لاک ڈاؤن میں حیوانات کا خیال رکھیں 

از: ظفر احمد خان ندوی

چھرا، دھرم سنگھوا بازار، سنت کبیر نگر، یوپی
                 zafarkabeeri@gmail.com
 
            اسلام دین فطرت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل دین اور مستقل تہذیب ہے، امن وسلامتی کے اس مذہب نے زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں چھوڑا جس میں اپنے ماننے والوں کی راہنمائی نہ کی ہو، اسلام نے جہاں انسانوں سے انسانیت حسن اخلاق اور محبتوں سے ملکر اتحاد اتفاق سے رہنے کا درس دیا وہیں جانوروں کے حقوق سے بھی آگاہ کیا اور ہر جان دار کے کچھ حقوق متعین کئے ہیں، اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ جانوروں کے حقوق کو بھی سنت رسول سجھتے ہوئے ادا کریں، ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اللہ کی مخلوق کو زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو۔
       کورونا وائرس نے پوری دنیا میں ایک اضطرابی اور اضطراری کیفیت پیدا کر دی ہے، ایک طرف جہاں سائنسدانوں اور دنیا کے صف اول کے طبی ماہرین نے عاجز و بے بس ہو کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں وہیں دوسری جانب اس سے پیدا ہونے والی صورتحال نے معاشی اور سماجی خطرہ بن کر پوری دنیا کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لے لیا ہے۔ سماجی رابطوں میں کمی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات لوگوں کے تحفظ کے لیے تو ضروری ہیں مگر اس سے معمولات زندگی کے بعد جہاں سب سے زیادہ  ناخواندہ ، غریبوں ، مزدوروں محنت کشوں اور یومیہ کام کرنے والوں کے سامنے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، بڑے بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہروں اور دور دراز کے علاقوں سے مزدوروں کی ایک بڑی تعداد کو کاروبار کی بندش کے بعد اپنے آبائی علاقوں کو جانے پر مجبور پڑا، اس صورت حال سے ہمارے آس پاس رہنے والے حیوانات و چوپائے اور لوگوں کے بچے کھچے کھانوں پر زندگی گزارنے والے جانور بھی مستثنیٰ نہیں ہیں، ان کے کھانے پینے کا بھی مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، ایسے موقع پر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
          حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک شخص جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس لگی، اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا۔ پھر باہر آیا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ اس نے (اپنے دل میں) کہا، یہ بھی اس وقت ایسی ہی پیاس میں مبتلا ہے جیسے ابھی مجھے لگی ہوئی تھی۔ (چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا اور) اپنے چمڑے کے موزے کو (پانی سے) بھر کر اسے اپنے منہ سے پکڑے ہوئے اوپر آیا، اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام کو قبول کیا اور اس کی مغفرت فرمائی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہمیں چوپاؤں پر بھی اجر ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر تر جگر والے(جاندار) میں ثواب ہے۔(صحیح بخاری)
 امام نوویؒ کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جو قول ہے (ہر تر جگر والی چیز میں اجر ہے) اس کا معنی یہ ہے کہ ہر زندہ جان دار چیز کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، اس کو پانی پلا کر یا اس طرح کے اور طریقوں سے، اس میں اجر ہے اور ہر زندہ کو تر جگر والے کا نام اس لیے دیا ہے کیوں کہ مردے کا جسم اور جگر خشک ہوجاتے ہیں۔
          ایک دوسری روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے تو وہاں موجود ایک اونٹ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے ، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا ، اس کے بعد پوچھا: یہ اونٹ کس کا ہے؟، ایک انصاری جوان آیا ، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے ، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا مارتا اور تھکاتا ہے- (سنن أبي داؤد)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی غذا، ان کے کھانے پینے کا انتظام اور بیماری وصحت کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے.
         جانوروں کو ستانے یا ان کو تکلیف دینے کی صورت میں سخت عذاب کی دھمکی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت کو بلی کے مارنے کی وجہ سے عذاب ہوا، اس نے بلی کو پکڑ کر رکھا یہاں تک کہ وہ مر گئی پھر اسی بلی کی وجہ سے وہ جہنم میں گئی (قاضی عیاض رحمہ اللہ علیہ نے کہا شاید وہ کافر ہو گی اور اس قصور سے اس کی سزا اور بڑھ گئی۔ نووی رحمہ اللہ علیہ نے کہا یہ صحیح ہے کہ وہ مسلمان تھی لیکن اس گناہ کی وجہ سے جہنم میں گئی اور یہ گناہ صغیرہ نہیں ہے بلکہ اس کے اصرار سے کبیرہ ہو گیا اور حدیث میں یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گی) اس نے بلی کو نہ کھانا دیا نہ پانی جب اس کو قید میں رکھا نہ اس کو چھوڑا کہ وہ زمین کے جانور کھاتی۔(صحیح مسلم)
               ایک اور حدیث میں ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: کہ ایک چیونٹی نے ایک نبی(عزیر یا موسیٰ علیہ السلام) کو کاٹ لیا تھا ۔ تو ان کے حکم سے چیونٹیوں سے سارے گھر جلا دئیے گئے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ اگر تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو تم نے ایک ایسی خلقت کو جلا کر خاک کر دیا جو اللہ کی تسبیح بیان کرتی تھی ۔(صحیح بخاری)
رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو وقت پر چارہ اور پانی دینے کا عام حالات میں حکم دیا ور ان کو پریشان کرنے اور ان کی طاقت سے زائد ان پر بوجھ لادنے سے منع فرمایا۔ آج جب لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، ان حیوانا?? کے لئے بھی خوراک اور غذا کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا جو لوگ گھروں میں جانور یا پرندے پالتے ہیں انہیں چاہئے کہ اُن کے کھانے اور پانی کا ضرور خیال رکھیں خاص طور پر گرمیوں میں تو وقتاً فوقتاً پانی پلاتے رہیں۔ انسانوں کی طرح جانوروں اور پرندوں کو پانی پلانا بھی کارِ ثواب ہے، اس کے علاوہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم بھی اسوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اپنے پالتو جانوروں اور دوسرے سب جانوروں کاخیال کریں ان کو تکلیف نہ پہنچائیں، ان کی غذا اور خوراک کا خیال رکھیں، اللہ ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا پیکر بنائے، ہمارے حال پر رحم فرمائے اور کرونا جیسے خطرناک وبائی مرض اور دیگر تمام امراض سے حفاظت فرمائے ، آمین.

 

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔