سوال: جن شہروں میں لوک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے نمازِ عیدالاضحی نہیں ہوسکتی ہے تو وہاں کے لئے قربانی کس وقت کریں گے، زوال سے پہلے یا زوال کے بعد۔ (عبداللہ بہرائچ یوپی)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب و باللہ التوفیق
یہ حقیقت ہے کہ کروانا وائرس اور لوک ڈاؤن نے لوگوں کے نظام زندگی کو درہم برہم کردیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے شہروں میں بڑے پیمانے پر عید الاضحی کی نماز باجماعت کا قیام مشکل ہوگا، لیکن بالکلیہ نماز بند نہیں ھوگی، مساجد میں بھی محدود تعداد میں لوگ نماز ادا کریں گے، اسی طرح گھروں میں بھی عیدالاضحی کی جماعت کا اہتمام ہوسکتا ہے، ظاہر ہے کہ ان صورتوں میں نماز بالکلیہ ختم نہیں ہورہی ہے؛ اس لیے عید الاضحی کی نماز کے بعد قربانی کرسکتے ہیں، اس میں حرج نہیں ہے؛ البتہ ایسے شہر جہاں کسی بھی صورت نماز عیدالاضحی نہ ہوسکے وہاں کے لوگ زوال کے بعد قربانی کریں۔ واضح رہے کہ یہ حکم شہروں کے لئے ہے، گاؤں اور دیہات کے باشندے عید الاضحی کی نماز سے پہلے بھی قربانی کرسکتے ہیں اور بعد میں بھی، ان کی قربانی کے لیے نماز کی شرط نہیں ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
التضحية لا يختلف وقتها بالمصري و غيره بل شرطها، فاول وقتها في حق المصري و القروي طلوع الفجر، إلا أنه شرط للمصري تقديم الصلاة عليها فعدم الجواز لفقد الشرط لا لعدم الوقت كما في المبسوط. (رد المحتار على الدر المختار ٤٦٠/٩ كتاب الاضحية، زكريا جديد)
و لو كانت الاضحية في المصر لم يصح قبل صلاة العيد، فان صلى قبل في أحد المسجدين إما في مسجد الجبانة أو في المسجد الجامع ثم ذبح جاز. (الفتاوى السراجية ص ٣٨٨)