ورثہ کا کل میراث کو مسجد میں دینے کا حکم

*⚖️سوال و جواب⚖️*

*مسئلہ نمبر 1179*

(کتاب الفرائض)

*ورثہ کا کل میراث کو مسجد میں دینے کا حکم*

سوال: ایک شخص کا انتقال ہوا اسکی کل میراث بچوں کی رضامندی کے ساتھ مسجد کے تعمیراتی کام میں استعمال ہوسکتی ہے؟ اگر ہوسکتی ہے تو کس مد میں؟ نیز مرحومین کے ایصال ثواب کیلئے اگر مسجد میں روپیہ خرچ کریں تو نیت کس طرح ہوگی؟ کیا مساجد کے تعمیراتی کاموں میں صدقات کی رقم استعمال ہوسکتی ہے؟ (محمد عارف ندوی، لکھنؤ یوپی)

*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*

الجواب بعون اللہ الوہاب

مورث کے انتقال کے بعد وراثت کا حق ورثہ کا ہے، ورثہ کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کو جیسے چاہیں استعمال کریں، استعمال کا ایک بہترین مصرف مساجد و مدارس میں تعاون بھی ہے، چنانچہ وارثین اگر اپنی مرضی سے مساجد کی تعمیر کے لئے وراثت میں ملے مال کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں لیکن سب مال دینے کے لئے سب ورثہ کی رضامندی ضروری ہے، اگر کوئی ایک بھی راضی نہیں ہے تو اس کا حصّہ اسے دینا ضروری ہوگا، نیز ورثہ اگر صرف تعمیر کے مد میں دیتے ہیں تو صرف تعمیر میں ہی لگانا ضروری ہے اور اگر مطلقا مسجد کی ضروریات کے لیے دیتے ہیں تو تعمیر کے علاوہ تنخواہ اور دیگر مصالح مسجد میں بھی لگا سکتی ہیں، اسی طرح اگر صدقہ کی رقم نفلی صدقہ کی ہے تو مسجد میں لگا سکتے ہیں اور اگر صدقات واجبہ یعنی زکوۃ فطرہ کفارہ وغیرہ کی رقم ہے تو مسجد میں نہیں لگا سکتے ہیں ایصالِ ثواب کے لئے دل میں ارادہ کرلینا کافی ہے زبان سے بولنے کی ضرورت نہیں ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*????والدليل على ما قلنا????*

أَلَا لَا تَظْلِمُوا، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ۔ (مسند أحمد رقم الحدیث ٢٠٦٩٥ أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ. | حَدِيثُ عَمِّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ)

للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء. (الفقه الإسلامي و أدلته ٥٥٢/٦)

و مصارف الفدية و النذور المطلقة و الكفارات و الصدقات الواجبة: هي مصارف الزكاة. (الفقه الاسلامي و ادلته ١٧٥٤/٣ كتاب الصوم، المبحث الثامن، المطلب الثالث)

*كتبه العبد محمد زبير الندوى*

دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا

مؤرخہ 19/10/1441

رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔