طے شدہ قیمت میں ہی سامان دینا گو کہ قیمت گھٹ گئی ہو

*????سوال وجواب????*

????مسئلہ نمبر 1259????

(کتاب البیوع، باب الوعد)

*طے شدہ قیمت میں ہی سامان دینا گو کہ قیمت گھٹ گئی ہو*

سوال: اگر کوئی ریٹیل دکاندار کو آخری لمحے میں ہول سیل مارکٹ سے طے شدہ قیمت سے بھی کم قیمت پر سامان مل گیا ہے۔اور ریٹیل دکاندار کا اپنے گاہگ سے پہلے معا ملہ طئے ہے تو گاہگ کو بھی کم قیمت پر سامان فروخت کرنا ہے یا طئے شدہ رقم لی جا سکتی ہے؟ کیا حکم ہے؟ (ریاض احمد جاکٹی
ممبئ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب و باللہ التوفیق

عقد کرتے وقت جو قیمت متعین ہوئی تھی اتنی قیمت بائیع کے لئے لینا درست ہے، بشرطیکہ غبن فاحش نہ ہو، مذکورہ بالا صورت میں اگر سامان سستا ہوجانے یا ریٹیلر کے اپنی ذاتی تعلقات کی بناء پر کچھ کم میں سامان مل گیا تو یہ اس کے لیے ہے، چاہے تو اپنے گراہک سے کم کردے اور چاہے تو حسب وعدہ بیع اتنی ہی قیمت پر سامان حوالہ کرے جس پر معاملہ طے ہوا تھا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*????والدليل على ما قلنا????*

(١) للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء. (الفقه الإسلامي و أدلته ٥٥٢/٦)

الغبن الفاحش ما لم يدخل تحت تقويم المتقومين. (رد المحتار على الدر المختار ٣٦٣/٧)

و إذا وقع الوعد أو المواعدة على شراء شيء أو بيعه بصيغة جازمة وجب على الواعد ديانة أن يفي به. و يعقد البيع حسب وعده. (فقه البيوع ٢/١١٣٨)

*كتبه العبد محمد زبير الندوى*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 14/1/1442
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔