لوک ڈاؤن کی چھٹی میں اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ کا مسئلہ

*⚖سوال و جواب⚖*

*مسئلہ نمبر 1124*

(کتاب الاجارہ، جدید مسائل)

*لوک ڈاؤن (Lockdown) کی چھٹی میں اساتذہ و ملازمین کی تنخواہ کا مسئلہ*

*سوال:* کیا فرماتے ہیں علماءِ دين ومفتيانِ شرعِ متين مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کے نفاذ اور حکومت کی طرف سے تعطیلِ مدارس کے حکم کے پیشِ نظر احقر نے بھی مدرسے کی تعطیل کردی تھی، جس کی وجہ سے قریب کے اساتذہ کرام وملازمین تو کسی طرح اپنے گھروں پر چلے گئے لیکن دور کے رہنے والے لاک ڈاؤن کی دشواری کی وجہ سے گھر نہ جا سکے؛ بلکہ مدرسے میں ہی مقیم ہیں تقریباً ۲۱/ دن سے یہی صورتِ حال ہے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں اساتذہ کرام و ملازمین کے لیے تنخواہ کا جواز ہوگا یانہیں؟ اگر جواز ہو تو گھروں پر اور مدرسے میں مقیم سب کے لیے ہوگا یا کچھ تفصیل ہوگی؟ اور اگر تنخواہ کا جواز مذکورہ دونوں طرح کے لوگوں کے لیے ہو تو پھر سب کو ان کی متعینہ تنخواہ دی جا ئے گی یا کسی کے لیے کچھ تفصیل ہوگی؟ جبکہ تقرری کے وقت ایسے حالات سے متعلق کسی طرح کی (تنخواہ دینے اور نہ دینے کی) کوئی بھی شرط نہ تھی، براہِ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ بيّنوا توجروا

(المستفتی : احقر گل شیرعلی

مہتمم: جامعہ اشرف العلوم نگلہ ، تحصیل بڈھانہ ، ضلع مظفرنگر یوپی الہند)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

*الجواب وباللہ التوفیق*

اساتذہ اور ملازمین مدارس اور اداروں کے نہ صرف محسن ہوتے ہیں؛ بلکہ بنیادی پتھر اور اہم ستون ہوتے ہیں، اساتذہ اور ملازمین کی محنت و توجہ ہی سے ادارے آباد ہوتے اور اپنی معنویت پیدا کرتے ہیں؛ اس لئے اساتذہ کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ احسان کے پہلو کو قائم رکھنا نہایت ضروری ہے، حقوق کی رعایت کا بنیادی عنصر ان کی ضروریات زندگی کے لیے معقول تنخواہیں دینا اور بہت حد تک فارغ البال رکھ کر علمی کاموں میں معاونت حاصل کرنا بھی ہے؛ چنانچہ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ تمہارے ملازم تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے انہیں تمہارے زیر انتظام رکھا ہے؛ لہذا ان کے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے جیسی ضروریات کا خیال رکھو اور ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ مت ڈالو، اور اگر اس کی ضرورت ہی پڑ جائے تو ان کا تعاؤن کرو، اس حدیث کا پیغام یہی ہے کہ اپنے ما تحتوں اور ملازمین کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔

فقہی و شرعی نقطۂ نظر سے ادارے کے اساتذہ و ملازمین "اجیر خاص" ہیں یعنی وہ ادارے کی ضروریات کے لیے متعینہ اوقات کے لئے فارغ ہوچکے ہیں، متعینہ مدت میں اپنی حاضر باشی سے یہ حضرات اپنی اجرت کے مستحق ہوجاتے ہیں؛ اس لئے یہ حضرات شرعی نقطۂ نظر سے اپنی تنخواہوں کے مستحق ہیں اور انہیں تنخواہیں ملنی چاہئے؛ کیونکہ لاک ڈاؤن میں ان کا ذاتی قصور نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک ہنگامی صورت حال ہے جس سے ہر شخص پریشان ہے، خود انڈین گورنمنٹ نے بھی اپنے اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں بالکلیہ سوخت نہیں کی ہے، بلکہ ستر فیصد تنخواہ دینے کو کہا ہے؛ اس لئے وہ مدارس جن میں بجٹ موجود ہے انہیں چاہیے کہ پوری پوری تنخواہیں دیں، اور جن کے یہاں بجٹ کم ہے وہ حسب ضرورت تنخواہ دے دیں، باقی وسعت ہونے کے بعد دیں، اور وہ مدارس جن میں بالکل بجٹ نہیں ہے وہ بعد میں ہر مہینے کی تنخواہوں کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کر کے دے دیں، اس میں ادارہ اور مدرسین دونوں کا فائدہ ہے ادارہ کا فائدہ یہ ہے ہوگا کہ اساتذہ اور ملازمین لگے رہیں گے اور مدرسین و ملازمین کا بھی ادارہ پر اعتماد قائم ہوگا کہ وہ مصیبت کی گھڑی میں ان کے ساتھ تھے۔

اسی طرح وہ ملازمین جو مدارس میں ہیں اگر وہ مدرسہ کا کچھ کام کر رہے ہوں؛ مثلاً نگرانی، حساب کتاب، رسیدوں کی تیاری، یا مدرسہ کے تعاون کے لیے اصحاب خیر کی ذہن سازی تو ادارہ انہیں کچھ رقم بڑھا کر بھی تنخواہ دے سکتا ہے، ورنہ سب کو ان کی تنخواہوں کے بقدر دے۔ اس سلسلے میں تقرری کے وقت وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، بعض چیزیں وقت اور حالات کے مطابق طے کی جاتی ہیں اور عرف کا لحاظ کیا جاتا ہے؛ اس لئے اس بات کو لانے کی ضرورت نہیں ہے، سر دست اپنے ملازمین و اساتذہ کی مدد کی کوشش کریں اور اس اہم موقع پر ہر طرح ان کا ساتھ دیں، الله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه(١). فقط والسلام والله اعلم بالصواب.

*????والدليل على ما قلنا????*

(١) إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمْ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُ

(صحيح البخاري. ٢٥٤٥ كِتَابٌ : الْعِتْقُ | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " الْعَبِيدُ إِخْوَانُكُمْ، فَأَطْعِمُوهُمْ)

وقوله: " تحت أيديكم " مجاز عن القدرة أو الملك (فتح الباري بشرح صحيح البخاري ٢٥٤٥ كِتَابٌ : الْعِتْقُ | بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ : " الْعَبِيدُ إِخْوَانُكُمْ، فَأَطْعِمُوهُمْ ")

الأجیر الخاص من یستحق الأجر بستلیم النفس وبمضی المدۃ، ولا یشترط العمل في حقہ لاستحقاق الأجر۔ (تاتارخانیۃ، زکریا ۱۵/ ۲۸۱، رقم: ۲۳۰۷۴، ۲۳۰۷۵، المحیط البرہاني، المجلس العلمي ۱۲/ ۳۸، رقم: ۱۴۰۳۶، ہندیۃ، زکریا قدیم ۴/ ۵۰۰، جدید ۴/ ۵۴۳)

الأجیر الخاص: ہو الشخص الذي یستأجر مدۃ معلومۃ لیعمل فیہا، الأجیر المشترک: هو الذي یعمل لأکثر من واحد، فیشترکون جمیعا في نفسہ کالصباغ والخیاط۔ (فقہ السنۃ، دارالکتاب العربي ۳/ ۱۹۳)

“ولوقصرالاجیرفی حق المستاجرفنقصہ من العمل اواستزادہ فی الاجرمنعہ منہ”

(ابو یعلیٰ / الاحکام السطانیہ ص ٦٨٦)

المعروف بالعرف كالمشروط شرطا (قواعد الفقه ص ٨٢)

وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ (صحيح مسلم رقم الحديث ٢٦٩٩ كِتَابٌ : الذِّكْرُ وَالدُّعَاءُ وَالتَّوْبَةُ وَالِاسْتِغْفَارُ | بَابٌ : فَضْلُ الِاجْتِمَاعِ عَلَى تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ)

*كتبه العبد محمد زبير الندوي*

دار الافتاء و التحقیق مدرسہ ہدایت العلوم بہرائچ یوپی انڈیا

مورخہ 22/8/1441

رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔