???? *صدائے دل ندائے وقت*????(1019)
*درماندہ قوم اور ندارد قیادت __!!*
*پچھلی صدیوں میں بھی دقتیں رہی ہیں، پریشانیوں نے گھیرا ہے، قوم مسائل کی پیچیدگیوں میں الجھتی رہی ہے، دیگر قوموں نے یلغار تک کی ہے اور سب کچھ تہس نہس کردیا ہے، بہت سے قبائل اور بہت سی جماعتوں نے اپنی جڑیں تک گم کردیں، اندرونی و خارجی اور فکری و جنگی ہر طرح کے مصائب ٹوٹے ہیں، مسلمانوں کے سروں سے مینار بنائے گئے، ان کے خون سے جام بنا کر سیرابی حاصل کی گئی، گلیوں اور چوراہوں کو سرخ لہو سے بھردیا گیا، بچے کچھے سرمایہ کو بھی نذر آتش کردیا گیا، ان کے گھروں کی راکھ سے معبد خانے کی تقدیس کی گئی، کلمہ لاالہ کی بنیاد پر کہیں بھی کیسے بھی اچک لئے گئے، انسان سوز اور انسانیت سوز واقعات ہوئے، مؤرخین نے سب کچھ لکھا ہے اور لکھتے لکھتے قلم توڑدیا، خون کے آنسو بہا گئے، روشنیاں ختم کردیں؛ لیکن یہ بھی لکھا ہے کہ ان مشکل گھڑیوں میں کس طرح مجددین وقت، صاحب عزیمت شخصیت، قیادت و سیادت کے علمبردار اور حق و صداقت کے پیکر قائدین نے امت کو بڑی رسوائی اور قعر مذلت میں گرنے سے بچایا، وقت اور ضرورت کے مطابق کبھی میدان جنگ میں جام شہادت کیلئے کود پڑے اور امت مسلمہ کی مضبوط صفیں تیار کر کے قسمت ہی بدل ڈالی، تو کبھی خموش اور پراسرار طور پر لوگوں کے دلوں کو بدلنے کی کوشش کی، انسانیت و محبت کا پیغام لیکر اٹھے اور زمانہ کا رخ موڑ دیا، وہ افق پر چھا گئے، زیادہ عرصہ بھی نہ گزرا کہ کعبہ کو صنم خانے سے پاسبان مل گئے، شاعر مشرق علامہ اقبال نے یہی تو کہا تھا:*
ہے عياں يورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
*ان ذی شعور، باغیرت اور دین کے متوالوں نے ہر محاذ پر کام کیا، لوگوں کے اندر حوصلہ جذبہ اور ایمانی و اخلاقی اقدار کو وا کیا، چنانچہ یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ اسلامی تاریخ میں شاید ہی کبھی کوئی موقع ہو جب امت مسلمہ زبوں حالی کی شکار ہو اور کوئی مجدد وقت اس کی لگام تھام کر صراط مستقیم پر نہ لگا رہا ہو؛ لیکن صدیوں میں موجودہ دور (اگرچہ سرے سے انکار نہیں کیا جاسکتا؛ تاہم حقیقت بہت حد تک یہی ہے) مستثنیٰ کر دیجئے! کیونکہ یہ قوم کی درماندگی، پس ماندگی کا وہ دور ہے جس میں ہر جانب تاریکی نظر آتی، قوم کا کوئی ایسا سرا دکھائی نہیں پڑتا؛ جہاں سے اسے زخم نہ کھانا پڑ رہا ہو، داخلی و خارجی غرض ہر میدان میں پشیمانی کا سامنا ہے، ملک کے ملک اجاڑے جارہے ہیں، پوری کی پوری آبادی جلائی جارہی ہے، لوگوں کو بھونا جارہا ہے، بندوق کی نالیوں پر زندگی رکھ کر شکار کیا جارہا ہے، توپوں کے مہار پر بستیاں نیست و نابود کی جارہی ہیں، ہر کوئی طاقتور اپنی طاقت آزما رہا ہے، سیاسی چالیں بھی زوروں پر ہیں، امت مسلمہ کو مکڑی کے جالے میں یوں پھانس دیا گیا ہے؛ کہ اس کی ہر جان مچل رہی ہے، مگر سانس لینے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ہے، اگر خدانخواستہ کوئی اسلامی علم. لیکر اٹھتا ہے اور دنیا کے نقشہ پر اسلامی یا کہیں کہ انسانی بنیادوں پر ایک دائرہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو خود اس کے ہم مذہب و ہم مشرب مخالف ہوجاتے ہیں اور اسے اکھڑنے کے درپے آجاتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری مسلم آبادی کو ان کے سرحدوں میں نظر بند کردیا گیا ہو، اس کا حقہ پانی روک دیا گیا ہو، اور اسے موت کے منہ میں یونہی چھوڑ کر تمام دشمنان اسلام جشن مناتے ہوں، ان کی چیخوں کو سن کر لطف اندوز ہوتے ہوں، ان کی آہ و بکا اور گریہ زاری پر مسخری کرتے ہوں.*
*حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ ہورہا ہے؛ مگر مسلمانوں کی رگوں میں وہ حرکت پیدا نہیں ہوتی کہ طوق و سلاسل کو توڑ دیں، بندھن کو کاٹ دیں، افسوس کہ کمزور ونادار مسلمان جس طرف بھی امید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، وہاں سے نظریں مایوس ہو کر لوٹتی ہیں، حدیث میں مجدد وقت کا تذکرہ ہے؛ لیکن فی الحال مجددین کا قحط پڑا ہوا ہے، ایسا لگتا ہے کہ طاقت و قوت کے سامنے سبھی نے ہتھیار ڈال دئے ہیں، مصالحتی فکر اور دفاعی پوزیشن اس طور پر اپنالی ہے؛ کہ اب چڑھائی کرنے کی سوچتے بھی نہیں ہیں، بس لاشیں اٹھانا ان کا مقدر ہے، نام نہاد قائدین کی قلعی کھلتی ہی رہتی ہے، جنہیں مسلمان مسیحا سمجھ کر پوجنے لگتے ہیں، شخصیت پرستی میں ڈوب ہوجاتے ہیں، ان کے ارد گرد پیر توڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، ان کی کہی گئی ہر صحیح، غلط کی تاویلات کرتے ہیں اور اسے منزل من اللہ سمجھ کر "سمعنا و اطعنا" کا نعرہ لگانے لگتے ہیں، وہی عین موقع پر دھوکہ دے جاتے ہیں، اور پھر آگ سرد ہونے کے بعد اچھلتے کودتے اور بیان بازیاں کرتے ہوئے اپنی قیادت و ہمدردی کا ٹھیکرا پھوڑتے جاتے ہیں، پچھلی دہائیوں کا اگر جائزہ لیا جائے؛ تو اکیسویں صدی کا بیس سالہ زمانہ ایسی کسمپرسی میں گزرا ہے کہ زبانیں بیان کرنے اور قلم لکھنے سے قاصر ہے، بالخصوص آر ایس ایس کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کی کھوکھلی پالیسی کا راز ایسے کھلا ہے؛ کہ سوائے خود پر ہنسی اور غصہ کے کچھ نہ ہو، مسلمانوں کی صلاحیتیں رائیگاں ہورہی ہیں، ندارد حقیقی قیادت نے سارے خانے چت کردیئے ہیں، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انفرادی کوششیں اور بعض تنظیموں کی کاوشیں ہی ہیں؛ کہ ظلمت میں ٹمٹماتے دئے کا کام کر رہے ہیں؛ لیکن عمومی طور پر کوئی بھی ایسی شخصیت نظر نہیں آتی جس پر مسلمانوں کا اتفاق ہو، اور وہ حکومت کے سامنے ان کی نمائندگی کرتے ہوں، ہائے افسوس __! قوم کی یہ بدنصیبی اور قیادت کا یہ فقدان __!!!*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
28/08/2020
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔