کارواں سے کیسے کیسے لوگ رخصت ہوگئے

آج فجر کی نماز کے بعد نیند پوری کرنے کے لیے حسب معمول سو گیا ، چاشت کے وقت نید کھلی موبائل کے اسکرین پر نظر پڑی تو یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ فخر دار العلوم ترجمان دیوبند و شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی سعید صاحب پالن پوری،اللہ کو پیارے ہوگئے اور فانی دنیا سے باقی دنیا کی طرف کوچ کرگئے۔ ذہن و دماغ میں اس وقت چند اشعار بے ساختہ گردش کرنے لگے۔ کہ

کارواں سے کیسے کیسے لوگ رخصت ہوگئے

کچھ فرشتے چل رہے تھے جیسے انسانوں کے ساتھ

جان کر من جملئہ خاصان میخانہ تجھے

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

مولانا سعید صاحب پالن پوری رح اس قحط الرجال میں امت کے لئے ایک عظیم تحفہ اور انعام تھے وہ اسم بامسمی تھے اور مسند علم و تحقیق کے در نایاب تھے۔ ان ہی جیسی عظیم ہستیوں کے لیے شاعر نے کہا تھا کہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بہت مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اور

مت سہل ہمیں جانو پھرتا فلک برسوں

تب خاک کے سائے سے انسان بنانے جاتے ہیں

ہم سب کو اب یہ حق ہوگا کہ حضرت مرحوم کے بارے میں کہیں ۔۔

جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتی

کچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں

یہ دنیا سرائے اور مسافر خانہ ہے اس فانی دنیا کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا یقین سب کو ہے، یہاں کسی کو دوام و ثبات حاصل نہیں ہے جو یہاں آیا ہے اسے ایک دن جانا ہے۔ لیکن جانے والوں کی نوعیت الگ الگ ہوتی ہے بعض لوگوں کے جانے سے علمی دنیا میں ماتم چھا جاتا ہے، سارا ماحول سوگوار ہوجاتا ہے اور جن پر مدتوں جام و پیمانہ روتے ہیں ۔ جو اس دنیا ئے آب و گل اور کارگاہ ہستی میں مستحکم اور پائیدار نقوش و نشان چھوڑ جاتے ہیں اور جنکی خدمات اور کارنامے ہمیشہ یاد کئے جاتے ہیں۔ جو صدیوں جگماتے رہتے ہیں۔ جن کو یاد کرکے حوصلہ جوان اور عزائم بلند و مستحکم ہوتے ہیں، ان ہی برگزیدہ فعال، اور قابل تقلید شخصیتوں میں حضرت مفتی صاحب رح تھے۔ جن کے کارنامے اور جن کی خدمات ان شاء اللہ تاقیامت باقی رہیں گی اور انکی تحریروں اور کتابوں سے مستقبل میں بھی لاکھوں لوگ مستفید ہوتے رہیں گے۔ میں دار العلوم دیوبند کا طالب علم نہیں۔ میری پوری تعلیم ندوہ میں ہوئی،اس لیے حضرت سے براہ راست استفادہ کا موقع نہیں ملا، لیکن برسوں سے ان کی تصنیفات و تالیفات اور ان کی تحریروں اور تقریروں سے استفادہ کا موقع ملا ہے، اس حیثیت سے میں بھی حضرت رح کے شاگردوں کی صفوں میں اپنے کو شامل سمجھتا ہوں۔

ازہر ہند دار العلوم نے لاکھوں ہستیوں کو جنم دیا، بڑے بڑے اکابر اہل علم، علماء صلحاء اور دین کے داعی و مبلغ پیدا کئے۔ جنہوں نے پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ہر میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ علوم و فنون اور تحقیق و تصنیف اور دعوت دین کے تمام میدان میں اس کے فرزندوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

اس وقت علماء دیوبند میں حضرت مفتی صاحب رح سب سے نمایاں لوگوں میں سے تھے، جن پر حلقئہ دیوبند کو ہی نہیں، پورے ہندوستان کو بلکہ پورے علمی حلقہ اور برادری کو ناز تھا۔

اس قحط الرجال میں مولانا جیسی شخصیت کے اٹھ جانے سے محسوس ہوتا ہے کہ اب ایسی شخصیات کہاں ہیں۔۔۔۔۔

ان جیسا کہاں سے لائیں گے

یہ دنیا بانجھ لگتی مجھے

لیکن مایوس نہیں ہونا چاہیے اللہ تعالی ہر زمانہ میں حالات کے اعتبار سے افراد پیدا کرتے رہتے ہیں۔ اور اللہ کہ لئے یہ کوئی بعید نہیں ہے۔

اللہ تعالی حضرت مولانا مرحوم کو غریق رحمت کرے، کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے امت کو ان کو نعم البدل عطا فرمائے اور سارے متعلقین اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے نیز جو خلا ان کے جانے سے ہوا ہے اس کو پر فرمائے۔ آمین

آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے

کارواں

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔