???? *صدائے دل ندائے وقت*????(789) *سرکار کو انسانی جان کی پرواہ نہیں
پھر شورِ سلاسل میں سرورِ ازلی ہے پھر پیشِ نظر سنتِ سجادِ ولی ہے *جان کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ دنیا کی تمام تحریکیں اور تمام منصوبے اسی نقطہ کے مطابق عمل پیرا ہیں، Humen rights کی سب سے بڑی کمیٹی اسی فکر پر قائم کی گئی ہے، تو وہیں اسلام نے تو جان کو بے پناہ اہمیت دی ہے، اسے سب سے پہلے رکھا ہے، یہاں تک کہ کعبہ کو ڈھادئے جانے سے زیادہ جرم انسان کی جان لینا ہے، وہ جان کسی بھی معصوم کی ہو، ہر انسان محترم ہے، ہر انسان جینے کا حق رکھتا ہے، کھانے پینےکا حق رکھتا ہے؛ لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ دنیا کی جنگوں میں یہی عنصر غالب رہا ہے، کہ کس طرح انسانی جانوں کو غلام بنا لیاجائے، اپنی سطوت و قوت ثابت کرتے ہوئے انسانیت کے پیروں میں زنجیر ڈال دی جائے اور اس کیلئے انہیں حق حیات سے بھی محروم کردیا جائے؛ چنانچہ یہ کوئی کہنے کی بات نہیں کہ عالمی جنگوں میں جتنی جانیں گئی ہیں، اس کی کوئی مثال نہیں ہے، اور آج بھی اس کا تسلسل جاری ہے، دنیا میں ایسے لوگ اور ایسی حکومتیں بہت کم ہیں، جن کے بارے میں یہ کہہ سکیں؛ کہ وہ انسانی جانوں کی حفاظت کر رہے ہیں، اور انسانی زندگی کی بحالی و مرفہ الحالی کو ہی مقصود اصلی بنا رکھا ہے_* *بلاشبہ ہندوستان کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں ہمیشہ انسانی جان کی حفاظت کو اہمیت دی گئی ہے، یہاں کی رواداری اور آپسی محبت کی کوئی نذیر نہیں ہے، صوفی ازم کو عالمی پلیٹ فارم دینے اور روح کی تسکین کا سامان بہم پہونچانے والا یہی ملک رہا ہے، مگر برطانوی حکمران اور پھر تقسیم ہند کے وقت یہاں جانوں کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا، اسے بیان کرنا مشکل ہے، تاریخ کے صفحات پر وہ خونریز داستانیں بکھری پڑی ہیں، تاہم اس کے بعد ہندوستان نے اپنے ماضی کو دہرانے کی کوشش کی تھی، CAA کا قانون بھی اسی لئے لایا گیا تھا کہ قرب وجوار کے ممالک میں آباد مظلوم اقلیت یا کوئی بھی بلا تفریق مذہب ہندوستان کو اپنی آرام گاہ بنا سکتا ہے، یہ گاندھی جی کا خواب تھا، وہ اس بات کو بڑی تقویت کے ساتھ کہا کرتے تھے؛ لیکن موجودہ تبدیلی کے بعد ہندوستان کی تاریخ کے ساتھ ساتھ گاندھی جی کے خواب کو بھی کچل دیا گیا اور اس چکر میں انسانی جان کو بھی آسان کردیا گیا ہے، آج ملک بھر میں احتجاجات چل رہے ہیں، گھروں میں سڑکوں پر انسانی سروں کا جمگھٹہ نظر آتا ہے، حیران و ششدر اور پریشان انسانی جماعتوں کا ریلا بہہ پڑا ہے، مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے.* *بالخصوص رواں حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے، بلکہ اس نے اپنی سرپرستی میں انسانی جان کو کھکواڑ بنایا ہے، اور اپنی نگرانی میں معصوموں کے خون کو سستا کردینے کی مہم چلائی ہے، نوٹ بندی کے وقت ڈیڑھ سو سے زائد لوگ مر گئے؛ لیکن اب تک کسی نے ایک بیان اور ایک معافی نامہ تک نہ دیا، جی ایس ٹی میں بھی متوسط تجار نے خود کشی کی مگر کسے پرواہ ہے. کسانوں کی خود کشی میں ہندوستان سب سے آگے ہے، ہر روز تین چار کسان خود کشی کرتے ہیں؛ مگر ملک کی پالیسیاں ان کیلئے ہے ہی نہیں، اگر خدا نخواستہ کوئی پالسی بنا بھی دی جائے، تو وہ لاگو نہیں کی جاتی، ان کی بدترین کیفیت کا عکس گزشتہ سال میں ممبئی کے اندر کسان مارچ سے کیا جا سکتا ہے، اسی طرح گورکھپور اسپتال میں بچوں کی موت، مظفر پور میں نوجوان بچیوں کا استحصال اور ان کی موتیں، ابھی راجستھان میں سینکڑوں بچوں کی موت کا قصہ، ٹریفک میں سال بھر کے اندر لاکھوں لوگوں کا مرجانا، اور خاص طور پر ہجومی تشدد کی وجہ سے اکثر مذہبی علامات کے ساتھ قتل کردینا اور سپریم کورٹ کے حکم نامک کے باوجود کوئی قانون نہ بنانا وغیرہ_ کیونکہ یہ سب سرکار کی نگاہ میں بے کار ہے، ابھی خصوصی طور پر CAA اور NRC کے سلسلہ میں پچیس موتیں ہوچکی ہیں، ان مین طلباء و طالبات بھی شامل ہیں۔* *اس کے علاوہ مختلف احتجاج کی صورت میں عوام بے حد پریشان ہے، ویڈیوز دیکھ کر اور سن کر روح تھرا جاتی ہے؛ لیکن ان سب کے باوجود خبر یہ ہے کہ سرکار نے CAA لاگو کرنے کیلئے حکم جاری کردیا ہے، عملہ تیار ہوچکا ہے، کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ کیا ہے ___؟ یہ کس جمہوریت کی بات ہے_؟ جمہوریت تو عوام کا خیال کرتی ہے، ان کی فلاح و فوز کے بارے میں اسکیمیں سوچتی ہے، مگر ہندوستانی سرکار نے تو اسے قطعا قابل توجہ سمجھا ہی نہیں، ان کے سامنے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، جسے مرنا ہے مر جائے مگر سرکار جھکنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل امت شاہ کا یہ بیان آچکا ہے کہ اگر پورا اپوزیشن بھی متحد ہوجائے تب بھی ہم ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے____ ایسے میں سرکار کو بھی جان لینا چاہئے کہ اگر عوام نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لی ہے، تو پھر کسی طرح بھی سرکار کا قیام ممکن نہ ہوگا، فاشسٹ سوچ کا اب کوئی گزر نہیں، یہ چراغ بجھنے سے قبل کی پھدپھداہٹ ہے، یہی حال ہر گرتی حکومت کا ہوتا ہے، ان فسطائی طاقتوں کو جان لینا چاہیے_! سرفروش اپنی سرفروشی پر اتر آئے ہیں، سر بکف ہوچکے ہیں، گھر چھوڑ چکے ہیں، واپسی صرف کامیابی کی صورت میں ہی ہے، اب تو آزادی لیکے رہیں گے. اگر نہیں مانتے تو مت مانو___ ہم منواکے رہیں گے۔*
✍ *محمد صابر حسین ندوی* Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 11/01/2020
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔