خدا ایسی موت کسی کو نہ دے

???? *صدائے دل ندائے وقت*(872) *خدا_ ایسی موت کسی کو نہ دے!!*

*وہ موت بھی کیا موت ہے، جس میں بے گانگی انسان کی ہمراہ ہو، اس کی ٹوٹتی ہوئی سانسیں اور بکھرتی دنیا کے وقت اس کا ہاتھ تھامنے والا، اسے تسلی دینے والا کوئی نہ ہو، وہ ہاسپٹل کے وینٹیلیٹر پر پڑا ہوا ہے، آئی سی یو میں زیر علاج ہے، سانسیں اکھڑی ہوئی ہیں، وہ اپنوں کو یاد کرتا ہے، خدا کا استحضار ہے، ملک الموت سر پر سوار ہے، جان اب نکلی کہ تب نکلی کے عالم میں ہے؛ لیکن کلمہ لا الہ کی تلقین کرنے والا کوئی نہیں، تکیہ پر سر مارتا ہے، رعشہ طاری ہے، آواز لر کھڑا گئی ہے، گلہ خشک ہوچکا ہے، مگر زمزم کے دو قطرے ڈالنے والا کوئی نہیں، نگاہیں اٹھتی نہیں، پلکیں بچھ گئی ہیں، وہ چاہتا ہے کہ بس کوئی اپنا اسے تھام لے، درد کو راحت کا سامان دے، تلقین شہادتین کردے، سورہ یسین پڑھ دے، اپنے بچوں اور بچیوں کو نہار لے، ان کے سر پر دست شفقت رکھ دے، محبت کا ایک بوسہ دیدے، مگر یہ سب ادھورا ہے، کوئی اس کے پاس نہیں ہے، انتظار طویل ہوتا جاتا ہے، امید ٹوٹتی جاتی ہے، ڈاکٹروں کو بھی رونا آتا ہے، اس کی حالت پر ترس آتا ہے، قواعد و ضوابط کو پس پشت ڈال کر وہ لپکتے ہیں کہ کوئی اس کا عزیز اس سے ملنے آجائے، اس کی سسک اور عالم نزاع میں کوئی اس کا ہاتھ تھا لے، مگر سبھی منع کر دیتے ہیں، وہ حسرت و یاس سے مچلتا ہوا، اپنی زندگی پر افسوس کرتا ہوا، اسی بستر مرگ پر جان دے دیتا ہے.* *اب بھی اس کی بد قسمتی کا دھاگا ٹوٹتا نہیں ہے، شاید اسے امید ہو کہ اس کے مرنے کے بعد اپنے کاندھا دینے آئیں گے، جنازہ اٹھانے آئیں گے، مغفرت کیلئے جنازہ بھی پڑھیں گے، لیکن نوبت یہ ہے کہ اپنے جگر کے ٹکڑے؛ جنہیں خون و پسینہ ایک کر کے پالا، جنہیں چلنا سکھایا، دوڑنا، کمانا اور جینا سکھایا، اور وہ بیوی جس سے دھوپ چھاؤں میں ساتھ دینے کا وعدہ لیا، وہ اپنے پرائے جن کی صحبت میں شب و روز گزارے، وہ کالونی والے اور وہ گاؤں والے جن کی نگاہ میں زندگی کا ہر لمحہ بیتا وہ سب کے سب منہ موڑ لیتے ہیں، اس کی لاش لینے سے منع کردیتے ہیں، اس سے ملنے کو بھی راضی نہیں ہوتے، اسے دیکھنا تک نہیں چاہتے، مجبوراً جیسے تیسے اسپتال میں اسے ایک پلاسٹک کے پیکٹ میں پیک کیا جاتا ہے، ارد گرد سے پوری طرح ڈھانپ دیتے ہیں، اور دو چند لوگ اسے شہر سے باہر لیجا کر یونہی دفن کر دیتے ہیں، یہ بھی غنیمت ہے ورنہ ان میں سے وہ بھی ہیں جنہیں جلا کر خاک کردیا جاتا ہے، یہ کوئی قصہ نہیں بلکہ حقیقت ہے، یہ کرونا وائرس سے مرنے والوں کی داستان ہے، اٹلی، روس، پاکستان اور بھارت کے ملکوں سے ایسی خبریں مستقبل شائع ہورہی ہیں، انسانی وقار کو مجروح کرتی ہوئیں یہ خبریں دل دہلا دیتی ہیں، کتنے ہی ایسے خاندان ہیں، جنہوں نے ایسا کیا ہے، انہوں نے اپنے باپ سے ملنے کی بھی زحمت نہ کی، ان کا چہرہ تک دیکھنا گوارنہ کیا، اٹلی کے اسپتال میں یہاں تک کہا گیا کہ ان کے گھر والوں کیلئے تمام تحفظات بند و بست کرنے کے بعد بھی وہ ملنے نہیں آئے.* *ہندوستان میں بھی ایسا ہوچکا ہے، مہاراشٹر میں ایک مسلمان شخص مرجاتا ہے، مگر اسے کوئی لینے نہیں آتا، اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے سے بھی روک دیا جاتا ہے، چنانچہ غیر مسلم اسے لیجا کر خاک کر دیتے ہیں، پاکستان سے بی بی سی اردو نے یہ رپورٹ شائع کی تھی کہ ایک انسان کی میت پر نماز پڑھنے والے چند لوگ تھے، انہیں بھی بڑی مشکل سے اکٹھا کیا گیا تھا، خود اس میت کا بیٹا شریک نہ ہوسکتا؛ کیونکہ وہ بھی وائرس سے متاثر ہوچکا تھا، اس نماز جنازہ کی پوری کوریج موجود ہے، چبد افراد تین، چار نیزے کے برابر فاصلے پر کھڑے ہیں، نماز ہورہی ہے، اور اسے دفن کیا جارہا ہے، ایک ماں کی موت ہونے والی تھی، وہ متاثرہ اپنے بچے کو دیکھنا چاہتی تھی؛ لیکن کیسے دکھانا ممکن ہوتا، وائرس کی ہولناکی کے سامنے کوئی سبیل نہ تھی، مگر ماں کی ممتا کے سامنے اسپتال کا اسٹاف جھک گیا اور اس نے یوں نظام کیا؛ کہ ماں کو پوری طرح سے پلاسٹک میں قید کردیا اور بچی کو اس کے سینہ سے لگا دیا، اللہ اکبر.... ماں کی ممتا پر ایسی بے کسی دیکھ دل پھٹ جاتا ہے، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں.* *اسی طرح ایک شخص ڈاکٹر ہے اس نے کئیوں کی مدد کی مگر خود بھی متاثر ہوگیا، اسے معلوم ہے کہ اب اس کی موت طے ہے، لیکن اپنوں کا دیدار کرنا ہے، انہیں سینے سے لگانا ہے، مگر وہ لگا نہ سکا، اس نے خود کا چہرہ چھپا کر اپنے گھر والوں کی زیارت کی، کھیلتے بچوں کو دیکھا اور نم آنکھوں سے الوداع کہہ گیا، ایک شخص عالم نزاع میں ہے اپنی بیوی سے ملنا چاہتا ہے، مگر فون کر کے بلایا گیا تو اس نے ملنے سے منع کردیا..... اف__! یوں بے بسی و لاچاری کی موت خدا کسی کو نہ دے، انسان قیامت سے پہلے ہی قیامت کی دنیا میں جا چکاہے، وہ ابھی سے نفسی نفسی کی رٹ لگا بیٹھا ہے، ذرا سوچیں دنیا کی ایک عام وبا میں محبت و دلداری کی پرت یوں اکھڑ گئی ہے، کہ انسان خون کا رشتہ بھی بھول چکا ہے، تو قیامت کی ہولناکی اور یوم حشر کی وحشتناکی میں کیا عالم ہوگا، کون ہوگا جو انسان کا اپنا کہلائے گا، انسان کا ہاتھ تھامے گا، تسلی دے گا، سکون کا لمحہ دے گا یقینا کوئی نہ ہوگا، انسانو__! یہ عبرت کی گھڑی ہے، بدلنے اور خود کو پرکھنے کا وقت ہے، اس سے زیادہ عبرتناک چیز کچھ اور نہ ہوگی، آنکھیں کھولو، اپنے رب کو پہچان، اس کی طرف لوٹ جاؤ، تائب ہو جاؤ، اس کی خلاقیت اور قدرت کے سامنے سر تسلیم خم کردو، بس اسی کی ذات ہے جس سے نجات کی امید ہے، جو سہارا ہے، حامی و مددگار ہے.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی* Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 03/04/2020

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔