حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"ان اللہ تعالیٰ یبغض البلیغ من الرجال الذی یتخلل بلسانه تخلل الباقرة بلسانھا۔ ا(بو داود باب الادب)
اللہ تعالیٰ ایسے لسان اور چرب زبان لوگوں کو پسند نہیں کرتا ہے، جو اپنی زبانیں اس طرح چلاتے ہیں جس طرح گائے اپنی زبان سے چارہ چباتی ہے۔
اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبیہ و تمثیل کی زبان استعمال کی ہے ، کسی بھی زبان میں کسی چیز کے سمجھنے اور سمجھانے میں مماثلت اور یکسانیت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ جانی ہوئی چیزوں کے ذریعہ انسان اس کی مماثل انجانی چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اسی کو قیاس کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں بھی بہت سی باتیں مثال کے پیرایہ میں کہی گئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ کار نبوت انجام دینا تھا، اس لیے آپ کو انسانی نفسیات کو سمجھنے اور مشکل سے مشکل بات کو مخاطب کی ذھنی سطح پر اتر کر سمجھانے کی خاص صلاحیت ودیعت کی گئی تھی۔ اس کا مظہر احادیث میں آنے والی مثالیں اور تشبیہات و تمثیلات ہیں۔
مذکورہ حدیث بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشبیہ و تمثیل کی زبان اور اسلوب میں لسان اور چرب زبان انسان کی خدا کی نظر میں ناپسندیدگی کو ظاہر فرمایا ہے اور چرب زبان انسان کو گائے کے چارہ چبانے کی کیفیت سے تشبیہ دی ہے، جو بہت بلیغ تشبیہ و تمثیل ہے۔
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو تقریر و خطابت کی صلاحیت سے نوازا ہے، تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی خطیبانہ صلاحیت کا صحیح استعمال کرے، اور اس کے اصول و ضوابط کا خیال رکھے صرف زبان درازی اور چرب زبانی کا سہارا نہ لے۔ وہ اپنی اس صلاحیت کو تعمیری اور مثبت کاموں کے لیے استعمال کرے، محروموں اور مظلوموں کو ان کا حق دلائے، سماج کے دبے کچلے افراد کی اواز بن جائے اور پوری طاقت سے ان کی آواز بن کر ان کے حقوق کو اٹھائے، لیکن اگر وہ اپنی اس صلاحیت سے یہ کام نہیں انجام دیتا اور اس اہم ترین فرض کو چھوڑ کر اپنی چرب زبانی سے ناحق کو حق، جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے زبان آور، چرب زبان انسان سے نفرت کرتا ہے۔ یہ حدیث ان لوگوں کے لیے سراپا عبرت اور دعوت فکر ہے جو اپنی زبان درازیوں کے ذریعہ امت میں اختلاف و انتشار پیدا کرتے ہیں۔ امت کو باہم لڑاتے ہیں، ایک جماعت کو دوسری جماعت سے متنفر کرتے ہیں۔ حق و انصاف اور عدل و مساوات کے قیام کے لیے کوشش اور جدوجہد کرنے کے بجائے فساد اور فتنہ پروری کو اپنا مشغلہ بناتے ہیں اور امت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ( مستفاد امثال الحدیث، ص، ٢٥٠)
تقریری صلاحیت یہ ایک بڑی نعمت اور خدائی عطیہ ہے، اس کی قدر دانی بہت ضروری ہے، ہر ایک کو یہ صلاحیت نصیب نہیں ہوتی، اس لیے جس کے اندر یہ جوہر ہے وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرے اور اس صلاحیت کو کار دعوت اور اشاعت دین میں استعمال کرے۔
تقریر و خطابت کی اہمیت و افادیت مسلم ہے، کسی بھی تنطیم، تحریک یا مشن کی توسیع و اشاعت کے لیے سب سے زیادہ مفید، موثر اورکارآمد ہتھیار خطیب یا مقرر کی زبان ہوتی ہے۔ دعوت و تبلیغ میں اس سے زبردست مدد لی جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ احساس تھا کہ مجھ سے زیادہ خطیبانہ صلاحیت بڑے بھائی ھارون رکھتے ہیں، اس کا اظہار خدا کے سامنے انہوں کیا ھو افصح منی لسانا۔
زبان و بیان کے اعتبار سے وہ مجھ سے زیادہ بہتر ہیں اس لیے کار نبوت میں ان کو میرے شریک کر دیجئے، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس عرضی اور درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا اور حضرت ھارون علیہ السلام کو ان کا معاون و مددگار بنایا تاکہ کار نبوت صحیح طور سے انجام پاسکے۔
أپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی خطیبانہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے دین کی تبلیغ کے لیے اس کا بھرپور استعمال کیا۔ جس کی تاثیر و سحر انگیزی سے لاکھوں بے راہ انسانوں کو ہدایت ملی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر مختصر اور جامع ہوتی جو ما قل و دل کی تصویر ہوتی تھی۔ سوائے چند مخصوص موقعوں کے آپ کی ساری تقریریں اور خطبات مختصر ہی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم لسانی و بیان ارائی کو پسند نہیں فرماتے ، آپ فرماتے تھے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تقریر اور گفتگو میں اختصار سے کام لوں۔ کیونکہ مختصر تقریر ہی بہتر ہوتی ہے۔ (ابو داود )
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے لمبی چوڑی تقریر کی، آپ نے فرمایا اگر یہ شخص اختصار اور میانہ روی سے کام لیتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا۔
اس لیے مقرر کو چاہیے کہ چرب زبانی اور بیان ارای سے احتیاط کرے ۔ اس کی تقریر صرف واعظ کی ہر تقریر بجا اور ارشاد بہت دلچسپ مگر ہی نہ ہو بلکہ چہرہ پہ یقین کا نور بھی ہو اور انکھوں میں سرور عشق بھی ہو۔
بلکہ اس کی کیفیت یہ ہو کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھنا تقریر کی لذت کے جو اس نے کہا
میں نے یہ سمجھا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
لسانی و بیان ارای اور بے ضرورت لمبی چوڑی تقریر کو مہذب طبقہ پسند نہیں کرتا۔ لسانی و بیان ارای اور طویل گفتگو ہمیشہ اکتانے والی ہوتی ہے۔ خدا کرے تمام واعظوں اور خطیبوں اور اسٹیج پر دھاڑنے والے مقرروں کو حضورﷺ کا یہ ارشاد سمجھ میں آجائے اور تشبیہ و تمثیل کی زبان میں جو وارنگ دی گئی ہے اور جس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ چرب زبانی خدا کو پسند نہیں ہے اور لسان و چرب زبان شخص خدا کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہوتا اچھی طرح سمجھ میں اجائے۔ امین