*ہر مسلمان اپنے آپ سے پوچھے اور ان پر غور کرے که کيا ہم اس کے پابند ہیں*
*جب ہر بندہ اس کروناوائرس کی وباء سے خوف زدہ ھے ،اور اسی پر تبصرہ کرتا نظر آتا ہے تو چلیں ھم چند سوالات اپنے آپ سے پوچھتے ہیں...*
*(1) ۔ اس وباء کے پھیلنے کے بعد هم نے کتنی نمازیں مکمل خشوع و خضوع سے ادا کیں یا پھر یونہی زندگی عام روٹینگ پر چل رھی ھے؟*
*(2) ۔ ہم روزانہ کچھ پاروں کی تلاوت کر??اتے ہیں یا پھر خبروں میں سارا وقت گزار دیتےھیں؟*
*(3) ۰ کیاهم سےصبح و شام کے اذکار کی پابندی هوپاتی هے؟*
*(4) ۔ کتنی بار هم نےتنہائی میں اللہ کے سامنے آنسو بہا کر اپنے لئے،اپنے اھل و عیال اور ساری دنیا کے لئے دعائیں کیں ؟*
*(5) ۔ کیا اب بھی همارے دل میں اللہ کا خوف،اورخشیت پیدا نھیں ھوپائی ؟؟*
*(6) ۔ هم نےاپنے جسم کو پاک وصاف رکھنے کے ساتھ اپنے دل،دماغ،عقل،اور مال کوپاکیزہ بنانے کی کتنی کوششيں کیں؟؟؟*
*(7) ۔ هم نےان فراغت کے دنوں میں کتنی دعائیں یاد کیں اور اوراد و وظائف کو کتنا معمول بنایا*؟؟؟
*(8) ۰ هم نےکتنی دفعہ اپنے اللہ سے اپنے کئےہوئے گناھوں سے توبہ کی*؟؟؟
*اگر هم نے اب تک لاپرواهی ميں زندگی کو گذاردیاهے*
تواب بھی وقت ھے اللہ کی طرف لوٹ آنے کا
*چونکہ وہ تو بہت زیادہ معاف کرنے والا کريم ورحيم اور ودود و محب ھے۔اورستر ماؤں سےزياده محبت کرتاهے۔*
*نمازی بن جائیں*
*الله رسول* کے دین کو نافذ کرنے کی کوشش کرلیں ۔۔۔
*ورنہ وہ دن دور نہيں کہ کف افسوس ملناپڑےگا*۔
*حدیث کامفہوم ہے کہ* زبان ،دل،ہاتھ،پاؤں سے کسی کو تکلیف نہ پہونچاؤ۔
*اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں آجائیں ۔۔۔۔۔۔*
اللہ هم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
الهم اجعلنا من التوابين واجعلنامن المتطھرين ۔