(۲)
حضرت مولانا محب اللہ لاری ندوی رح ایک کامیاب منتظم ، باوقار مہتمم اور اصول پسند عمید و پرنسپل تھے، کم سخن تھے، لیکن انتہائی بارعب و باوقار تھے۔ طلبہ ان کو دیکھتے ہی بڑی تیزی سے ادھر ادھر چھپ جاتے، جری اور نڈر قسم کے طلبہ بھی جن کا ایک گروہ اور جھتا تھا، وہ بھی حضرت مہتمم صاحب سے خوف کھاتے تھے اور ان کے رعب و دبدبہ سے سہمے سہمے رہتے تھے، گھنٹے کے دوران اگر کسی طالب علم کو درجہ سے باہر دیکھتے تو سخت گرفت کرتے ، اور محاسبہ و مواخذہ کرتے کہ گھنٹے چھوڑ کر کہاں اور کدھر جارہے ہو؟ کبھی نام اور درجہ معلوم کرتے اور بعد میں دفتر طلب کرتے تھے، ان کی اصول پسندی سے طلبہ، اساتذہ اور عملہ سب واقف تھے، انصاف کا پیمانہ مضبوط و یکساں تھا، ان کا حسن انتظام معروف تھا، وہ خاموش طبیعت کے تھے، اسٹیج کے آدمی نہیں تھے، بلکہ اس سے بہت دور رہتے تھے، ان کو میں نے کبھی تقریر کرتے اور جلسہ کی صدارت کرتے نہیں دیکھا اور نہ کبھی جلسہ میں خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔ وہ اخلاص و للہیت کے پیکر تھے اور نام و نمود سے بچتے تھے،
اوپر بھی ذکر ہوا کہ مہتمم صاحب اصول و ضوابط کے بہت پابند تھے قانون شکنی کو برداشت نہیں کرتے تھے ، اس معاملے میں وہ کسی طرح کی رو رعایت نہیں رکھتے تھے، ڈاکٹر رضی الاسلام صاحب ندوی اپنا ایک ذاتی واقعہ لکھتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ حضرت مہتمم صاحب کس قدر اصولی انسان تھے۔۔۔
ڈاکٹر رضی الاسلام صاحب لکھتے ہیں کہ جن دنوں میں ندوہ میں زیر تعلیم تھا، میں اپنے چھوٹے بھائی سیف الاسلام کا بھی ندوہ میں داخلہ کرا دیا تھا، والد صاحب تھوڑے تھوڑے وقفے سے ہم لوگوں کی خبر گیری کرنے کے لیے آیا کرتے تھے، کچھ لڑکوں نے انہیں پریشان کرنا شروع کر دیا، اس نے مجھے کچھ بتانے کے بجائے گھر والد صاحب کو خط بھیج دیا۔ اس میں یہ بھی لکھ دیا میں اتنا پریشان ہوگیا ہوں کہ گومتی ندی میں ڈوب مروں گا۔ والد صاحب پریشان ہوگئے، بھاگے بھاگے ندوہ آئے، اس کے وارڈن( نگراں) سے ملے، پریشان کرنے والے لڑکوں کے گرارجینس کو بھی بلوایا گیا اور معاملہ تقریباً رفع دفع ہوگیا،اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ ایک لڑکے نے والد صاحب کے سامنے ہی میرے بھائی کو دھمکانا شروع کر دیا، انہیں غصہ آ گیا۔ انہوں نے اس لڑکے کو پکڑ کر دو چار تھپڑ لگا دیے، اس کی شکایت مہتمم صاحب تک پہنچنی۔ انہوں نے مجھے بلا کر بس اتنا کہا کہ آپ کے والد صاحب نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔ اب ہم آپ کے بھائی کو نہیں رکھ سکتے۔۔ اس کا اخراج کیا جاتا ہے، یہ آخری فیصلہ ہے، آپ اپنے والد صاحب سے کہہ دیجئے کہ وہ اس سلسلے میں مجھ سے ملاقات نہ کریں۔ میں نے آکر یہ بات والد صاحب کو یہ بات بتائی۔ وہ خان صاحب ٹھرے، تھوڑی دیر میں بھائی کا سامان سمیٹا اور اس کو لے کر گھر روانہ ہوگئے۔ بعد میں دوسری جگہ اس نے تعلیم مکمل کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ حضرت مولانا محب اللہ لاری صاحب رح سخت گیر اور سخت خو تھے، بلکہ اصول پسند تھے، لیکن مزاج کے نرم تھے، طلبہ کے لیے انتہائی مخلص و مہربان تھے، طلبہ کے لیے اندر سے نرم گوشہ رکھتے تھے، آخری درجہ میں اخراج کی کاروائی کرتے تھے، صرف نگراں کی سفارش اور کہنے پر فورا کسی طالب علم کا اخراج نہیں کر دیتے تھے، بلکہ معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی پوری کوشش کرتے تھے اور اس پر نظر رکھتے تھے کہ کہیں اس میں کسی طرح کی نفسانیت اور انا کا مسئلہ تو نہیں ہے۔۔ ۔۔
حضرت مہتمم صاحب رح سادہ لوح ، اور سادہ مزاج انسان تھے ، ان کی سادگی اور نرم دلی کا ایک واقعہ خال مکرم حافظ حامد الغازی صاحب سنایا کرتے ہیں کہ ندوہ میں حفظ میں داخلہ کے لیے بڑے بھائی مولانا ریاض احمد ندوی نے میرا فارم پر کرکے شعبان میں دفتر میں جمع کیا، اخیر رمضان میں پوسٹ کارڈ کے ذریعے دفتر اہتمام سے اطلاع آئی کہ اس سال داخلہ کی گنجائش نہیں ہے، اگلے سال پھر اس کے لیے کوشش کریں ۔۔۔ میں عید بعد بھائی صاحب کے ساتھ ندوہ آگیا اور دوسرے روز کارڈ لے کر ڈرتے ڈرتے مہتمم صاحب کے سامنے چلا گیا، تھوڑی دیر کے بعد پوچھا کیسے آئے ہو؟ کیا کام ہے؟ میں نہ پوسٹ کارڈ حضرت مہتمم صاحب کے سامنے پیش کر دیا، پڑھنے کے بعد فرمایا کہ یہ تو عدم منظوری کا کارڈ ہے، اگلے سال پھر فارم بھرنا اس سال گنجائش نہیں ہے۔۔ میں نے معصومیت سے کہا فیس خوراک جمع کروں گا، مستطیع داخلہ لوں گا۔۔۔۔۔ مولانا مسکرانے لگے اور فرمایا، بعد میں ملنا، اگر گنجائش رہی تو تمہارا داخلہ ہو جائے گا۔۔۔۔۔
فارم مستطیع ہی بھرا گیا تھا اور عدم منظوری کی اطلاع آئی تھی۔۔
میری سادگی اور معصومیت کام آگئی اور اس طرح نامنظوری کے بعد بھی ندوہ میں میرا داخلہ ہوگیا، حضرت مہتمم صاحب کے اس احسان کو ہم کبھی بھلا نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔(مامو جان کی زبانی اس واقعہ کو راقم نے یہاں درج کیا ہے،) جس سے معلوم ہوتا کہ حضرت مہتمم صاحب کتنے نرم طبیعت کے حامل اور کتنے مخلص اور سادہ دل انسان تھے۔۔۔۔
نوٹ باقی کل کے پیغام میں ملاحظہ کریں ..
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔