*سی اے اے اور این آر سی میں علماء و مدارس کا کردار-* ✍ *محمد صابر حسین ندوی*
آزادی ہند میں مسلمانون کا کردار پڑھتے ہیں تو سینہ چوڑا ہوجاتا ہے، علماء کی قربانیاں، بزرگوں کی شجاعت و دلیری اور جبہ پوشوں، بوریہ نشینوں کو خانقاہوں سے لیکر میدان جنگ تک محاذ آرا ہوتا دیکھ نگاہیں چمک جاتی ہیں، اگرچہ ان کی تاریخ مسخ کردی گئی، اور انہیں قصہ پارینہ بنانے کی پوری کوشش جاری ہے، اس کے باوجود ان کے تذکرے خون گرما دیتے ہیں، یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے مواقع پر ان کی جاں نثاریوں کا تذکرہ سن کے یا بیان کرکے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، خواہ ہماری کیفیت کیسی بھی ہو؛ لیکن کچھ پل کیلئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بس ہم ہی تھے، جس سے اس دیس کا کچھ بنا، گرتوں کو تھاما، اور ذرہ ذرہ ایک کرکے مضبوط ملک کی بنیاد رکھی____ مگر پھر آنکھیں وہاں ڈبدبا جاتی ہیں، جب آزادی کے بعد کے کردار و عوامل پر غور کیا جائے، آزادانہ فضا میں دفاعی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے، پورا باغ چھوڑ کر چند کلیوں پر قناعت کرجانے کی روداد سنی جائے، فیکٹر سے زیادہ ایکٹر بننے کی ہوڑ کا جادو دیکھا جائے، معاشرت و معاملات سے لیکر ہر ایک ناحیہ میں دوسری قوم کا بوجھ بنتے اور ان کی رہین منت ہونے کا طعنہ سنا جائے، تعلیم سے لیکر نوکری تک ہر جگہ پچھڑنے اور طبقہ واریت کی سوچ پنپنے، مذہبی اجارہ داری کی کہانیاں پڑھنے اور اپنوں کے ہاتھوں ہی اپنوں کو پس پشت ڈال دینے دکھ بھری داستان پڑھی جائے.* *خاص طور پر مسلمانوں کو دلت سے بدتر کردینے اور ان سب کے درمیان مدراس و علماء کا محض اپنے جزیروں میں مقید ہو کر رہ جانے کو دیکھ کر اور سن ک سینہ چھلنی چھلنی ہونے لگتا ہے، سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھ کر محض فائدہ اٹھانے کی سوچ پر اکتفا کر لینے اور دوسروں کے دروازے کا دست نگر بن جانے پر تف ہوتی ہے، اس سے زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے کہ جب ملک کو ان کی ضرورت ہے، مواقع خود انہیں پکار رہے ہیں، سیاست کی بساط پلٹنے کو تیار ہے، رگوں کو نیا خون بھی حاصل ہے؛ لیکن مدارس اپنے کوہستان میں بند ہیں، ان کے طلباء نے اگر جرات دکھائی بھی تو ان کے بڑوں نے انہیں دور کردیا__ اس وقت CAA. NRC. NPR پر پورا ملک دہک رہا ہے، بیداری کی ایک لہر چل پڑی ہے، جہالت کا کہرا چھٹ رہا ہے، زعفرانیت کے سامنے آئین کے حامی کھڑے ہیں، سیکولرازم کے معاون ثابت قدم ہیں؛ نوجوانوں نے سب کچھ چھوڑ کر خود کو پیش کردیا ہے، بلکہ مائیں، بہنیں بھی میدان میں ہیں، کوئی دن ایسا نہیں جہاں ظلم وستم کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو، ہر روز پردہ نشین بھی اور ماڈرن خواتین بھی، مسلم و غیر مسلم بلا کسی تفریق و امتیاز کے میدان میں اترتے ہیں، پولس کا ستم جھیلتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، حکومت سے دو بدو ہو کر بات کرتے ہیں، اشکالات کا. جواب دیتے ہیں، پروپیگنڈہ کی وضاحت کرتے ہیں، اور خود کو ایک جنگی محاذ پر کھڑا کر کے پورے فاشزم اور ہندو راشٹر کے ٹھیکداروں سے لوہا لیتے ہیں؛ لیکن ان میں مدارس کہاں ہیں_؟ ان کے علماء کہاں ہیں_؟ قرآن وسنت کے نام لیوا کس دنیا میں ہیں؟ ملک و آئین کی حفاظت پر قسمیں کھانے والے اور اپنے اسلاف کا حوالہ دے جھولا ڈھونے والے کہاں ہیں؟* *ندوۃ العلماء لکھنؤ میں طلباء کی کاف کردگی سے ایک امید جگی تھی، پولس اور علماء کی مزاحمت سے تاریخ کے اوراق پلٹنے لگے تھے، جس کی ہیبت واشنگٹن اخبار تک دیکھی گئی تھی؛ لیکن انتظامیہ نے تعطیل کردی، مصالحتی بیان بازی سے معاملہ رفع دفع کردیا_ اگر خطرہ برقرار رہا تو مزید تعطیل میں اضافہ کردیا گیا، اور تمام امت کے جیالوں کو گھروں کی چہار دیواری تک سمیٹ دیا، اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ دیوبند نے اسے غیر اسلامی قرار دے دیا، خود وہاں کے اعلی ذمہ دار نے احتجاج کو غیر اسلامی کہہ کر طلبہ پر پابندی عاید کردی، انہیں کتاب خوانی کا درس دینے لگے اور اسے ان کا مقصد اصلی بتایا گیا_ شنید ہے کہ بعض اکابرین نے بھی طلبہ کے درمیان تقریر کرتے ہوئے انہیں احاطہ سے باہر نہ نکلنے اور احتجاج نہ کرنے کا حکم دے دیا _ تو وہیں کچھ دن قبل ایک اطلاع کے مطابق جامعہ اسلامیہ مظفرپور اعظم گڑھ میں واقع ادارے نے بھی اپنے سولہ طلباء کا اخراج کردیا، اور ان کے ساتھ نازیبہ رویہ اختیار کیا گیا_ ان منفی اقدامات کے ساتھ ساتھ علماء کی خموشی اب بھی جاری ہے، شکر ہے حضرت مولانا سجاد نعمانی صاحب ندوی دامت برکاتھم اور معدود چند علماء نے یہ ثابت کردیا کہ سبھی بے ضمیر نہیں ہوتے، اسلاف کے نام پر پیٹھ تھپتھپا کر رضائی میں دبک جانے والے نہیں ہوتے، مصلحت کی چادر میں خود کو لپیٹ کر حالات حاضرہ سے آنکھیں موند لینے والے نہیں ہوتے، یا پھر اپنی بعض محدود خواہشات کی تکمیل کیلئے امت کو گڑھے میں گرنے کیلئے نہیں چھوڑ دیتی، اور وہ سودا فروشوں میں ضمیر فروشی کی بولی لگانے نہیں دیتے_* *غور کیجئے_! کالجز اور یونیورسٹیز کو کوسنے والے خود اپنی چہار دیواری میں قید ہیں، الحاد و کفر کا فتوی دینے اور ان اداروں کو فحش کا اڈہ بتانے والے اپنے مقدس و پاکیزہ اداروں میں تسبیح خوانی کر رہے ہیں، جلسہ و جلوس بھی جاری ہیں، اسٹیج چھوڑنے کو کوئی تیار نہیں ہے، اور عین میدان کارکاز میں صرف قنوت نازلہ پڑھ کر دلوں کو تسلی دی جارہی ہے، لیکن اس کے برعکس کالجز اور یونیورسٹیز کے وہی طلباء اور طالبات نے ملک و ملت کی لاج رکھ لی ہے، وہ حکومت کی مسلم کش پالیسی کے سامنے سد سکندری کا کام کر رہے ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ جب مستقبل میں ہماری نسلیں اس دور کے فکری جنگ کے بارے میں پڑھیں گی، تو کیا تاثر لیں گی_!!! جس طرح ماضی کے تذکرہ سے ہمارا سینہ فخر سے اونچا ہوجاتا ہے، یقنا ان کی آنکھیں موجودہ دور میں علماء و مدارس کے کردار پر مارے شرم کے جھک جائیں گی، وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ دو بالشت پیٹ، اپنی تقدس اور مصلحت کی خاطر مدارس و علماء نے پورے ملک کو آگ میں جھونک دیا تھا، وہ گوشہ عافیت میں بیٹھ کر مرغ مسلم توڑ رہے تھے، جلسہ و جلوس کر رہے تھے، مسئلہ ہ کی نزاکت سے آنکھیں بند کئے اپنے دائرے میں مگن تھے، تاویلات کا سہارا لیکر خود کو بچاتے تھے، احتجاج کو کامیاب. بنانے کے کے بجائے اپنے بینر کی فکر کرتے تھے، وہ خود غرض ہوگئے تھے، ملک کی لٹتی پٹتی کیفیت پر اپنی بزرگی کا توا گرم کر رہے تھے، خواتین اسلام نے نقاب تک اتار دیا تھا اور وے شامیانے تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھیں؛ لیکن مدارس اپنے حلقوں میں گم تھے، اور انتظار کر رہے تھے کہ کوئی چمتکار ہوجائے، کوئی عجوبہ ہوجائے۔!!!! غرض مَیں کیا کہُوں تجھ سے کہ وہ صحرا نشیں کیا تھے جہاںگیر و جہاںدار و جہاںبان و جہاںآرا اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی کہ تُو گُفتار وہ کردار، تُو ثابت وہ سیّارا گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا Mshusainnadwi@gmail.com 7987972043 18/01/2020
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔