*لن تجد لفطرة اللہ تبدیلا*
تم اللہ کی بنائی ہوئی فطرت و عادت میں ہرگز کوئی تبدیلی اورچینجنگ نہیں پاؤ گے۔۔۔
خاندانی خصوصیات اور عادات و اطوار ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔۔ جس خاندان میں مال کی محبت اور حرص زیادہ ہوتی ہے، ان کی اولاد میں بھی وہ چیز منتقل ہوتی ہے،اور جس خاندان میں سخاوت، شرافت اور مروت ہوتی ہے، ان کی اولاد میں بھی وہ چیزیں منتقل ہوتی ہیں۔ اسی حقیقت کو پیارے آقاﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے، الناس معادن کمعادن الذھب و الفضة۔ خیارھم فی الجاھلیة خیارھم فی الاسلام۔ (حدیث)
لوگوں کی مثال سونے اور چاندی کے کان کی سی ہے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں عادات و اخلاق کے اعتبار سے اچھے تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی اسلام کے بعد اچھے اور وی آئی پی اخلاق کے رہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں سخت تھے زمانہ اسلام میں بھی سخت رہے ، ہاں سختی کا رخ بدلا، وہ سختی اور شدت ختم نہیں ہوئی۔ پہلے کفر کے لیے غصہ تھا بعد میں اسلام کے لیے غصہ کرتے تھے۔
نہ فطرت بدلتی ہے اور نہ خاندانی عادات و اطوار اور اخلاق و کردار ۔اسی لیے کہا جاتا ہے جبل گردد جبلت نمی گردد۔۔
)اگر کوئی تم سے کہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ہٹ گیا تو مان لینا لیکن اگر کوئی کہے کہ فلاں کی فطرت و عادت بدل گئی تو بہت کم اس کو ماننا۔۔ (
انسان باپ دادا ہی کا نہیں بلکہ چچا اور چچا زاد بھائیوں اور پھوپھیوں تک کا بھی اثر قبول کرتا ہے، چاہے جتنی قابلیت و صلاحیت پیدا کرلے اور دولت کی ریل پیل ہوجائے، یا عہدہ اور منصب کے اعتبار سے آئی اے ایس بن جائے یا آئی پی ایس بن جائے۔۔ اگر یقین نہ ہو تو اپنے آس پاس گرد و پیش اور خود اپنے خاندان کا جائزہ لے لیجئے، یہ ایک ایسا آئینہ ہے،جس میں آپ اپنے چہرہ کو اور دوسرے کے چہرے کو خود بخود دیکھ لیں گے۔ کہ آپ کے اندر خاندانی خصوصیات اور عادات و اطوار ہیں یا نہیں؟
اس کلیہ میں بعض استثنائی شکلیں ہوسکتی ہیں، لیکن پھر بھی یہ کلیہ، کلیہ ہی ہے۔۔ الحمدللہ تحدیث نعمت کے طور پر بتاؤں کہ ہم نے علم نفسیات کا مطالعہ کیا ہے اورخاص طور پر عربوں کی نفسیات میرے مطالعہ ????✏ کا محبوب موضوع ہے۔
محمد قمر الزماں ندوی
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔