ورنہ کل گلشن تو کیا صحرا تلک جل جائے گا

*محمد قمرالزماں ندوی*

*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*شہر* پونا میں 6 /7 جون 1998ء کو *رابطہ ادب اسلامی* کا سیمنار ہوا تھا ۔ اس موقع پر ایک مخصوص نشست دانشوران ملت اور برادرن وطن کی بھی رکھی گئ تھی ، *حضرت مولانا علی میاں ندوی رح* نے اس مجمع کو خطاب کرتے ہوئے ملک کی گرتی ہوئ ساکھ اور معاشرہ کی بگھڑتی ہوئ صورت حال پر اپنے سوز دروں کو ان الفاظ میں پیش فرمایا تھا : *میرے بھائیو! ایک باپ کو جتنا غم اپنے بیٹے کی بیماری پر ہوتا ہے ،سچ تو یہ ہے کہ اتنا ہی غم اپنے پڑوسی کے بیمار ہوجانے پر اتنا ہی غم اپنے گاؤں میں بسنے والے کسی بیمار فرد پر ،اتنا ہی غم اپنے ملک کے کسی بھائ کے بیمار پڑ جانے پر ہونا چاہیے ۔ یاد رکھئے! تاریخ اس بات پر گواہ ہے ،بلکہ میں بھی تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ جب بھی یہ حسین جذبہ کسی حساس دل کے اندر پیدا ہوا تو اس نے ساری سوسائٹی کو بدل ڈالا اور معاشرہ میں اصلاح کا زبردست کام کیا اور اپنا نام روشن کیا ،گھر اور خاندان کا نام روشن کیا،اپنے ملک کا نام روشن کیا،لیکن یاد رکھئے ! یہ کام انہیں خوش قسمت افراد کے ہاتھوں انجام پاتا ہے ،جن کا زھن و دماغ عصبیت سے خالی ہوتا ہے، جو انسانیت کی بقا و تحفظ کی خاطر جان عزیز کی بازی تک لگا دیتے ہیں ،لیکن انسانیت پر آنچ انے نہیں دیتے ہیں، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ آج معاملہ خلاف فطرت ہے، انسان ،انسان سے وحشت کھائے ،انسان انسان سے ڈرے ،یہ بڑے تعجب کی بات ہے ،انسان شیروں سے ڈرے ،انسان پھاڑ کر کھا جانے والے درندوں سے ڈرے ،لیکن انسان انسان سے ڈرے ؟یہ بڑے تعجب اور خسارے بلکہ انسانی بقا و تحفظ کے خلاف بات ہے* ( *بانگ درا مولانا علی میاں ندوی رح نمبر* )

*مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح* کے اس تقریری اقتباس کو غور سے پڑھئے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ *مولانا علی میاں ندوی رح* بالکل آج اور کل کے حالات کا مشاہدہ کرکے تقریر فرما رہے ہوں ۔ *آج* یہ ملک اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکا ہے، یہ ملک کہاں چلا جا رہا ہے؟انسانیت کس طرح خطرے میں ہے؟ ۔ آدمیت اور انسانیت کا جنازہ کس طرح نکلتا جا رہا ہے یہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے ۔ ہر جگہ خوف و ہراس کا ماحول ہے ۔ انسان انسان سے سہما اور ڈرا ہوا ہے ۔ راستے اور سفر پہلے سے بھی پر خطر ہوتے جارہے ہیں ۔ حیا،انسانیت، شرافت و مروت اور اخلاق کا جنازہ نکالا جا رہا ہے ۔ظلم و سفاکی قتل و غارت گری، ظلم و انارکی، تشدد و بربریت، ناانصافی، بد اخلاقی اور بے حیائ و بے شرمی کی پشت پناہی حکومت اور عدلیہ کر رہی ہے، اور اس کے لئے راستہ ہم وار کر رہی ہے ۔ عدلیہ اور عدالت اپنے اعتماد کو کھو رہی ہے ،بلکہ کھو چکی ہے، اب تو ظالم کی ظلم و زیادتی پر نکیل کسنے والا کوئی نظر نہیں آرہا ہے ۔ حکومت اپنی ذمہ داری سے بالکل پہلو تہی اپنا رہی ہے، اور سارا قصور اور الزام اپوزیشن اور حزب مخالف پر ڈال رہی ہے ۔ دہلی کے فساد نے تو ثابت کر دیا کہ اس ملک میں اب انسانیت اور مانوتا کا جنازہ نکل چکا ہے، خون ناحق کی ارزانی ہو رہی ہے ، ظلم و ستم کی ایسی تصویریں سامنے آرہی ہیں کہ حیوانیت بھی شرما جائے آج ہی ایک خبر وائرل ہو رہی ہے کہ دہلی فساد میں ایک ہندو بھائ نے کئی مسلمانوں کو اپنے گھر میں پناہ دیا اور ان کے جانوں کی حفاظت کی،ان میں سے ایک عورت جو حمل سے تھی ڈلیوری کا وقت قریب تھا اس کو ہاسپٹل لے کر گیا جب یہ خبریں وائرل ہوئیں تو خود ان کی برادری اور مذھب کے لوگوں نے ان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا ان کو غدار کہا جارہا ہے ان لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے کہ اس نے مسلمانوں کو کیوں پناہ دیا اور ان کی جان کیوں بچائ، اب اس ہندو بھائ کو اپنے ہی مذھب کے لوگوں سے ڈر اور خطرہ محسوس ہو رہا ہے ،اندازہ لگائیے کہ ہمارا ملک کس سطحیت اور نیچتا پر اتر آیا ہے اور یہاں کے لوگوں کے ذھن و دماغ میں کس قدر نفرت بھر دی گئی ہے ۔ جب ملک کی یہ بدتر حالت ہو رہی ہو ۔ جہاں قاتل بے خوف اور نڈر ہو کر گھوم رہا ہو،جہاں فساد بھڑکانے والے پر کیس درج کرنے کی کسی کو اجازت اور ہمت نہ ہو ،جہاں اقلیتوں اور مخصوص طبقہ کو خوف و ہراس میں ڈالا جا رہا ہو،جہاں ایک مخصوص طبقہ کی جان و مال کو نقصان پہنچایا جارہا ہو، جہاں نسل کشی کی پوری تیاری ہو، ایسے وقت میں ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ہم ظلم و ستم کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھائیں ۔ انسانیت اور مانوتا کی حقیقت سے لوگوں کو واقف کرائیں ۔ ظلم اور ظالموں کے خلاف کمیٹی اور انجمن بنائیں اور ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کریں،برادران وطن کو ان بھی ان کی ذمہ داری یاد دلائیں۔ اور ہاں ابھی بھی حالات سے مایوس اور ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ یقیناحالات ہمارے خلاف ہیں ۔ مشکلات ہمارے سامنے ہیں ۔ دشمن ہر طرح کی سازش میں مصروف ہے،۔ اس لئے بہت بیدار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ حالات اور ماحول کو بہتر بنانے اور انسانیت کو زندہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہو جانے کی ضرورت ہے، اور مولانا علی میاں ندوی رح نے پیام انسانیت کی جس آواز اور تحریک کوچپے چپے تک پہنچانے کی کوشش کی تھی، تاکہ انسان انسان بن جائے ان میں انسانیت جگ جائے اس آواز پر لبیک کہنے کی ضرورت ہے، اور اس تحریک کے ساتھ اپنے قدم کو ملائے بڑھائے اور انسانیت کو زندہ کرنے کی فکر کی ضرورت ہے اگر ایسا نہیں کیا تو تو یاد رکھئیے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ورنہ کل گلش تو کیا دریا تلک جل جائے گا جنگلوں کی آگ سے صحرا تلک جل جائے گا

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔