قبروں پر دودھ یا غلہ یا شیرینی وغیرہ لے جا کر چڑھانے کا مقصد نذرلغیر اللہ ہوتی ہے۔ فقہاء کرام نے یہ صراحت کی ہے کہ نذرلغير الله حرام ہے اور اس چیز کا کھانا بھی حرام ہے، اس سے بچنا ضروری اور لازم ہے۔ ۔واللہ اعلم بالصواب۔ (مستفاد: فتاوی قاسمیہ ( مجموعة الفتاوی ۲/ ۳۹۰)ومما يوخذ من الدراهم و الشمع والزيت و غيره تنقل إلى ضرائحالأولياء تقربا إليهم فحرام بإجماع المسلمين، و أما النذر الذي ينذره أكثرالعوام على ما هو مشاهد كأن يكون الإنسان غائب إلى قوله) فهذا النذرباطل بالإجماع لوجوه منها أنه نذر مخلوق، والنذر للمخلوق لا يجوز ل??نه عبادة، والعبادة لا تكون للمخلوق.(البحر الرائق، کتاب الصوم، فصل في النذر،زکریا ۵۲۰/۲ -۵۲۱ فتاویٰ ہندیہ جلد کا نمبر ۱صفحہ نمبر۲۱۶ ???????????????????????????????????????????????????????? اسکو پڑھئے، سمجھئے،عمل کیجٸے،اورآگےبھیجئے ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار HIDAYATULLAH TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں CONTACT NO 6206649711 ????????????????????????????????????????????????
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔