دعاء کیسی کی جائے

مفکر اسلام سید ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

دعا کیلئے اس ہستی کے یقین کی ضرورت ہے جس سے دعا کی جائے ۔۔۔۔ پھراس یقین کی کہ اسے ہر طرح کی قدرت حاصل ہے۔۔۔۔۔ اور دینے کیلئے اس کے پاس سب کچھ موجود ہے۔۔۔ پھر اس یقین کی کہ اس کے در کے سوا کوئی در نہیں ۔۔۔ پھر اس یقین کی کہ وہ خود بھی دینا چاھتا ہے ۔۔۔۔ اور محبت ورحمت ،عطاء وبخشش احسان وانعام اس کی خاص صفت ہے ۔۔۔اور کوئی لے کر اتنا خوش نہیں ہوتا جتنا وہ دے کر۔۔۔۔۔ پھر اس یقین کی کہ مخلوق محتاج محض ،سر تا پا کشکول گدائی ہے ۔۔۔ پھر اس یقین کی کہ وہ معبود اپنی مخلوق سے دنیا کی ہر چیز سے یہاں تک کہ اس کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ ہر ایک کی سنتا ہے اور ہر ایک کی ہر حال میں مدد کر سکتا ہے۔ (متاع دانش 158)

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔