مولانا الیاس بھٹکلی! تیری ہمت اور عظمت کو سلام

محمد قمر الزماں ندوی

تین چار روز قبل سوشل میڈیا کے توسط سے انتہائی فرحت و مسرت اور روح پرور خبر ملی کہ مشہور عالم دین داعی اور مبلغ و خطیب جناب مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی حفظ قرآن مجید کی دولت سے مالا مال ہوگئے، چون پچپن سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کرنا اور حافظ قرآن کا لقب اور تمغہ حاصل کرنا ، کسی اعجاز اور کرامت سے کم نہیں۔۔ خبر سن کر دلی اور قلبی مسرت ہوئی اور دوست و احباب سے اس کا خصوصی تذکرہ کیا، اس عمر میں اتنی مشغولیت اور ذمہ داری کے باوجود حفظ قرآن کی دولت اور سعادت حاصل کر لینا یقینا کرامت،خدائی معجزہ اور قرآنی اعجاز ہی ہے۔۔۔ ہمارے متعدد درسی ساتھیوں نے بھی فضیلت کے بعد اس جانب توجہ دی اور اپنے کو اس کے لیے وقف کر دیا تو ڈیڑھ دو سال کی مدت میں اللہ نے حافظ قرآن پاک بنا دیا۔۔ منذر گجراتی ندوی، محمد میاں ندوی اور شیخ ابرار ندوی راجھستانی اس کی بہترین مثال ہیں۔۔ میرے گاوں میں بھی ہمارے ایک رشتہ دار نے جب عزم بالجزم کر لیا تو دوران ملازمت تدریس انہوں حفظ قرآن مکمل کر لیا۔۔۔۔۔ میں دل کی گہرائی سے جناب مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے صرف اہل بھٹکل ہی نہیں، ندوہ اور ہندوستان ہی نہیں، پوری ملت اسلامیہ کا سر فخر سے بلند کردیا اور قرآن مجید کے اعجاز کا نمونہ بن کر امت کو دکھلایا۔۔۔۔۔ لاک ڈاؤن کے بظاہرخالی لیکن مصروف اوقات کو انہوں نے قیمتی بنایا اور حافظ الذکر کی فہرست میں اپنا نام شامل کرالیا۔

یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں

اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ کر اس کی حفاظت کا سامان تو کر ہی دیا ہے، تاہم دنیا میں بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے، اس طرح کے نہ آج مخالفین کے ہجوم شدید سے وہ مٹ سکتا ہے، نہ قیامت تک اس کے کسی لفظ بلکہ کسی حرف میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کس قدر واضح اور دو ٹوک الفاظ میں یہ اعلان ہے۔۔۔۔انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون۔۔ اس نصیحت نامہ یعنی قرآن کو ہم نے ہاں ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ و نگہبان ہیں۔
بارگاہ الہی کی اس عطا کی کوئی حد ہے کہ جو صفت اللہ نے اپنے لیے مخصوص رکھی تھی، بندہ کو بھی نواز دیا یعنی اللہ حافظ الذکر یعنی قرآن کے محافظ اور نگہبان ہیں تو بندہ کو توفیق بخش دی کہ تیس پاروں کو حفظ کرکے حافظ قرآن کا مسعود و مبارک لقب حاصل کرے۔۔ اور اس لقب کو حاصل کرنے میں عمر کی کوئی قید نہیں، اگر نوجوانی اور پیری میں بھی کوئی عزم کرلے تو میں یہ بدولت اور لقب دینے کے لیے تیار ہوں۔۔
کاش تجدد کے ماروں کو یہ حقیقت سمجھ میں آجاتی اور وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے اور تاریخ کے اس معنی خیز باعظمت تسلسل پر نظر ہوتی کہ جب سے نزول قرآن کا آغاز ہوا اسی وقت سے امت مسلمہ قرآن پاک کو سینہ بسینہ محفوظ کرتی چلی آئی ہے۔۔۔ اس سے پہلے انسانی تاریخ میں اور آج بھی کسی ایسی قوم کا وجود نہیں ہے، جس نے اپنی کتاب کو ہر دور میں اس طرح تواتر کے ساتھ اپنے حافظے میں محفوظ رکھا ہو کہ شہروں، قصبوں اور بستیوں میں بچوں، بوڑھوں مردوں اور عورتوں کا ایک جم غفیر اس کے یاد کرنے میں مشغول ہو، یہ خصوصیت صرف امت مسلمہ کی سعادت اور قرآن کا اعجاز ظاہر ہے۔۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون کے وعدہ خداوندی کا عملی ظہور یہی حفاظ کرام ہیں۔
میں ایک بار پھر مولانا محمد الیاس بھٹکلی ندوی صاحب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں، ان کے عزم اور حوصلہ کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں نے اس عمر میں تمام تر ذمہ داری کے باوجود اس ، نعمت،سعادت اور مقام کو حاصل کیا اور امت کا سر فخر سے اونچا کیا، وہ پوری ملت کی طرف سے شکریہ اور مبارک باد کے مستحق ہیں۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔