اقتدار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کیا جائے، کسی کے سامنے ماتھا نہ ٹیکا جاۓ، غیر اللہ کو اپنا حاجت روا نہ سمجھا جائے، اسی کا نام دین مستقیم ہے، لیکن بہت سے نادان اور کم عقل اسکو نہیں سمجھتے۔ قرآن کریم کی اس آیت (إن الحكم إلا للّه....الخ) میں یہ نہیں کہا گیا کہ وہ حکومت ابھی قائم نہیں ہے، اسکو نزاع و فساد برپا کر زمین میں قائم و نافذ کرے۔ بلکہ اسکا مطلب یہ ہے کہ نوع انسان کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ قائم شدہ حکومت الہیہ کا مطیع بناۓ، یہ اطاعت امر کا حکم ہے، نہ کہ کسی مفروضہ حکومت یا نظام کے نافذ کا امر۔
قرآن پاک کی مذکورہ آیت کو اگر صحیح معنی کے اعتبار سے اخذ کیا جاۓ تو وہ انسان کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو حکم خداوندی کا تابعدار بناۓ۔ اسکے برعکس، اگر اس آیت کو نفاذ کے معنی میں لیا جاوے، تو برعکس طور پر اس کا مطلب یہ بنے گا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ بااقتدار لوگوں سے لڑ کر ان سے اقتدار کی کنجیاں ضبط اور تخت حکومت پر قابض ہوں، وہ حاکم بنے اور اور دوسروں کو محکوم بنا کر بطور خود حکم خدا زمین پر چلاۓ۔
صحیح تفسیر کے مطابق، قرآن کی یہ تعلیم تمام انسانوں کو یکساں حیثیت دیتی ہے، یعنی آیت مذکورہ بالا میں نوع انسان عباد اللہ ہیں، اور ہر شخص کو یکساں طور پر اللہ رب العزت کو حاکم و خود کو محکوم سمجھے، اور اللہ رب العزت کے احکام کی تابعداری میں ہمہ وقت لگے رہے، دین اسلام میں آنحضرت صلعم نے تمام انسان کو یکسانیت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی تلقین کی ہے، کوئ حاکم اونچا اور محکوم کو گری نظر سے دیکھے یہ دین اسلام کی خلاف ورزی ہے، الا یہ کہ مراتب و تقوی کے لحاظ سے اور اللہ رب العزت کے قربت سے اوپر نیچے ہو سکتا ہے نہ کہ مال، دولت اور عہدہ کی بنیاد پر۔ یہی دین اسلام کی تعلیم ہے، اس میں تذبذب کی کوئ جگہ نہیں، فقط۔