلے میں فورم برائے انسانی حقوق نے کشمیر میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم محرم خواتین سیل سے پوچھ گچھ کی۔ اس این جی او کے مطابق: وادی میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں پچھلے کچھ مہینوں میں فوج اور سرکاری عہدیداروں پر بھی جنسی بدکاری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔*
*٦- جموں وکشمیر میں حکومت اور قیادت کی کمی کی وجہ سے بہت ساری بنیادی سہولیات متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں پینے کا صاف پانی، بہتر سڑکیں، بجلی کی فراہمی، طبی سہولیات کا فقدان اور سست انٹرنیٹ کی وجہ سے سست انٹرنیٹ شامل ہیں۔*
*٧- کورونا وائرس کی وجہ سے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا؛ لیکن طبی عملے کی کمی کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات کی بھی مکمل کمی تھی۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگوں کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے، جس کی وجہ سے صحت کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔*
صنعت اور روزگار
*کورونا کی وبا میں لاک ڈاؤن کے دوران جموں و کشمیر کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایز آف ڈوئنگ بزنس سروے میں جموں و کشمیر کو دیگر ٣٦/ ریاستوں اور مرکزی وسطی علاقوں میں ٢١/ واں مقام حاصل ہے۔ اس عرصے کے دوران، انٹرنیٹ کی بندش اور بجلی کی مسلسل فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کی معیشت کو دو بار دھچکا لگا ہے۔ بہت سے مزدوروں کیلئے سردیوں کا موسم پیداوار کے لحاظ سے اچھا نہیں تھا؛ کیونکہ بجلی کی کمی کا براہ راست اثر ان کے کام اور نظام پر پڑتا ہے۔ اسی طرح وادی میں ٹرکوں کی نقل و حرکت پر پابندی کے سبب تارکین وطن مزدوروں کی قلت کے سبب زراعت اور باغبانی کا کام بری طرح متاثر ہوا۔نیز ہائی کورٹ کے ڈَل اور نگین جھیل میں کسی بھی قسم کے کام پر پابندی کے باعث سیاحت کی صنعت بھی متاثر ہوئی ہے، دوسری طرف جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ریاست میں پچھلے٦/ ماہ سے بہت سارے گروپوں کو ادائیگی میں تاخیر، پریشانیوں اور مشکل حالات میں کام کرنا پڑا۔ ان تنظیموں میں یونیورسٹی ملازمین، جنگل کے ملازمین، گاؤں کی دفاع کمیٹی کے ممبران، انجینئرز، ہوم گارڈز، اسپتال کے کارکنان، روزانہ اجرت کمانے والے، غیر مہاجر کشمیری پنڈت شامل ہیں۔*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
19/02/2021

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔