مشترکہ نظام میں فضول خرچی اور لا پرواہی

*مشترکہ خاندانی نظام غور و فکر کے چند پہلو*

(17)

محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام، کنڈہ پرتاپگڑھ

*مشترکہ نظام میں فضول خرچی اور لا پرواہی*

بعض لوگ مشترکہ خاندانی نظام کا فائدہ یہ بتاتے ہیں، کہ اس نظام کی وجہ سے سرمایہ کی بچت ہوتی ہے، اور اس نظام سے کفایت شعاری کو فروغ ملتا ہے، اس لیے کہ اگر دس لوگوں کے لیے الگ الگ کھانا پکایا جائے تو خرچ زیادہ آئے گا، اور اگر دس لوگوں کا کھانا ایک جگہ بنایا جائے تو اس کے بالمقابل کم خرچ ہوگا، لیکن یہ مسئلہ کا بس ایک رخ ہے یہ تصویر کا ایک پہلو ہے، تصویر کا دوسرا رخ اور سکہ کا دوسرا پہلو بہت تکلیف دہ اور بھیانک ہے کہ مالیات مشترک ہونے کی وجہ سے ہر شخص اسے مفت مال سمجھ کرکے مال مفت دل بے رحم کا سلوک کرتا ہے اور اپنے ہی گھر کے سامان کو پرایا مال سمجھ کر نہایت بے احتیاطی اور بے دردی سے استعمال کرتا ہے، اور کھانے پینے کی چیزوں میں استعمالی سامانوں میں فضول خرچی اور لا پرواہی برتتا ہے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے ازواج مطہرات (نیک و پاک بیویوں) کے کھانے پینے کا مشترک نظام نہیں رکھا، حالانکہ رہائش الگ ہونے کے باوجود اگر کھانے کا نظم مشترک کر دیا جاتا تو قدرے بچت ہو جاتی ، لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ان کے مالی معاملات کو بھی ایک دوسرے سے بالکل الگ اور جدا گانہ رکھا ، یہاں تک کہ اگر ایک کے یہاں کا سامان دوسرے کے یہاں ضائع ہوجاتا تو اس کا تاوان اور جرمانہ ادا کرتے تاکہ کسی کے دل میں کوئی بات اور کسک پیدا نہ ہونے پائے اور بدگمانی کا خاتمہ ہو۔ بخاری شریف میں اس کی تفصیلات موجود ہے۔۔
مشترکہ خاندانی نظام میں چونکہ کسی شخص کی الگ مالی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا، اس لیے وسائل کی بربادی ہوتی ہے اور گھر کے سامانوں کے استعمال میں حد درجہ بے احتیاطی ہوتی ہے، دس بیس سال تک چلنے والا سامان چند برسوں میں بربادی کا شکار ہوجاتا ہے۔۔ جبکہ الگ اور علحیدہ ہونے کے بعد ذمہ داری کا احساس سخت ہوجاتا ہے، ایک پائی اور ایک تنکا برباد نہ ہو، بچوں کو بھی اس کی ٹریننگ ملنی شروع ہوجاتی ہے، جبکہ یہی بچے مشترکہ نظام میں آزاد اور لاپرواہ بنے رہتے تھے۔۔۔ مشترکہ خاندانی نظام میں اجتماعی استعمال کی چیزیں مثلاً غسل خانہ، بیت الخلاء استنجا خانہ اور نالی وغیرہ اس قدر گندی رہتی ہیں کہ شریف طبعیت کے لوگوں کو ایسی جگہوں پر قضاء حاجت اور غسل وغیرہ میں گھن آنے لگتی ہے، وہاں ایک دوسرے پر ٹالا جاتا ہے کہ وہ صفائی کرے ہم کیوں کریں؟ جبکہ مختصر خاندان میں جہاں صرف والدین اور چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں وہاں یہ دشواریاں نہیں ہوتی وہاں ہر چیز کلن اور صاف و شفاف ہوتی ہے۔۔۔۔ ہاں اگر مشترکہ خاندانی نظام میں کوئی ممبر فعال اور ذمہ دار قسم کا ہوتا ہے وہاں وہ اس ذمہ داری کو اوڑھ لیتا ہے۔ میرا خود معمول ہے مدرسہ میں بھی اور گھر میں بھی کہ نہانے سے پہلے اکثر میں خود ان چیزوں کی صفائی کر دیتا ہوں اور اس کو ایک ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ اسلام نے صاف و شفاف رہنے کی تاکید کی ہے۔۔۔
اوپر ذکر ہوا کہ مشترکہ خاندانی نظام میں سامان کا ضیاع اور نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے، بہت سے گھروں اور خاندان میں بچشم خود دیکھا کہ لاکھوں کا نقصان ہوگیا، پختہ اور پیلر والی دیوار بوسیدہ ہوگئی اس دیوار کی اینٹ اور سریہ نکال کر لوگ چلے گئے ، لیکن گھر والوں کی لاپرواہی افراد خاندان کی بے توجھی اور مشترکہ نظام میں رہنے والوں کی بے شعوری اور کم عقلی نے ہزاروں کا نقصان کر دیا اور انہیں احساس تک نہ ہوا۔۔ میں نے خود اپنے مشترکہ زوال پزیر خاندان میں ایسی عمارت کو دیکھا کہ گھر کہ مکھیہ نے بڑی جفاکشی کے بعد دیوار اور عمارت کھڑی کی لیکن اولاد نے اپنی لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا اور وہ عمارت ضائع اور برباد ہوگئی، میں خود جب اس ویرانے کے پاس سے گزرتا ہوں تو لگتا ہے یہ عمارت اپنی ویرانی اور بوسیدگی کی شکایت کر رہی ہے کہ میں ویران اور کھڈر کیوں بنتی جا رہی ہوں، سر شرم سے جھکا کر اپنی نااہلی کو چھپاتا ہوا گز جاتا ہوں۔۔۔
مشترکہ نظام میں شروع شروع میں تو جوش و جذبہ ہوتا ہے، لوگ بظاہر مخلص ہوتے ہیں لیکن بعد میں جو کاہلی، لاپرواہی اور غیر ذمہ داری سامنے آتی ہے ، جو غیر ذمہ دارانہ رویہ سامنے آتا ہے وہ بڑا درد ناک اور خطرناک ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اکثر افراد خاندان بیٹھ کر مشورہ نہیں کرتے، اور اس نظام سے کیا کھویا اور کیا پایا اس کا محاسبہ تک نہیں کرتے۔
لیکن بعض خاندان اور گھرانے اس سے جدا اور مستثنیٰ ہوتے ہیں، وہاں ہر شخص اور گھر کا ہر ممبر مخلص اور جفاکش، محتنی اور ذمہ دار ہوتا ہے، ان میں ہر ممبر خاندان کو ترقی دینا چاہتا ہے اور اسے عروج و بلندی کی آخری منزل تک پہنچانا چاہتا ہے، اس خاندان میں کوئی اکٹیو اور فعال ممبر ہوتا ہے، جس کی فکر اور توجہ سے پورا خاندان خوشحال ہوجاتا ہے اور ہر فرد فارغ البال ہوجاتا ہے۔
میرے مدرسہ میں ایک استاد ہیں جو پانچ یا چھ بھائی ہیں، پہلے متوسط کاشت کار گھرانہ ہے ، کچھ بھائی خواندہ ہیں، عالم ہیں مدرسہ میں پڑھاتے ہیں، باقی نیم خواندہ ہیں اور کاشت کاری کرتے ہیں کوئی بھی سرکاری ملازم نہیں ہے،، لیکن خلوص اور محبت نے اور محنت و جفاکشی نے آج اس کو ایک مالدار اور زمین دار گھرانہ بنا دیا، بیسوں بیگھے سے زیادہ زمین خرید لیا اور ہر فریق اور بھائی کا الگ الگ مکان تیار ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر ایک مکان بالکل ایک ہی جیسا ہے جیسے کہ قیصر باغ چوراہے کے سامنے ہر طرف کی عمارت ایک جیسی ہے۔ میں نے خود جاکر دیکھا کہ ایک ہی سائز اور ڈھنگ کے مکانات بنے ہیں ہر میں اتنے ہی کمرے، اسی طرح برامدے، صحن اور کچن، زمین کی فروانی تھی ایک ہی جگہ گھر کے تمام فریق کے لیے ایسا مکان بنانا ان لوگوں کے لیے آسان تھا۔۔۔۔ میں سمجھتا کہ اس خاندان کا کوئی بچہ احساس کمتری کا شکار نہیں ہوگا، اور وہ اپنے کسی چچا کو رشک کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا کیونکہ کے سب کے مکان میں یکسانیت ہی نہیں ہے، بلکہ ایک ہی نقشہ پر بنا ہے، سب کے پاس زمینیں برابر ہیں۔ اور آپس میں محبت اور خلوص بھی ہے، خاندان کے مکھیہ کا کہنا ہے کہ جس دن سارے بھائیوں کے مکانات بالکل تیار ہو جائیں گے، جو کمیاں رہ گئی ہیں وہ پوری ہو جائیں تو محبت کے ساتھ علحیدہ ہو جائیں گے کیونکہ اب بہتر علحیدہ ہونے میں ہے، زمین تقسیم کر لینے میں ہے، کیونکہ افراد پچاس سے زیادہ ہوگئے ہیں۔۔
اگر اس نہج پر مشترکہ خاندانی نظام چلے، جہاں عیاری، مکاری، فراڈ اور دھوکا کا شائبہ تک نہ ہو، جہاں خاندان کا ہر فرد مخلص اور جفا کش اور ایک دوسرے کے لیے ہمدرد و غم گسار ہو تو یقیناً اس نظام کو رحمت کہا جائے گا اور اس نظام سے خاندان کے ہر آدمی کا بھلا ہوگا اور مستقبل میں ہر فریق خوش حال رہے گا۔۔۔
لیکن افسوس کہ ایسا خاندان اور ایسے افراد دنیا میں خال خال ہیں۔ کاش ہر خاندان کے افراد میں یہ امنگ اور جذبہ پیدا ہو جائے ، ہر کوئی ایک دوسرے کا مخلص و ہمدرد بن جائے آمین

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔