محمد انعام اللہ حسن۔ حیدرآباد
موت کے بعد ہمیشہ کی زندگی میں کامیاب ہونے اور نجات پانے کے لیے عقیدے اور یقین کا صحیح ہونا ضروری ہے، اور عقیدوں میں سب سے اہم ترین عقیدہ 'توحید' ہی کا ہے، اس لیے 'توحید کی دعوت دینا اور شرک کو سو فیصد غلط اور باطل قرار دینا' نزولِ قرآن مجید کا پہلا بنیادی مقصد ہے، قرآن مجید نے مختلف انداز میں شرک کو منقولی (آسمانی کتابوں کے حوالوں) اور عقلی دلائل سے باطل ثابت کیا ہے، اور "معبود ایک ہی ہے" اس عقیدہ کو بہت ہی مدلّل طور پر کھل کر بیان کیا ہے۔
عرب کے مشرکین بھی مورتیوں کی پوجا کرتے تھے، لات، عُزّیٰ، اور منات یہ عرب کی تین بڑی مورتیاں تھیں، 'لات' کو طائف والے معظم مانتے تھے، قریش اور بنی کنانہ وغیرہ 'عُزّیٰ' کی بڑائی کے قائل تھے، یہ مورتی مکہ کے قریب 'نخلہ' کے مقام پر تھی، اور 'منات' کو اَوس و خزرج اور خزاعہ کے لوگ محترم سمجھتے تھے، یہ مدینہ کے قریب 'مشلّل' میں تھی اور تیسرے درجہ کی مورتی مانی جاتی تھی۔
مشہور مؤرخ علامہ یاقوت حموی رحمۃ اللہ علیہ نے 'معجم البلدان' میں لکھا ہے کہ قریش کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک گیت گاتے تھے: وَاللَّاتِ وَ الْعُزّیٰ، وَ مَنَاتَ الثالثة الأخرىٰ، هؤلاء الغرانيق العلىٰ، وإن شفاعتهن لَتُر تجىٰ
ترجمہ: قسم لات اور عزی کی اور تیسرے درجہ کے دُور واقع منات کی، یہ تینوں طائرانِ لاہوتی (مقرب فرشتے) ہیں، ان کی سفارش ضرور قبول کی جائے گی۔
اعلامہ یاقوت حموی نے یہ بھی لکھا ہے کہ مشرکین اِن مورتیوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔
قرآن مجید میں سورۃ النجم کی آیات (١٩ - ٢٨) میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مورتیوں کے نام لے کر انھیں باطل قرار دیا ہے، اور اُنھیں اللہ کے ساتھ عبادت میں شریک کرنے کی چار طرح سے تردید فرمائی ہے۔
مورتی پوجا کی چار طرح سے تردید
1۔ تم (مشرکین) خود تو بیٹوں کے خواہشمند ہو، اور اللہ کی طرف بیٹیاں منسوب کررہے ہو، کیسی بھونڈی تقسیم ہے؟
اللہ میں تو صفاتِ کمالیہ ہوتی ہیں؛ عیب نہیں ہوتا، جب تم لوگ بیٹیوں کو عیب سمجھتے ہو؛ تو پھر اُن کو اللہ کے لیے کیسے ثابت کرتے ہو!
2۔ یہ مورتیاں اور دیویاں تو محض نام ہیں؛ جو مشرکین نے رکھ لیے ہیں، ان کی حقیقت کچھ نہیں، اللہ نے ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل بھی نہیں نازل کی، جب اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تو تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ مورتیاں اور دیویاں اللہ کی بارگاہ میں مقرب ہیں؟
3۔ مشرکین بے بنیاد خیالات اور نفسانی خواہشات کی پیروی کررہے ہیں؛ جب کہ اللہ کی طرف سے ہدایت آچکی ہے، پس اُنھیں چاہیے کہ اس کی پیروی کریں۔
4۔ جو مرادیں تم ان مورتیوں سے مانگتے ہو کیا وہ سب پوری ہوجاتی ہیں؟ نہیں ہوتیں ! پھر ان کی پوجا کیوں کررہے ہو؟
اختیار سارا اللہ کا ہے، اس دنیا میں بھی اور آنے والی دنیا میں بھی۔(مستفاد: ہدایت القرآن)
مورتی پوجا کی بنیاد ہی غلط ہے
مشرکین مورتیوں کو فرشتوں کا پیکر محسوس (نظر آنے والی صورت) قرار دیتے ہیں؛ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ان کی پوجا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ خوش ہو کر اُن کی مرادیں پوری کردیں اُن کا یہ خیال غلط ہے۔
اس لیے کہ آسمانوں میں بے شک بہت سے مقرب فرشتے ہیں؛ مگر وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کے لیے سفارش نہیں کرسکتے، نہ کسی کی مراد پوری کرسکتے ہیں، ہاں جس بندے کے حق میں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دیں اور اس سے راضی بھی ہوں تو وہ (فرشتے) بے شک سفارش کرسکتے ہیں، اور وہ سفارش ان کے کام بھی آئے گی، مگر اللہ نے یہ بات بھی طئے کردی ہے کہ مشرکین کی تو بخشش ہی نہیں ہوگی، پھر ان کے لیے سفارش کی اجازت کیسے ہوگی؟ جب اجازت ہی نہیں ہوگی تو پھر سفارش کی امید میں ان کی پوجا سے کیا فائدہ ہوگا؟ مورتیاں نہ دنیا میں ان کی کوئی آرزو پوری کرسکتی ہیں، نہ آخرت میں؛ کیونکہ سارا اختیار اللہ کا ہے۔
فرشتوں کو زنانی مخلوق سمجھنا بھی غلط اور بے بنیاد ہے
عام لوگوں کا فرشتوں سے آمنا سامنا قیامت کے دن ہوگا، اُس وقت ان کو پتہ چلے گا کہ فرشتے نورانی مخلوق ہیں، نہ مرد ہیں نہ عورت، جیسے آسمان، زمین، ستارے، پہاڑ، درخت وغیرہ بے شمار مخلوقات نہ مرد ہیں نہ عورت، مگر جو لوگ سچی خبر دینے والے (نبی) کی بات نہیں مانتے اور قیامت کا ان کو یقین نہیں؛ وہ فرشتوں کو زنانی مخلوق سمجھتے ہیں اور اُن کے نام عورتوں کے نام پر رکھتے ہیں، جیسے لات، عزیٰ اور منات۔ ان مشرکین کی یہ بات بھی بے دلیل ہے، وہ محض اندازوں پر چل رہے ہیں؛ جبکہ حقیقت کے سامنے اندازے نہیں چلتے، اور قرآن حقیقت بیان کرتا ہے، پس ان کے خیالات و اندازے ہوائی تیر ہیں۔(مستفاد: ہدایت القرآن)
جو لوگ مورتی پوجا کرتے ہیں یا کم از کم اسے غلط نہیں مانتے اور اس مسئلہ پر اچھی طرح غور نہ کرنے کی وجہ سے وہ اس کو ایشور/ اللہ ہی کی بندگی کا ایک حصہ سمجھتے ہیں؛ ضرورت ہے کہ وہ مورتی پوجا کی اِس قرآنی تردید پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور توحید کی دعوت قبول کرکے قرآن مجید پر ایمان لے آئیں، ایسا کرنے سے وہ دنیا میں بھی اور موت کے بعد کی زندگی میں بھی ہمیشہ کی کامیابی حاصل کرلیں گے۔
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔