خریدتے وقت تجارت کا پختہ ارادہ نہ تھا

???? *تاریخ* ???? *☪ 8شعبان المعظم١٤٤١ھ* *???? 3 اپریل2020* ???? بروز۔ *جمعہ* ???? *مسئلہ* ???? ✒ خریدتے وقت تجارت کا پختہ ارادہ نہ تھا۔ ???? کوئی چیز اس نیت سے خریدی کہ اسے استعمال کروں گا اور زیادہ نفع ملے گا تو بیچ دوں گا تو اس پر زکوۃ واجب نہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: کتاب المسائل ???? فتاوی شامی جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 195 ???? حدیث النبیﷺ۔۔وَعَن عبدِ الله بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كَرْكَرَةُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ فِي النَّارِ» فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قد غلها. رَوَاهُ البُخَارِيّ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ کرکرہ نامی شخص ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامان پر مامور تھا ، وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ وہ جہنمی ہے ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ اس کا سامان دیکھنے لگے تو انہوں نے ایک چادر پائی جو اُس نے چوری کی تھی ۔ رواہ البخاری ۔ أوکماقال النبی ﷺ۔ (مشکوةشریف حدیث نمبر ٣٩٩٨ ) ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار HIDAYATULLAH TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں CONTACT NO 6206649711 ????????????????????????????????????????????????

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔