*عورت کا جمعہ کا خطبہ دینا اور مرد کا نماز پڑھانا*
*سوال:* یہ ھے کہ آج کے حالات میں جس گاؤں میں یا قصبہ میں جمعہ کی نماز ھوتی رھی ھے اور اس وقت مسجد میں حکومت کی طرف سے صرف 5 آدمی کو نماز پڑھنے کی اجازت ھے تو اس صورت میں پانچ سات آدمی مل کر گھر میں جمعہ کی نماز پڑھنے لگے؛ لیکن ان میں سے جمعہ کا خطبہ کوئی پڑھنا نہیں جانتا ھے ایسی صورت میں ایک 22 سال کی گھر کی ھی لڑکی نے جنتری سے دیکھ کر خطبہ پڑھ دیا اور لڑکی کے باپ نے نماز پڑھائی تو کیا نماز صحیح ھوئی یا نہیں؟ برائے مہربانی جلدی جواب دیں تاکہ کل جمعہ میں آسانی ھو۔ (محمد عبیداللہ مقبول غیاث پور سنگھواڑہ ضلعه دربھنگہ بہار)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
خطبہ نماز جمعہ کی شرائط میں سے ہے، چنانچہ بغیر خطبے کے نماز نہیں ہوگی اور چونکہ عورت خطبہ جمعہ کی اہل نہیں ہے؛' اس لئے اس کا دیا ہوا خطبہ معتبر نہیں ہوگا اور جب خطبہ معتبر نہیں تو نماز جمعہ بھی صحیح نہیں ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
*????والدليل على ما قلنا????*
(١) ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﻭاﻟﺼﺒﻲ اﻟﻌﺎﻗﻞ ﻓﻼ ﻳﺼﺢ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﺇﻗﺎﻣﺔ اﻟﺠﻤﻌﺔ؛ ﻷﻧﻬﻤﺎ ﻻ ﻳﺼﻠﺤﺎﻥ ﻟﻹﻣﺎﻣﺔ ﻓﻲ ﺳﺎﺋﺮ اﻟﺼﻠﻮاﺕ ﻓﻔﻲ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﺃﻭﻟﻰ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ٢٦٢/١ كتاب الصلاة باب الجمعة)
حتى لو صلوا بلا خطبة أو خطب قبل الوقت لم يجز كذا في الكافي (الفتاوى الهندية ٢٠٧/١ كتاب الصلاة باب الجمعة)
والمرأة لا تخطب في الناس، ولا ترفع صوتها بالأذان، ولكن يمكن أن تؤم النساء. (المرأة والإمامة ويكيبيديا)
فقال: التسبيح للرجال والتصفيق للنساء رواه البخاري، فإذا كان لم يشرع لها أن تقول: سبحان الله عند الحاجة تنبيهاً للإمام وهي خلف الرجال أفتظنون أنه يسمح لها أن تكون إمامة للرجال وتعتلي منابر الجمعة لتخطب بهم فأين عقول أولئك القوم؟ تباً لعقولهم، (لا مرحباً بخطيبة الجمعة للشيخ صالح المنجد عبر الانترنت)
*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مورخہ 14/8/1441
رابطہ 9029189288