سرکار کا جھوٹ بھی قبول کیوں

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(847) *سرکار کا جھوٹ بھی قبول کیوں __؟*

*جھوٹ کوئی بھی بولے دینی یا سماجی کسی بھی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہے، ہر سالم طبیعت اس سے کراہت محسوس کرتی ہے؛ لیکن اب خود سرکار جھوٹ بولتی ہے، بلکہ اتنا زیادہ جھوٹ بولتی ہے کہ جھوٹ بھی شرماجائے، مگر افسوس کہ ان کے جھوٹ کو لوگ سچ مان لیتے ہیں، حالانکہ یہ دو بار کا واقعہ نہیں بلکہ موجودہ سرکار کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے، حال ہی میں CAA. NRC. NPR کے سلسلہ میں امت شاہ اور مودی نے پورے دیش کو گمراہ کیا ہے، جو ہر کسی کے سامنے ہے، اس کے علاوہ اکانامی اور نوکری کا جھانسہ دے کر نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کر کھڑا کردیا اور انہیں پکوڑے تلنے پر مجبور کردیا، دیش کی ہر سڑک انسانی ہجوم سے پر ہے؛ جان و مال کی کوئی ضمانت نہیں، ملک کا ہر سیکٹر تباہی کے دہانے پر ہے؛ لیکن ان سب کے باوجود بڑی تعداد اب بھی سرکار کی باتوں کو نقش کالحجر مانتی ہے، اور انہیں حق دیتی ہے کہ ان کا ہر فیصلہ درست سمجھا جائے، ہر بات کو صحیح ٹھہراتے بے سر و پیر کا لاجک بھی استعمال کرتے ہیں، ان سب کو دیکھ کر اکثر یہ خیال آتا ہے کہ ایسی اندھ بھکتی کیوں ہے، جس کے اندر سرکاری جھوٹ بھی قابل قبول ہے__؟* *دراصل اس myth کو سمجھنے کیلئے انسان کی سائیکالوجی کیفیت کو جاننا ضروری ہے، ایک ماہر و معروف سائیکالوجسٹ ٹامس ٹیفڈ کہتے ہیں ہے؛ کہ Illusion of truth _ الیوزن آف ٹروتھ_ کی ایک حقیقت ہوتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کے سامنے ایک ہی بات کو اتنا دہرایا جائے؛ کہ اسے وہ سچ مان جائے، ویسے بھی مشہور ہے کہ جھوٹ کو بار بار بولا جائے تو لوگ سچ مان لیتے ہیں، یہ تھیوری ہندوستانی سیاست میں خوب آزمائی جاتی ہے، بالخصوص وزیراعظم ہند مودی جی نے اس کا استعمال خوب کیا ہے، تو وہیں کچھ سائنٹفک وجوہات بھی ہیں جن کی وجہ سے سرکار کی ہر بات سچ مان لی جاتی ہے، بلکہ اسے عموم بھی رکھا جاسکتا ہے، جیسے ٢٠١٥ء کے ایک ریسرچ میں یہ بتایا گیا تھا؛ کہ اگر سب کو بار بار یہ بتایا جائے کہ اٹلانٹک سمندر دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے، تو لوگ اسے مان لیتے ہیں، اس کے پیچھے سائنٹیفک وجہ بتاتے ہوئے ماریہ کونی کووا بتاتے ہیں؛ جو سائیکولوجی کے مصنف بھی ہیں، کہ اس زاویہ کو Cognitive load _کوگنیٹیو لوڈ_ کہتے ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ انسان جب کسی چیز کو سنتا ہے تو وہ پہلی مرتبہ میں اسے سچ ہی ماننے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اس کا دماغ اس کیلئے تیار ہوتا ہے، جبکہ اگر جھوٹ مانا جائے تو اس کیلئے محنت کرنی پڑتی ہے، صحیح و غلط کے درمیان چیک اینڈ بیلنس بنانا پڑتا ہے، جو مشکل کام ہے، بالخصوص آج کے دور میں ہر کوئی مصروفیت یا لاعلمی بلکہ زیادہ تر سستی و کاہلی کی بنا پر تحقیقی مزاج نہیں رکھتے.* *یہ کام اس وقت اور دشوار کن ہوجاتا ہے جب اسے ایک خاص سوچ اور فکر کی طرف سے پیش کیا جائے، جس سے انسان پہلے ہی سے متاثر بھی ہو ایسے میں عموما ہوتا یہ ہے؛ کہ انسان بغیر سوچے سمجھے ہی سچ مان لیتا ہے، اور وہی فکر عام ہوتی چلی جاتی ہے، مثال کے طور پر JNU کے سلسلہ میں یہ سوچ بنادی گئی ہے؛ کہ وہ ملک مخالف یونیورسٹی ہے، اگرچہ کہ وہ ہندوستان کی سرفہرست یونیورسٹیز میں سے ہے؛ لیکن اس کا یہ داغ مٹتا ہی نہیں ہے، اس کی شروعات ٢٠١٦ء میں کنہیا کمار کے معاملہ سے ہوئی تھی، جب زی نیوز کے اینکر سدھیر چودھری نے ویڈیو میں کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے پاکستان حمایت اور ملک مخالفت کے نعرے جوڑ دئے تھے اور اسے ایک عظیم تحقیق بنا کر پیش کیا گیا تھا، اس کے بعد ریپبلک چینل کے اینکر ارنب گوسوامی نے باتوں ہی باتوں میں اسے ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا لقب دے دیا تھا، یہ بات اس وقت بڑھ گئی جب امت شاہ اور مودی نے بھی اپنی تقاریر میں ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا تذکرہ کیا تھا اور یہاں تک کہہ دیا گیا تھا؛ کہ اب ان سے بدلہ لینے کی باری آچکی ہے، یہیں وہ سوچ ہے جسے خوب پروان ملا__* *چنانچہ اس پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے بھی JNU کے بارے میں بھدے بیانات دئے، اور یہاں تک کہہ دیا کہ یہاں سے ہر دن دو ہزار شراب کی بوتل اور تین ہزار کونڈم پائے جاتے ہیں ___ اس کمپیننگ نے JNU کی تمام خدمات اور اہمیت کو چکنا چور کردیا، اور وہ اب ایک دیش مخالف یونیورسٹی بن کر رہ گئی ہے، سی اے اے و غیرہ کی مخالفت پورے ملک میں ہورہی ہے؛ لیکن موجودہ رائٹ ونگ پارٹی اور میڈیا نے مسلمانوں کو اس مسئلے سے جوڑ دیا ہے، اب لاکھ کہنے والے کہتے رہیں کہ یہ قانون ملک و آئین مخالف ہے، کوئی سننے کو تیار نہیں ہے، بلکہ اسے مسلمانوں کی بدمعاشی جان کر جان چھڑانے کی کوشش ہے، اسی طرح دہشت گردی، کرتا و شلوار، نقاب، بریانی وغیرہ کو ایک خاص خاف کی علامت بتاکر ووٹ بینک کی سیاست کی جاتی رہی ہے، جس میں برسرِ اقتدار پارٹی بڑی مہارت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر باتوں باتوں میں ہی ان کی طرف اشارہ کر دیتی ہے تو لوگ سمجھ جاتے ہیں اور فوری طور پر ان سب کو مسلمانوں سے جوڑ کر انہیں مشکوک سمجھ بیٹھتے ہیں، اب چونکہ یہ ساری فکریں ایک لارجر دین لائف پارٹی کی طرف سے پیش کی گئی ہیں، اس لئے ہر کوئی اس پر ٹوٹ پڑا ہے، اسی سائکلاجی کے ساتھ سرکار عوام کو اندھ بھکت بناتی ہے، ان پڑھ لوگ اور وہ بے فکر لوگ جنہیں قوت فکر سے کوئی دلچسپی نہیں سرکار کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں، اور ملک کو جہالت کی قعر مذلت میں دھکیلے جارہے ہیں.*

✍ *محمد صابر حسین ندوی* Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 09/03/2020

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔