مشترکہ خاندانی نظام کے حامی یہ کہتے ہیں کہ یہ خاندانی نظام ایک معہود و معروف چیز ہے، اسے غیر شرعی ، نامعقول اور ناقابل قبول نہیں کہا جاسکتا، اور ایک غریب باپ کو اس کا مکلف نہیں بنایا جا سکتا کہ وہ ہر لڑکے کی شادی سے پہلے الگ مکان مہییا کرائے، اور شادی کرکے اسے الگ مکان میں شفٹ کردے۔۔
مولانا مفتی محبوب علی وجیھی رام پور مشترکہ خاندانی نظام کی وکالت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
"اسلام کی نظر میں مشترکہ خاندانی نظام بہتر ہے، حضور ﷺ نے اجتماعی مفاد کے تحفظ اور اس کے مستقبل کی تعمیر کے لیے انفرادی مفاد کو نظر انداز کیا ہے، جیسا کہ صلح حدیبیہ کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتماعیت کا لحاظ رکھتے ہوئے حطیم کو خانہ کعبہ میں شامل نہیں کیا، ایسے ہی اجتماعی حالات کے پیش نظر قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ ذخیرہ بنا کر رکھنے سے منع کیا تھا، تاکہ غرباء اور ضرورت مندوں تک زیادہ سے زیادہ گوشت پہنچے اور وہ محروم نہ رہیں، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی اور مختلف قسم کی ضرورتیں بیان ہوئیں، اور ہر ایک تک آسانی سے گوشت کی فراہمی ہونے لگی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذخیرہ کرکے رکھنے کی اجازت دے دی۔ حضور اکرم ﷺ نے منافقین کے قتل سے منع کردیا تھا تاکہ لوگوں کی نفرت اور یہ کہنے کا موقع نہ ملے اور یہ سبب نہ بنے کہ محمد ﷺ تو اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں، حالانکہ وہ منافقین طرح طرح کے فتنہ و فساد پھیلاتے رہتے تھے،اور مستحق قتل تھے، لیکن *مصلحة الاسلام اعظم من مصلحة القتل* کے تحت منافقین کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا، پھر جب یہ اندیشہ جاتا رہا اور اسلام کے غلبہ سے تالیف قلب وغیرہ کی مصلحت پہلی جیسی نہیں رہی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا، لہذا ان واقعات کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے ذاتی اور انفرادی مفادات کو نظر انداز کر کے ہمیشہ اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھا ہے۔ کیونکہ انفرادی اور شخصی مفاد کے مقابلہ میں اجتماعی مفاد اہم ہے، پس مشترکہ خاندانی نظام سے بوڑھے ماں باپ چھوٹے بھائی بہن اور یتیم و بیواؤں وغیرہ کو سہارا زائد ملتا ہے ان کی مدد ہوتی ہے اور ایسے بے سہارا لوگوں کی کفالت جو اس کے زیر نگرانی ہوں واجب ہے، رہا یہ مسئلہ کہ مشترکہ خاندانی نظام سے باہمی نزاع اور اختلاف پیدا ہوتا ہے، باہمی رشتے ٹوٹتے ہیں اور پردہ کا اہتمام دشوار ہو جاتا ہے ، تو اس معاملہ میں انسان کو اپنی حکمت عملی اور سیاست دینی سے کام لینا چاہیے اور گھر کے ماحول پر سخت نظر رکھنا چاہیے، نہ کہ گھر کے خراب ماحول سے متاثر ہوکر بوڑھے والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کو بے سہارا چھوڑ دینا چاہیے۔ ہاں اگر گھر کے تمام لوگوں کو ایک ساتھ رکھنے میں قوی جھگڑے اور دینی نقصان کا امکان اور اندیشہ ہو تو پھر اسے چاہیے کہ ایک کالونی یا ایک محلہ میں رہے اور قریب رہ کر ماں باپ اور دیگر لوگوں کی اپنے ذمہ میں پرورش کرے اور ان کی نگرانی کرے، لیکن بالکل کلیہ علاحدہ ہو کر ماں باپ وغیرہ سے دور رہنا درست نہیں ہے۔ "
(مشترکہ خاندانی نظام صفحہ ٣١٣۔ ٣١٤)
*مشترکہ خاندانی نظام کے محرکات*
جو لوگ مشترکہ نظام کو شرعا درست نہیں مانتے ان کے نزدیک
مشترکہ خاندانی نظام کے اصلا محرکات دو ہیں۔
١) جائداد کا ارتکاز، یعنی اس نظام کے پیچھے یہ ذہنیت کارفرما ہے کہ جس خاندان کے تمام افراد ایک ساتھ رہیں گے، تو اس خاندان کو اپنے ماحول میں تسلط اور بالا دستی حاصل ہوگی، اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ پورے خاندان کی جائیداد اکھٹا رہے گی۔ جس سے گھر کی مالی حیثیت مضبوط مستحکم رہے گی، گھر بٹیں گے تو جائداد تقسیم ہوگی، جس کے نتیجے میں خاندان مالی حیثیت سے کمزور ہو جائے گا۔ در اصل یہ سوچ ہندوستان میں برادران وطن کی ہے، اور عالمی طور پر یہودیوں کے یہاں یہ طرز عمل زیادہ ہے، اور یہ اسلام سے پہلے عرب کے جاہلی نظام کا پسندیدہ طرز معاشرت ہے۔۔
*مشترکہ نظام کی خامیاں اور خرابیاں*
یہ حقیقت ہے کہ عمومی حالت میں اسلام کا پسندیدہ َاور مطلوبہ خاندانی نظام، جداگانہ خاندانی نظام ہے، اور مشترکہ خاندانی نظام کو کبھی اسلام کا مطلوبہ خاندانی نظام نہیں قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ مشترکہ نظام کے معائب و نقائص اور اس کی خامیاں اتنی ہیں کہ انہیں شمار کرنا دشوار ہے۔۔ اس کی خامیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔۔ یہ نظام صرف نفسیاتی، اخلاقی،دینی، معاشرتی، اور معاشی و مالیاتی پہلووٕں ہی کے اعتبار سے ناپسندیدہ نہیں ہے بلکہ مشترکہ خاندانی نظام بسا اوقات جنسی عدم تسکین کا بھی سبب بنتا ہے، ذیل میں ہم اس نظام کے معائب و نقائص اور خامیوں کو قدر تفصیل سے بیان کریں گے۔۔۔
*معاملات کی خرابی*
اسلام اپنے ماتحتوں اور ماننے والوں کو اس کا مکلف بناتا ہے کہ وہ آپس کے معاملات میں صفائی رکھیں، حقوق و معاملات انتہائی صاف و شفاف رکھیں، اسے ہر طرح کے نزاع، اختلاف اور جھگڑے سے پاک رکھیں، قرآن و حدیث میں اس کی جانب بھرپور اشارہ کیا گیا ہے، اور اس کی بطور خاص تاکید کی گئی ہے۔ اسلام حقوق اللہ سے زیادہ حقوق العباد کی ادائیگی پر زور دیتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں مالیاتی پہلو سے بے ضابطگی ایک امر واقعہ ہے، ہر شخص کو ایک متعین رقم یا پوری کمائی جھونک دینے کا پابند بنانے میں خوش دلی کا حصہ کم اور معاشرتی جبر اور دباؤ کا دخل زیادہ ہوتا ہے۔۔ نیز ہر شخص کے لیے کھانے پینے میں ایک متعین نظام کی پابندی مشکل اور دشوار معاملہ ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چوری چھپے من پسند کھانوں پھلوں اور لباس وغیرہ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس ماحول میں چوری چکاری ، جھوٹ، فریب خیانت، اور دھوکہ دہی کی خصلت و عادت کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے اور ایک طرح سے اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔۔( مشترکہ خاندانی نظام اور اسلام / مشترکہ اور جداگانہ گانہ نظام) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔