???? *صدائے دل ندائے وقت*????(871)
*لاک ڈاؤن کا مطلب اب سمجھ میں آتا ہے.*
*چہرے پر اداسی کی لکیریں، خد وخال تنے ہوئے، اعصاب شکن خوردہ، دل و دماغ میں الجھن، اپنوں کو دیکھنے کی تڑپ، دوسروں کو سننے کی للک، غم بانٹنے اور خوشیوں کا جشن منانے کیلئے دوست کی کمی، بھوک کی وجہ سے پیٹ کی آنتیں سکڑی ہوئیں، سب کچھ ایسا جیسے کہ باغ کا سب سے خوبصورت پھول مرجھا گیا ہو، بغیر پانی اور کھاد کے اس نے دم واپسیں کا مرحلہ طے کرنے کی ضد کرلی ہو، پھول کی خوشبو بھی گئی، رعنائی اور رونق بھی کافور ہوگئی، نظروں نے کبھی پلٹ کر کہیں باہر کی دنیا دیکھ بھی لی تو ویرانی کی دہشت نے خوفزدہ کر دیا، گھر کے در و دیوار کاٹنے کو دوڑتے ہیں، ایک رنگ ایک ہی ڈھنگ نے ساری رنگینیاں ہی مٹار رکھ دیں، زندگی بے رنگ ہوگئی، صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے، نہ چاند کی چاندنی راس آئے، نہ سورج کی گرماہٹ بھائے، ایسا لگتا ہے کہ ایک طویل و عریض صحرا ہے، دھول اڑتی ہوئی، سراب پنپتی ہوئی، بے کس اور مجبور سورج کی تپش میں جھلستی ہوئی وہ ریت ہے، جسے ریگستان کا بھی حصہ صحیح سے نہ ملا ہو، کچھ ایسا ہی تو ہے یہ لاک ڈاؤن، اور قرنطینہ کی زندگی کا احساس؛ بلکہ کہنا یہ چاہئے کہ اب احساس ہی کہاں، دل ناداں کے پاس اب رہا ہی کیا ہے، مگر وہ سوچتا ہے کہ ایسی تصویر پہلے بھی شاید کہیں دیکھی ہے، کسی نے ہم سے پہلے بھی یہی غم کھایا ہے، جس کا غم غلط بھی نہ ہوا کہ سبھی اسی غم میں مبتلا ہوگئے، کچھ یاد کیجیے، ذرا ذہن کے پاٹ کھولئے، دماغ پر زور ڈالئے__!!*
*جی تھوڑا اور سوچئے __ یہ دماغ کہیں آپ کو کشمیر کی وادی کی طرف تو نہیں لیجاتا ہے، بالکل درست ہے، یہ یہی وادی ہے جہاں اگست ٢٠١٩/ سے دفعہ ٣٧٠ ہٹائے جانے کے بعد بے بس اور مجبور خواتین کی کھڑکیوں سے جھانکتی تصویریں دیکھی گئی تھیں، جن کے سروں پر دوپٹے، آنکھوں میں نمی تھی، وہ بچے اور بچیوں کے ساتھ امید کی ترستی نگاہوں اور مدد کی آہوں کے ساتھ ہماری طرف دیکھ رہے تھے، جنہوں نے ایک ہی گھر میں سات مہینہ گزارے، اور اب بھی تقریباً اسی کیفیت میں ہیں، ہم اکیس دن کا لاک ڈاؤن نہیں جھیل پارہے ہیں، وے تو مہینوں اسی مرحلے سے گزرتے رہے، پل پل جیتے اور لمحہ لمحہ مرتے رہے، انہوں نے اپنا درد ہم سے کہا، ہم سے مدد کی گہار لگائی، مگر ساری دنیا نے ان سے آنکھیں موند لیں، وہ چلاتے رہے کہ ہندوستان کی نولاکھ فوجیں ہم پر مسلط ہیں، ہم ایک چھوٹے گھر میں قید ہیں، سبزیاں ختم ہوگئی ہیں، بازار بند ہوگیا ہے اپنے کھیت میں لگائی گئی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، کوئی سن لے، کوئی مدد کو آئے، مگر کسی نے نہیں سنا، وہ کہتے رہے ہمارے گھروں میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، انہیں دفنانے کا کوئی بند وبست نہیں ہے، ہمارے بچوں کو قید خانے میں ڈال دیا ہے، رات کی تاریکی میں جگر گوشے کو اٹھا لے گئے ہیں، ماؤں اور بہنوں کی عزتیں داؤ پر لگی ہیں؛ لیکن کسی نے یقین نہ کیا، دیکھئے آج انہی بے کسوں کی آہوں نے دنیا کو کیا سوغات دیا ہے، آج ہر کوئی خود کو اسی حال میں رکھے ہوئے ہے، بلکہ اسی میں اس کی بھلائی ہے، ورنہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے.*
*خدا کی قدرت بھی کتنی بلند و ارفع ہے، جب اس کے معصوم بندوں کو بے جا ستایا جاتا ہے، ان ہر ظلم کیا جاتا ہے تو ان پر کئے گئے مظالم کی وہی قسم ان ظالموں پر مسلط کردی جاتی ہے، چنانچہ کشمیر میں جس طرح امن و انصاف کے نام پر لاک ڈاؤن کر کے اپنی پیٹھ تھپتھپائی گئی، آج وہی صحت سبھی کی بیماری بن گئی ہے، بلکہ پوری دنیا اسی مرض سے جوجھ رہی ہے، اور چیخ چیخ کر اپنے اپنے رب کو یاد کر رہی ہے، اپنی بے بضاعتی کا اعتراف کر رہی ہے، وہ انسانوں کو انسان کی نظر سے دیکھنے لگی ہے، ان کے سامنے مذاہب، نسل و نسب کا فرق ختم ہوگیا ہے؛ حالانکہ اب بھی وہ کشمیر کی صورتحال سے کافی دور ہیں، وہ تو ضروری سامان اور انٹرنیٹ سے بھی محروم تھے، ہمارے پاس تو شیطان کی اسپیڈ والا نیٹ موجود ہے، اور وسائل بھی قبل قدر فراہم ہیں، بہرحال یہ ضروری نہیں کہ سبھی کرونا وائرس سے متاثرین کشمیر کی سزا کاٹ رہے ہوں؛ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ان کی سزا کا کچھ حصہ وہاں سے بھی آتا ہے، بلکہ کہنا تو یہ چاہیے کہ صرف وہیں سے ہی کیوں میانمار میں نسل انسانی کی جڑ کاٹی گئی، مسلم کشی کا ننگا کھیل کھیلا گیا مگر سبھی دیکھتے رہے.*
*شام کے لوگ ہجرت کرتے رہے، وہ ملک دنیا کا سب سے خطرناک ملک بن گیا، مہاجرین سمندروں میں ڈوب گئے، وہاں کے بچوں اور بوڑھوں نے کیمپوں میں زندگی گزاری، جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، دنیا کے اکثر حصوں میں مسلمانوں کو خیموں، ڈٹینشن کیمپوں میں رہنے پر مجبور کردیا گیا ہے، ایک بڑی تعداد پر ظلم ہوتا رہا؛ لیکن کسی نے ان کی آواز نہ سنی، چنانچہ آج پوری دنیا قرنطینہ کی زندگی گزار ہی ہے، لاک ڈاؤن ہے، ایک وائرس نے سب کچھ تباہ کردیا ہے، یہ سمجھنے کی چیز ہے کہ قدرت نے وسائل زندگی میں ہر ایک کا حق رکھا ہے اگر ظلم ہوگا، ناانصافی ہوگی اور اسے روکنے کیلئے دست و بازو کم پڑیں گے تو یقیناً قدرت خود اس کا انتظام کردے گی، کیونکہ سبھی رب کے بندے ہیں، روٹی کا حق سبھی کا ہے، زندگی گزارنے اور جینے کی آزادی ہر ایک کو ہے، انسان خدا کی قدرت کا حیران کن نمونہ ہے، وہ اس دنیا کا سرتاج ہے، وہی سب سے زیادہ مستحق ہے کہ زندگی بسر کرے، قدرتی ذرائع سے فائدہ اٹھائے، ہر ایک کو کھانے پینے اور رہنے سہنے کی آزادی نصیب ہو، انسان کا کوئی حق نہیں کہ وہ دوسروں پر لاک ڈاؤن کرے، اسے قید کرے، اسے بے جا سزا دے، اگر ایسا ہوگا اور اسے روکنے کیلئے انسانی ہاتھ شل ہوجائیں گے، تو بلاشبہ نظام الہی خود لاک ڈاؤن کردے گی، جب کشتی میں سوراخ ہو تو یقیناً پانی پانی بھرے گا، اور بلا کسی امتیاز و تفریق کے ہر ایک کی آزمائش ہوگی.*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
02/04/2020