دوکان کے سامنے ٹھیلہ لگانے کی اجرت لینا

????سوال وجواب ????

????مسئلہ نمبر 1201????

(کتاب الاجارہ باب المتفرقات)

دوکان کے سامنے ٹھیلہ لگانے کی اجرت لینا

سوال: مارکیٹ میں دکان دار کے سامنے روڈ پر اگر کوئی ٹھیلہ، لاری لگاتا ہے، تو دکان والا اس سے ماہانہ کرایہ لیتا ہے، کیونکہ لاری والا اس کی دکان کے سامنے کے حصے میں کھڑا ہوتا ہے، حالانکہ وہ زمین کا حصہ مالک دکان کا نہیں، بلکہ سرکاری ہے. (مدلل جواب عنایت فرمائیں) (عبداللہ، بہرائچ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون اللہ الوہاب

دوکان کے سامنے کا جو حصہ ہوتاہے بسا اوقات وہ دوکاندار کی ملکیت ہوتا ہے کیونکہ بہت سے لوگ دوکان مکان بناتے وقت کچھ حصہ چھوڑ کر بناتے ہیں تاکہ اگر راستہ چوڑا کیا جایے تو ان کی دوکان و مکان متاثر نہ ہو، یا وہ اپنی کسی ضرورت کے لئے بعد میں استعمال کرسکیں، اسی طرح کبھی کبھی دوکان دار زمین نہیں چھوڑتا ہے مگر اس کے سامنے جو سرکاری زمین ہوتی ہے اس کے استعمال کا حق دوکان دار کو ہوتا ہے اور عام طور پر دوکاندار اسی حق استعمال کی اجرت لیتے ہیں، بڑے شہروں میں خصوصاً یہ حق استعمال بڑی اہمیت رکھتے ہیں، چنانچہ اگر وہ جگہ کرایہ پر نہ دی جائے اور دوکاندار خود وہاں کوئی کاروبار کرے تو کرایہ سے کئی گنا زیادہ کمائی کر سکتا ہے، اب ظاہر ہے کہ جب وہ اپنا ایسا قیمتی حق دوسرے کو دے رہا ہے تو اس کی اجرت بھی لے رہا ہے؛ لیکن اگر ایسی عوامی گزرگاہ پر ٹھیلہ لگاتا ہے جہاں سے لوگ گزرتے ہیں اور وہ سرکاری زمین ہے اور گزرنے والوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہاں ٹھیلہ لگانا درست نہیں ہوگا نیز اس کی اجرت بھی درست نہیں ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

????والدليل على ما قلنا ????

’’ أما شرط النفاذ فأنواع منھا … ومنھا الملک والولایۃ فلا تنفذ إجارۃ الفضولی لعدم الملک والولایۃ‘‘ ( بدائع الصنائع : ۴؍۱۷۷ ، کتاب الاجارہ)

أما الأول: فهو ثبوت الملك في المنفعة للمستأجر، وثبوت الملك في الأجرة المسماة للآجر؛ لأنها عقد معاوضة إذ هي بيع المنفعة، والبيع عقد معاوضة، فيقتضي ثبوت الملك في العوضين. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٢٠١/٤ كتاب الاجارة)

"کما یجب الأجر باستفاء المنافع یجب بالتمکن من استیفاء المنافع إذا کانت الإجارۃ صحیحۃ حتی أن المستأجر دارا أو حانوتا مدۃ معلومۃ، ولم یسکن فیہا في تلک المدۃ مع تمکنہ من ذلک تجب الأجرۃ" (الفتاویٰ الہندیۃ: کتاب الإجارۃ، الباب الثاني في بیان أنہ متی تجب الأجرۃ)

كتبه العبد محمد زبير الندوى
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 12/11/1441
رابطہ 9029189288

دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔