قیمتی پتھر کے ہار پر زکاۃ کا حکم

*پیام شریعت*

☪ ٣٠شعبان المعظم١٤٤١ھ

???? 24 اپریل2020

???? بروز۔ *جمعہ*

???? *مسئلہ* ????

✒ قیمتی پتھر کے ہار پر زکاۃ کا حکم۔

???? زکاۃ سونا، چاندی، نقدی اور مالِ تجارت پر لازم ہوتی ہے،لہذا اگر کسی کے پاس قیمتی پتھروں کا ہار ہولیکن وہ تجارت کے لیے نہ ہو تو اس ہار پر زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔

(مستفاد: فتاوی بنوریہ

???? فتاوی ہندیہ"وأما اليواقيت واللآلئ والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليًا إلا أن تكون للتجارة، كذا في الجوهرة". (180/1ط: رشیدیه) ????

حدیث النبیﷺ۔۔وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَكْشِفُ رَبُّنَا عَنْ سَاقِهِ فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ فِي الدُّنْيَا رِيَاءً وَسُمْعَةً فَيَذْهَبُ لِيَسْجُدَ فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا» . مُتَّفق عَلَيْهِ

حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ ہمارا رب (روزِ قیامت) اپنی پنڈلی ظاہر کرے گا تو ہر مومن مرد اور مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ ریز ہو جائیں گے ، صرف وہی باقی رہ جائے گا جو دنیا میں ریا اور شہرت کی خاطر سجدہ کیا کرتا تھا ، وہ سجدہ کرنا چاہے گا لیکن اس کی کمر تختہ بن جائے گی (اور وہ سجدہ کے لیے جھک نہیں سکے گی) ۔‘‘ متفق علیہ ۔

أوکماقال النبی ﷺ۔

(مشکوةشریف حدیث نمبر ٥٥٤٢ )

ناقل✍ہدایت اللہ قاسمی

خادم مدرسہ رشیدیہ ڈنگرا،گیا،بہار

HIDAYATULLAH

TEACHER MADARSA RASHIDIA DANGRA GAYA BIHAR INDIA

نــــوٹ:دیگر مسائل کی جانکاری کے لئے رابطہ بھی کرسکتے ہیں

Whatsapp.NO

6206649711

????????????????????????????????????????????????

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔