*سوال:* اکثر کمپنیاں جب آپ کو لائیسینس جاری کرتی ہیں جیسے بھارت انڈین ہندوستان پیٹرولیم گیس وغیرہ تو یہ کمپنیز اس فرم سے جس کو لائسینس جاری کیا ہے ایڈوانس میں لاکھوں روپے سکیورٹی کے نام سے لے لیتی ہیں اور کہتی ہیں کہ جب تم یہ کام کرنا بند کرو گے تو یہ رقم آپ کو واپس مل جائے گی تو نہ تو فرم اپنا بزنس بند کرے گی اور نہ ہی یہ کمپنی سکیورٹی کی رقم واپس دے گی، سوال یہ ہے کہ اس سکیورٹی والی رقم پر اس صورت حال میں فرم اس کی زکوٰۃ ادا کرے گی یا نہیں؟ (المستفتی فیض عزیزی چمن پارک مصطفی آباد دہلی ۹۴)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
سیکورٹی یا ضمانت کے طور پر جو رقم دی جاتی ہے وہ اصلا دینے والی کی ملکیت ہوتی ہے، اصولی طور پر اس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے؛ لیکن جو صورت آپ نے لکھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنیاں ایسی رقم کو اپنی ضروریات میں استعمال کرتی ہیں اور عموماً وہ رقم واپس نہیں لی جاتی، فقہی نقطۂ نظر سے یہ دین ضعیف کی صورت ہوجاتی ہے جس میں دیئے ہوئے مال پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ہے، جب رقم مل جائے تو آئندہ اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی، چنانچہ صورت مسئولہ میں سیکورٹی کے طور پر دی گئی رقم پر زکوٰۃ نہیں ہوگی، ہاں بالاتفاق اگر چند سالوں کے بعد وہ رقم مل جائے تو سال پورا ہونے پر اس کی زکوٰۃ نکالی جائے گی، گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
*????والدليل على ما قلنا????*
(١) ﻭﺃﻣﺎ اﻟﺪﻳﻦ اﻟﻀﻌﻴﻒ ﻓﻬﻮ اﻟﺬﻱ ﻭﺟﺐ ﻟﻪ ﺑﺪﻻ ﻋﻦ ﺷﻲء ﺳﻮاء ﻭﺟﺐ ﻟﻪ ﺑﻐﻴﺮ ﺻﻨﻌﻪ ﻛﺎﻟﻤﻴﺮاﺙ، ﺃﻭ ﺑﺼﻨﻌﻪ ﻛﻤﺎ ﻟﻮﺻﻴﺔ، ﺃﻭ ﻭﺟﺐ ﺑﺪﻻ ﻋﻤﺎ ﻟﻴﺲ ﺑﻤﺎﻝ ﻛﺎﻟﻤﻬﺮ، ﻭﺑﺪﻝ اﻟﺨﻠﻊ، ﻭاﻟﺼﻠﺢ ﻋﻦ اﻟﻘﺼﺎﺹ، ﻭﺑﺪﻝ اﻟﻜﺘﺎﺑﺔ ﻭﻻ ﺯﻛﺎﺓ ﻓﻴﻪ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﻘﺒﺾ ﻛﻠﻪ ﻭﻳﺤﻮﻝ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺤﻮﻝ ﺑﻌﺪ اﻟﻘﺒﺾ. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ١٠/٢ كتاب الزكاة فصل الشرائط التي ترجع إلى المال)
*كتبه العبد محمد زبير الندوي*
دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا