???? *صدائے دل ندائے وقت*????(844)
*دوسرے مہابھارت کی شروعات __!!!*
*دیومالائی کہانیاں ہندو مت میں بڑی اہمیت کی حامل ہے، بلکہ ان کے مذہب کی ساری بنیاد یہی کہانیاں اور قصے ہیں، ان میں مہابھارت کی داستان بہت مشہور ہے، جسے ویاس نے لکھی ہے، اسی کا اختصار بھگوت گیتا ہے، لیکن اسے ایک خاص مقام حاصل ہوگیا ہے، اسے تقدس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تاہم مہابھارت کا ذکر کئے بغیر ان کا ہر قصہ ناقص ہے، اس میں دھوکہ، دغا، حسد، کینہ و کپٹ اور ظلم وزیادتی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور کمزور ہونے کے باوجود پوری سلطنت کے ساتھ بھڑ جانے کی کہانی ہے، پانڈو، یدھسٹر، کورو کی جنگیں ہیں، مظلوموں کا شہر بدر کردیا جانا ہے، بے کسوں کو اپنی بے گناہی کی سزا کاٹ کر اپنے مرجع میں لوٹ آنے اور پھر تگ و دو کے بعد ان سب پر فوقیت پا جانے کی باتیں ہیں، اس مذکور جنگ کو تاریخ کی سب سے بڑی جنگوں میں اسے شمار کیا جاتا ہے، جس میں عام آدمی سے لیکر مزعومہ بھگوان کرشن تک کو شامل کیا گیا ہے، یہ مہا بھارت کہلاتا ہے، یہ سسنکرت زبان کی اعلی ترین کتاب ہے، ہندو اسے ظالموں کے خلاف ایک ہتھیار سمجھتے ہوئے پڑھتے ہیں، اس سے حوصلہ پاتے ہیں، بلندی پاتے ہیں، مذہب کو ماننے والے اور نہ ماننے والوں کے درمیان کی عظیم جنگ تصور کرتے ہیں، حق و باطل کی تفریق کا معیار گردانتے ہیں، اسی کے ذریعے باطل کے پسپا ہونے اور حق کے سربلند ہونے کا یقین پالتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کسی زبردست جنگ یا بڑی مصیبت کی طرف اشارہ کرنا ہو تو کہا جاتا ہے؛ کہ یہ مہابھارت ہے، ویسے مہابھارت تو ختم ہوگئی؛ لیکن اس کی نظیریں ہمیشہ پنپتی رہی ہیں، اب پھر سے مہابھارت کی آہٹ ہے.*
*جی ہاں ___ ٤/٣/٢٠٢٠ کو مشہور و معروف صحافی جناب ونود دعا صاحب نے اپنے ایک پروگرام میں کہا ہے؛ کہ ہندوستان میں ایک اور مہابھارت کی شروعات ہونے والی ہے، HWnews پر بات کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے، موقع تھا کہ انہوں ایک خبر بیان کی تھی، وہ یہ کہ ٢٠/ مارچ سے آسام میں ہوئے این آر سی کو آخری مرحلہ دیا جائے گا، اس میں تقریباً انیس لاکھ لوگ شہریت سے محروم ہوگئے تھے، جن میں تقریباً چار لاکھ سے کچھ زائد مسلمانوں کی تعداد تھی، یہ سب کے سب اب ہندوستانی نہیں رہیں گے، ان کا نام قومی شہریت رجسٹر سے خارج کردیا جائے گا، وہ اس سرزمین کے باسی ہو کر بھی یہاں اجنبی بن جائیں گے، ان پر غیر ملکی ہونے اور ودیشی ہونے کا ٹھپہ لگا دیا جائے گا، البتہ ٹربیونل کورٹ کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے ذریعے اپنی شہریت ثابت کرنے کی اگلی کارروائی کی جا سکتی ہے، پھر نچلی عدالت اور سپریم کورٹ کے دروازے بھی کھلے ہوئے ہیں؛ ل??کن یہ سب دھکے مکے کا کام ہے، تو وہیں خطیر رقم بھی درکار ہے، جبکہ آسام غریب ترین صوبوں میں سے شمار کیا جاتا ہے، جہاں ایک وقت کی کھانا نصیب نہ ہو وہاں پر عوام کا یوں کورٹ کچہری کے چکر لگانا کیسے ممکن ہوگا؟ کسی کا بھائی، کسی کی بہن تو کسی کا کوئی اور رشتے دار....... ہر کوئی خوف و ہراس میں یہاں وہاں بھٹکتا پایا جانے گا، اپنی ہی زمین پر کھڑے ہو کر بھی اس پر ملکیت سے محروم ہوں گے، ظاہر ہے جب شہریت ہی نہ رہے گی، تب گھر بار سبھی کچھ پر پابندیاں عائد کردی جائیں گی، ان کی زمین پر قبضہ کر لیا جائے گا، ان کے نام راشن کارڈ سے خارج کردیئے جائیں گے، سرکاری اسکیموں سے انہیں استفادہ کی کوئی گنجائش نہ ہوگی، وہ بے یار ومددگار ہو کر اپنے کاغذات تھامے بس در درد بھٹکنے کے سوا کچھ نہ کر پائیں گے.*
*اس کے بعد پھر ایک وقت وہ بھی آئے گا جب سی اے اے نافذ کر دیا جائے گا، اور پھر اس قانون کے ذریعے صرف مسلمانوں کے علاوہ سبھی کو شہریت دیدی جائے گی، اگرچہ یہ آسان نہیں ہے؛ لیکن ان کے لئے یہ راستے کھلے ہوئے ہیں، رہ گئے چار لاکھ مسلمان تو ممکن ہے کہ ان کیلئے ڈٹینشن کیمپوں کے دروازے کھول دئے جائیں گے، جہاں پہلے ہی سینکڑوں کے مرنے کی خبر ہے، جہاں انسان انسان نہیں بلکہ حیوان سے بد تر زندگی گزارتا ہے، جنرل ثناء اللہ کی داستان سبھی کو معلوم ہوگی، تو وہیں ان دنوں کئی خبریں گردش کرتی رہیں؛ کہ کسی کی ماں تو کسی کے شوہر جب ان کیمپوں میں ڈالے گئے تو دوبارہ ان کا پتہ ہی نہ چلا، دن بھر بندھوا مزدور اور رات کو قید وبند کی سزا ہوگی، کھانے پینے اور بنیادی سہولیات کے نام پر بس آنکھوں کے آنسو ہوں گے، یہ تاریک ترین ظلم ہے، یہ تاناشاہی، فاشزم اور نازی ازم ہے، یہ بھی یقینی ہے کہ ظلم زیادہ دنوں تک اور زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا، جب انسان کے پاس کچھ کھونے کیلئے نہ ہو تو وہ انسان دنیا کا سب سے خطرناک انسان بن جاتا ہے، جب انسان کی زندگی پر بن آتی ہے، جب اس کے سامنے جینے کے راستے نہیں ہوتے تو وہ مرنے کے راستوں کو ہی اپنی زندگی بنا لیتا ہے، اگر ایسا ہوا تو یقیناً ان کیمپوں میں ایک افراد تفری مچ جائے گی، ممکن ہے کہ باغی پیدا ہوں، ہتھیار اٹھانے والے پیدا ہوں اور وہ سب ملک کیلئے خطرہ بن جائیں، اسی لئے ونود دعا صاحب نے اسے دوسرے مہابھارت کی شروعات سے تعبیر کیا ہے، بلکہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہم دوسری partition کی طرف بڑھ رہے ہیں، یہ ملک کی دوسری تقسیم ثابت ہوسکتی ہے، ویسے بھی عالمی ادارے اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں، حکومت اگر ہوش کے ناخن نہیں لیتی تو انجام خود بھگتے گی، عالمی تنظیموں نے اسے خطرناک عمل بتایا ہے، اقوام متحدہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں فریق بننے کو تیار ہے، یہ دماغی خلل ہے، ہندوستانی روایات کا غلط استعمال ہے، اور ملک کے امن سولی چڑھانے کے ماننے ہے، وقت ہے کہ جاگ جائیں ورنہ ویرانی کے سوا کچھ نہ ہوگا.*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
06/03/2020