*کرونا وائرس (Corona Virus) کی وجہ سے جمعہ اور جماعت میں شریک نہ ہونا*
*سوال:* زید چِین میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے جہاں آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے سارے لوگ پریشان ہیں، زید کا مسئلہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے کے لیے کافی دور جانا پڑتا ہے اور ایسے ہی جمعہ کی نماز کے لیے کئی کلومیٹر جانا پڑتا ہے تو کرونا وائرس سے جان کی حفاظت کے لیے کیا جمعہ کی نماز کے بدلے ظہر کی نماز اور دیگر نماز گھر میں پڑھ سکتے ہیں؟
مدلل جواب جلد سے جلد عنایت فرمائیں۔ (محمد ریحان قاسمی، بھاگلپور، بہار)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
شریعتِ مطہرہ نے چھوت اور امراض میں تعدی کے عقیدے کو ناپسند کیا ہے، اس لئے کسی مرض کے بارے میں تعدی کا عقیدہ رکھنا صحیح نہیں ہے، امراض میں جو کچھ بھی تاثیر ہوتی ہے وہ اللہ تعالی کی قدرت کا کرشمہ اور اس کے حکم سے ہے، بذاتِ خود بیماریاں متعدی نہیں ہوتی ہیں، اس لئے آدمی کو مضبوط ایمان و یقین رکھنا چاہیے، اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے اور نماز جمعہ و جماعت میں شریک ہونا چاہیے، البتہ ھر شخص کی چونکہ ایمانی و یقینی کیفیت جداگانہ ہوتی ہے اور مہلک وبائی امراض سے بعض لوگ شدید خائف ہوتے ہیں اس لئے شرعا ایسے لوگوں کے لئے اجازت ہے کہ وہ کرونا وائرس (Corona Virus) جیسی مہلک بیماری سے بچنے کے لئے عارضی طور پر جمعہ و جماعت کا اہتمام نہ کریں، احادیث مبارکہ کے ذخیرے میں دونوں طرح کے افراد کی کیفیات سے متعلق احادیث موجود ہیں، اور فقہاء نے مال کے ضیاع کے اندیشے کی وجہ سے بھی نمازِ باجماعت میں شریک نہ ہونے کی اجازت لکھی ہے تو جان کی حفاظت کی خاطر بدرجہ اولی اس کی اجازت ہوگی(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب.
فحيث جاء: " لا عدوى " كان المخاطب بذلك من قوي يقينه وصح توكله بحيث يستطيع أن يدفع عن نفسه اعتقاد العدوى، كما يستطيع أن يدفع التطير الذي يقع في نفس كل أحد، لكن القوي اليقين لا يتأثر به، وهذا مثل ما تدفع قوة الطبيعة العلة فتبطلها، وعلى هذا يحمل حديث جابر في أكل المجذوم من القصعة وسائر ما ورد من جنسه. (فتح الباري بشرح صحيح البخاري كِتَابُ الطِّبِّ. رقم الحديث ٥٧٠٧ بَابُ الْجُذَامِ)
الجماعة سنة مؤكدة... و في الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة (الفتاوى الهندية ٨٢/١ كتاب الصلاة الباب الخامس في الإمامة)
القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج. (الدر المختار مع رد المحتار ٢٤٨/٢ كتاب الصلاة)
و خوف على ماله أي من لص و نحوه. (رد المحتار على الدر المختار ٢٥٠/٢ كتاب الصلاة مطلب في تكرار الجماعة)
*سوال:* کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میرے پاس 2500 مرغیاں ہیں جنہیں ہم فروخت کرتے تھے، اب کرونا وائرس Corona) Virus) کیوجہ سے نہیں رکھنا چاہتے ہیں کوئی مفت میں بھی نہیں لے رہا تو ان مرغیوں کو دفنانا چاہتے ہیں تو انکو دفنا سکتے ہیں؟ کیا اگر دفنا سکتے ہیں تو ذبح کرکے یا بغیر ذبح کرے؟ برائے مہربانی جلد از جلد جواب دیں۔
(محمد طہ مدھوبنی،
مرسل: محمد مکرم پالنپوری)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
اگر آپ کے علاقے کے لوگ غایت احتیاط کی وجہ سے بالکلیہ مرغی کا گوشت چھوڑ چکے ہیں اور کوئی خریدنے کو تیار نہیں ہے تو ان مرغیوں کو ذبح کر کے دفن کیا جاسکتا ہے کیونکہ ذبح کر کے دفن کرنے سے ایک تو مرغیوں کو غیر فطری تکلیف نہیں ہوگی دوسرے یہ کہ ان کی بدبو سے ماحولیات پر برا اثر نہیں پڑے گا(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
(فأحسنوا القتلة) بكسر القاف أي: هيئة القتل، والإحسان فيها اختيار أسهل الطرق وأقلها إيلاما. (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث ٢٨١٥ كِتَابٌ : الضَّحَايَا | بَابٌ : فِي النَّهْيِ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ)
أما إن كان الحيوان مما يُؤْكل ، وبلغت الحال به إلى حد لا يُمْكن الانتفاع به ولا إعطاؤُه لمن ينتفع به فإن حكمه حكم الحيوان مُحرّمُ الأكْلِ ، أيْ أنه يجوز له أن يتلفه ، سواء بذبحه أو قتله بالرصاص ، وافعل ما يكون أريح له (الإسلام سؤال وجواب رقم السؤال 8814)
*ماسک لگا کر نماز پڑھنے کا حکم*
کرونا وائرس کی وجہ سے ماسک لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (عبد اللہ بہرائچ یوپی)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
حالت نماز میں منہ اور ناک بند کرکے نماز پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ ہے؛ کیونکہ اس طرح نماز پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے؛ لیکن اعذار کی بنا پر شریعتِ اسلامی نے جس طرح بہت سی چیزوں میں رعایت برتی ہے اور حرج کو دور کرنے کی تلقین کی ہے اسی طرح اس سلسلے میں بھی شرعی تخفیف برتی جا سکتی ہے، چنانچہ کرونا وائرس جیسی مہلک اور متعدی بیماری سے بچنے کے لئے اگر وقتی اور عارضی طور پر ماسک پہن کر نماز پڑھی جائے تو شرعاً حرج نہیں، بلکہ وہ ممالک جہاں کثیر تعداد میں کرونا کے مریض ہیں ان کے لیے بہتر ہوگا کہ ماسک وغیرہ کا استعمال کرکے نماز باجماعت میں شریک ہوں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
*????والدليل على ما قلنا????*
(١) و يكره التلثم و هو تغطية الأنف والفم في الصلاة. (الفتاوى الهندية ١١٨/١ كتاب الصلاة باب فيما يفسد الصلاة و ما يكره فيها الفصل الثاني)
عن بن عباس رضي الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يمسح العرق عن جبينه في الصلاة (المعجم الكبير للطبراني رقم الحديث ١٢١٢٢)
و حاصله أن كل عمل هو مفيد للمصلي فلا بأس أن يأتي به. (الفتاوى التاتارخانية ١٩٩/٢ كتاب الصلاة باب في بيان ما يكره للمصلي، زكريا جديد)
يتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام. (قواعد الفقه ص ٩١ الرسالة الثالثة)
*کرونا وائرس (Corona Virus) کی وجہ سے ایک میٹر کے فاصلے پر مقتدیوں کا کھڑا ہونا*
*سوال:* آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے ایک میٹر کے فاصلے پر مقتدیوں کو کھڑے ھونے کو کہا جارہا ہے، بہت سی حکومتوں نے اس کی تاکید کی ہے تو کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟ (عبداللہ بہرائچ یوپی)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
احادیث مبارکہ میں صفیں سیدھی کرنے اور مل مل کر کھڑے ہونے کی بڑی تاکید آئی ہے؛ بلکہ ایک روایت میں یہی طریقۂ قیام فرشتوں کا بھی بتایا گیا ہے؛ اس لئے علماء کرام و فقہاء عظام نے حالت نماز میں مل مل کر کھڑے ہونے اور کندھوں سے کندھے ملا کر قیام کرنے کی تاکید کی ہے؛ لیکن جیسا کہ معلوم ہے کہ شریعتِ اسلامی کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ اس نے حرج اور مشقت کو دور کیا ہے؛ چنانچہ بہت سے ایسے مسائل کتب فقہ میں موجود ہیں جن میں مشقت کی وجہ سے تخفیف کی گئی ہے؛ اس لئے آجکل کرونا وائرس Corona Virus جیسی وبائی بیماری کی وجہ سے اگر مل کر کھڑے ہونے کے بجائے ایک ایک میٹر پر کھڑے ہوں تو دفع حرج کے پیش نظر شرعاً اس میں کراہت نہیں ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
ويتراصون في الصف) أي يتلاصقون حتى لا يكون بينهم فرج من رص البناء إذا ألصق بعضه ببعض. (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث 661 تسوية الصفوف)
قَالَ : فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَلْزَقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ صَاحِبِهِ، وَرُكْبَتَهُ بِرُكْبَةِ صَاحِبِهِ، وَكَعْبَهُ بِكَعْبِهِ.
حكم الحديث: صحيح (سنن ابي داود رقم الحديث 662 كِتَابُ الصَّلَاةِ | تَفْرِيعُ أَبْوَابِ الصُّفُوفِ | بَابٌ : تَسْوِيَةُ الصُّفُوفِ)
و ينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا و يسدوا الخلل و يسووا بين مناكبهم في الصفوف. (الفتاوى الهندية ٩٨/١ كتاب الصلاة الفصل الخامس في بيان مقام الامام و الماموم)
يتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام. (قواعد الفقه ص ٩١ الرسالة الثالثة)
*کیا کرونا وائرس (Corona Virus) سے مرنے والا شہید ہوگا*
*سوال:* ایک مسئلہ ہے جس طرح سے حدیث میں آیا ہے کہ طاعون کی بیماری میں اگر کوئی شخص انتقال کر جائے تو اس کو شہید کا ثواب ملتا ہے تو کیا جو موجودہ وبائی مرض کورونا وائرس سے اگر کوئی شخص انتقال کرجائے تو کیا اسکو بھی شہید کا ثواب ملے گا. دلیل کے ساتھ جواب مرحمت فرمائیں. (محمد ساجد ندوی جالون یو پی)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
طاعون کے بارے میں صحیح احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ طاعون مؤمنوں کے لیے رحمت ہے، رحمت اس معنیٰ کر ہے کہ اگر اس بیماری میں کسی شخص کی وفات ہوجائے اس حال میں کہ وہ اس پر صبر کرتا رہا اور اللہ سے ثواب کا امیدوار بھی رہا اور اس کا یقین اس قدر پختہ رہا کہ جو کچھ بھی اسے مصیبت پہنچی وہ اللہ کی تقدیر کے مطابق پہنچی، پھر اس شخص کی وفات اسی بیماری میں ہوجائے تو اسے شہید کا اجر ملے گا(١) بعض روایتوں میں آیا ہے "من مات في الطاعون فهو شهيد" کہ جس نے طاعون میں وفات پائی وہ شہید ہے(٢)
ان روایات سے استدلال کرتے ہوئے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ طاعون میں مرنے والا مسلمان شہید ہوگا، یعنی شہیدِ آخرت، شہید آخرت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اس کی تکفین و تدفین تو عام اموات کی طرح ہوگی؛ لیکن قیامت میں اس کا حشر شہداء کے ساتھ ہوگا اور ثواب بھی شہیدوں کی طرح ملے گا۔(٣)
طاعون چونکہ ایک وبائی مرض ہے اور انسان بکثرت اس وبا کے شکار ہوجاتے ہیں اس لئے محدثین نے طاعون سے مراد وبا لیا ہے؛ جیسے علامہ قسطلانی اور علامہ عینی نے طاعون کا مفہوم وبا سے بیان کیا ہے(٤) شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے بھی اس سے مطلقا وبائی مرض مراد لیا ہے(٥) گویا وبا میں مرنے والا شہید ہوگا اور ظاہر ہے کہ کرونا وائرس بھی ایک وبائی مرض ہے؛ اس لئے علت کے اشتراک کی بنا پر اس سلسلے میں بھی وہی بات کہی جاسکتی ہے جو طاعون کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے، چنانچہ وہ شرائط جو طاعون زدہ کے بارے میں ہیں یعنی مسلمان ہونا، بیماری کا من جانب اللہ ہونا، اور اسی مرض میں موت ہونا وغیرہ اگر وہ کرونا وائرس کے مریض میں پائی جائیں تو ان شاء اللہ وہ بھی شہید آخرت ہوگا اور شہداء کی طرح اسے بھی ثواب ملے گا(٦)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
(٤) ”اي الذي يموت في الطاعون اي الوباء“
{ارشاد الساری شرح صحیح البخاری 29/2 مطبوعہ مصر}
هو الذي يموت في الطاعون اي الوباء ولم يرد المطعون بالسنان لانه الشهيد في سبيل اللہ والطاعون مرض عام فيفسد له الهواء فتفسد الامزجة والابدان {عمدۃ القاری 171/5 داراحیاء التراث العربی بیروت}
(٦) القياس اصطلاحا: إلحاق ما لم يرد في بيان حكمه نص من الكتاب اوالسنة و لا الإجماع بأمر منصوص على حكمه في أحد هذه الأصول الثلاثة لاشتراكهما في علة الحكم. (الموجز في أصول الفقه ٢٤٣ لعبيد الله الأسعدي)
النص يحتاج إلى التعليل بحكم غيره لا بحكم نفسه. (قواعد الفقه ص ٨٧ الرسالة الثالثة عميم الاحسان المجددي)
*کرونا وائرس (Corona Virus) کی وجہ سے گھر اور مسجد سے اذان کا حکم*
*سوال:* کچھ لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے اپنے اپنے گھر پر اذان دے رہے ہیں اور کچھ مسجد سے ایک خاص وقت میں نماز دینے کو کہہ رہے ہیں کیا یہ صحیح ہے؟ (محمد علی، نگرور بہرائچ یوپی)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب بعون اللہ الوہاب*
شریعت اسلامی کا مزاج یہ ہے کہ جو چیز جس طرح ثابت ہو اس کو اسی انداز میں انجام دیا جائے، اپنی جانب سے یا اپنی سمجھ سے اگر کوئی چیز کی جایے تو خواہ وہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو شریعت کی نظر میں مردود ہے(١) اذان شریعت اسلامی کا شعار ہے، لیکن وہ پنجہ وقتہ نمازوں کے لیے ہے، بعض اور مواقع پر بھی اذان دینا مستحب ہے جیسے بچے کے کان میں اذان دینا وغیرہ(٢)
فقہاء کرام میں سے امام شافعی رحمہ اللہ سے اس سلسلے میں مزید مقامات پر اذان دینے کا استحباب منقول ہے جنہیں علامہ ابنِ نجیم مصری نے البحر الرائق اور خاتمۃ المحققین علامہ شامی نے فتاوی شامی میں علامہ خیر رملی کے حوالے سے نقل ہے؛ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ان فقہاء میں سے کسی نے بھی وبائی امراض کی وجہ سے اذان دینے کی بات نہیں لکھی ہے(٣)
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے میں طاعون جیسا خطرناک وبائی مرض عام ہوگیا تھا مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس موقع پر بھی اذان دینا کسی اثر سے ثابت نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ وبائی أمراض کی وجہ سے اذان دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام و تابعین عظام اور آئمہ مجتہدین رحمہم اللہ سے بالکل بھی ثابت نہیں ہے غالبا اسی لیے کتب فقہ اس مسئلہ کی صراحت سے خاموش ہیں.
اس لئے کرونا وائرس (Corona Virus) کی وجہ سے اپنے گھروں اور مساجد سے اذان دینا من گھڑت اور غیر ثابت شدہ بات ہے، اس سے احتراز واجب و لازم ہے، علماء و ائمہ کو چاہیے کہ اس سے لوگوں کو منع کریں اور قبل اس کے کہ یہ مستقل بدعت کی شکل اختیار کر لے اس پر روک لگائیں؛ اس لئے کہ کسی ایسی چیز کو واجب و لازم سمجھ لینا جو شرعا ثابت نہ ہو شریعت اسلامی کی نگاہ میں بدعت ہے(٤)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
ومفهومه أن من عمل عملا عليه أمر الشرع فهو صحيح، مثل أن يقال في الوضوء بالنية: هذا عليه أمر الشرع، وكل ما كان عليه أمر الشرع فهو صحيح. (فتح الباري بشرح صحيح البخاري ٢٦٩٧ كِتَابٌ : الصُّلْحُ | بَابٌ : إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ)
(٢) يندب الأذان في أذن المولود اليمنى عند ولادته.... كما يندب الأذان وقت الحريق و وقت الحرب. (كتاب الفقه على المذاهب الأربعة ٢٩٥/١ كتاب الصلاة)
(٣) كل مباح يؤدي إلى زعم الجهال سنيۃ أمر أو وجوبہ فهو مكروه (تنقيح الفتاوى الحامدية : ٢/ ٥۷۴ ،)
إن المندوب ربما انقلب مکروها إذا خیف علی الناس أن یرفعوہ عن رتبته (إرشاد الساري شرح صحیح البخاري : ٢/ ۵۸۶، کتاب الأذان، باب الانتقال والانصراف عن الیمین والشمال)
*کرونا وائرس کی وجہ سے فوت شدہ غیر مسلم کو مسلمانوں کے کفنانے دفنانے کا حکم*
*سوال:* ان حالات میں جیسا کہ کورونا واٸرس Corona Virus پھیلا ہوا ہے، کسی غیر مسلم کی موت ہوجائے اور اسکے رشتہ دار میت کو کورونا کے ڈر کی وجہ سے شمسان نہ لے کر جائیں، تو کیا ایسے میں مسلم لوگ میت کو شمسان پہنچاکر اور کریا کرم کا جو بھی کام ہو اسے انجام دے سکتے ہیں یا نہیں؟
(المستفتی: فیض قاسمی، چمن پارک مصطفی آباد دہلی)
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
کرونا وائرس کی موجودہ وبا نہایت خطرناک ہے اللہ تعالیٰ اپنے اس غیر مرئی عذاب سے تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے آمین۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ پھیلتی رہتی ہے، اسی لیے لوگوں اس بیماری سے فوت شدہ شخص کے قریب ہونا گوارا نہیں کرتے بلکہ عموما حکومتیں ایسی لاشیں دیتی بھی نہیں ہے، اپنے سرکاری کارندوں کے ذریعے ٹھکانے لگانے کا خود انتظام کردیتی ہے، تاہم اگر حکومت ایسی لاشیں دے دے تو مسلمانوں کو تو ان کے مذہبی و شرعی امور کے تحت غسل یا مسح اور کفن دفن کا معاملہ کیا جایے گا، لیکن اگر غیر مسلم لاش ہو اور کفار اس لاش کے قریب بھی نہ جاتے ہوں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اس لاش کو بغیر نہلائے کسی کپڑے میں لپیٹ کر کہیں گڑھا کھود کر پاٹ دیں، احادیث مبارکہ میں مذکور ہے کہ جناب ابوطالب کی وفات کے موقع پر انکی تدفین میں شرکت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا، غالباً یہ ایسے ہی ناگفتہ بہ مواقع پر بیان جواز کے تھا، اسی طرح فقہاء کرام کے یہاں بھی صریح ایسی جزئیات موجود ہیں جن سے اس مسئلہ پر روشنی پڑتی ہے، البتہ یہ یاد رہے کہ کفن و دفن کے سلسلے میں ان امور کی پابندی اور لحاظ نہیں کیا جائے گا جو ایک مسلم کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے(١) اور نہ ہی غیر مسلموں کے طور طریقے پر کریا کرم کیا جائے گا؛ کیوں کہ اس میں کفار کی مشابہت لازم آتی ہے جو کہ شرعاً منع ہے(٢)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
كافر مات و له ولي مسلم قال يغسله و يكفنه و يدفنه و في الفتاوى العتابية و يجهزه و في الولوالجبة و لا يصل عليه.... و لا يغسل كما يغسل المسلم... و كذلك لا يراعى في حقه سنة الكفن. (الفتاوى التاتارخانية ٧٧/٣ كتاب الصلاة باب الجنازة زكريا جديد)
"لو لم یدر اَ مسلم ام کافر ولا علامۃ فان فی دارنا غسل وصلی علیہ والا لا، (رد المحتار علی الدر المختار ٢/ ٢٠٠ باب صلاۃ الجنازۃ)
و من لا یدری انہ مسلم او کافر؟ فان کان علیہ سیما المسلمین او فی بقاع دار الاسلام یغسل والا فلا" (ھندیہ١/ ١٥٩)
(٢) عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ ".
حكم الحديث: حسن (صحيح سنن أبي داود رقم الحديث ٤٠٣١ كِتَابٌ : اللِّبَاسُ | بَابٌ : فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ)
قال المناوي والعلقمي: أي: تزيى في ظاهره بزيهم، وسار بسيرتهم وهديهم في ملبسهم وبعض أفعالهم. انتهى (عون المعبود شرح سنن أبي داود رقم الحديث ٤٠٣١ كِتَابٌ : اللِّبَاسُ | بَابٌ : فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ)
*کرونا وائرس (Corona Virus) والی لاش کو جلانے کا حکم*
*سوال* آج کل کرونا وائرس کی جو وبا پھیلی ہوئی ہے ہے اس ضمن میں بہت سی حکومتوں نے یہ آرڈر دیا ہے کہ لاش کو زمین میں دفن کرنے کے باوجود اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس مرض کا اثر وہاں کے ماحول پہ پڑے، اس لئے اس کو جلا دیا جائے، تو شریعت اسلامی اس سلسلے میں کیا رہنمائی کرتی ہے؟ (عبداللہ بہرائچ یوپی)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
شریعت اسلامی نے بحیثیت انسان جس طرح زندوں کو احترام و تعظیم کی نظر سے دیکھا ہے اسی طرح مردوں کو بھی عزت و احترام سے نوازا ہے، انسان مرنے کے بعد گو کہ لاشۂ بے جان ہوجاتا ہے تاہم انسانیت سے خارج نہیں ہوتا بلکہ وہ حسب سابق انسان ہی رہتا ہے اسی لئے دین اسلام میں اس کی تجہیز و تکفین اور نماز و تدفین سے متعلق نہایت خوبصورت اور عقل و دانش سے قریب تر احکام دیے گئے ہیں، چنانچہ شریعت کا حکم ہے کہ مردوں کو جلایا نہیں جاسکتا ہے بلکہ عزت و احترام کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا، یعنی قبر کھود کر مٹی جائے گی، اس لئے کورونا وائرس سے وفات شدہ شخص کو بھی حتی الامکان کوشش کی جائے کہ مٹی دینے کی صورت پیدا ہوجائے، مثلاً عمومی قبرستان کے بجایے ایسے غیر آباد علاقے میں تدفین کا نظم کیا جایے جہاں اس کے اثرات نہ پہنچ سکتے ہوں یا قبرستان کے ایسے حصے میں تدفین کی جائے جہاں مردوں کو بہت کم دفن کیا جاتا ہے وغیرہ(١) لیکن اگر کسی طرح کوئی صورت نہ بن پارہی ہو اور سوائے جلانے کے کوئی راستہ نہ ہو تو جلانے کی بھی گنجائش ہوگی؛ کیونکہ شریعت نے آدمی کو اتنا ہی مکلف بنایا ہے جتنا اس کے بس میں ہے(٢) فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا ".
حكم الحديث: صحيح (سنن ابن ماجه رقم الحديث ١٦١٦ كِتَابُ الْجَنَائِزِ. | بابٌ : فِي النَّهْيِ عَنْ كَسْرِ عِظَامِ الْمَيِّتِ)
قال الطيبي: إشارة إلى أنه لا يهان ميتا كما لا يهان حيا. (عون المعبود شرح سنن أبي داود ٣٢٠٧ كِتَابٌ : الْجَنَائِزُ | بَابٌ : فِي الْحَفَارِ يَجِدُ الْعَظْمَ)
ولكن لو حصلت كارثة ذهب ضحيتها عدد كثير وتعذر دفنهم أو مواراتهم عن ظاهر الأرض وكان في بقائهم على هذه الصفة ضرر على الأحياء بتقرير أهل الخبرة في هذا المجال، فلا حرج في إحراقهم حفظا لسلامة الآخرين ودفعا للضرر عنهم. (اسلام ويب رقم الفتوى: 45300)
*کرونا وائرس (Corona Virus) سے متوفی شخص کے غسل کا مسئلہ*
*سوال:* اگر کسی کرونا وائرس زدہ شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کے غسل کی کیا شکل ہوگی؟؛بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ غسل دینے سے بھی مرض پھیلنے کا اندیشہ ہے، نیز ہاسپٹل سے آئی ہوئی لاش پلاسٹک میں سرکاری طورپر لپیٹی ہوئی ہوتی ہے تو پھر اس کے غسل کی کیا شکل ہوگی؟ (عبداللہ بہرائچ یوپی)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
کرونا وائرس سے متوفی شخص عموماً حکومت کی سیکورٹی میں پلاسٹک کرکے دیا جاتا ہے، اور یہ تاکید ہوتی ہے کہ اسے کھولا نہ جایے کیوں کہ اس سے جراثیم پھیلنے اور بیماری بڑھنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں اس کو غسل دینا ممکن نہیں ھوگا، اور لاش پیکنگ سے قبل غسل دلانا آسان کام نہیں ہے، اس لئے پلاسٹک کو جبیرہ یعنی پٹی کے درجہ میں مانا جائے گا اور جس طرح فقہاء کرام نے پٹی پر مسح کو غسل کا قائم مقام قرار دیا ہے یہاں پلاسٹک پر ہی مسح کرانے کو غسل کا درجہ دے دیا جائے گا، مسح کا طریقہ یہ ہوگا کہ جراثیم سے بچنے کے لئے ہاتھوں میں گلبس پہن کر گلبس کو تر کرکے پورے جسم پر ہاتھ کو پھیر دیا جائے گا۔ یہ مسح ہی غسل سمجھا جائے گا اور جنازہ پڑھ کر تدفین کردی جائے گی دور حاضر کے بعض فقہاء کرام کی رائے ہے، دوسری رائے یہ ہے کہ پورے جسم پر مسح کے بجائے صرف اعضاء تیمم پر پاک مٹی پر ہاتھ مار کر تیمم کرا دیا جائے، بہرحال جو صورت قابل عمل ہو اختیار کی جاسکتی ہے، کیونکہ م لا يدرك كله لا يترك كله(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
*کرونا وائرس (Corona Virus) کی وجہ سے متوفی شخص کے کفن کا مسئلہ*
*سوال:* کرونا وائرس کی وجہ سے جس شخص کی وفات ہوتی ہے تو اس کو پلاسٹک میں کرکے دیتے ہیں اور عموما اس کو کھولنا منع ہوتا ہے تو اب اس کو کفن دینے کی کیا صورت ہوگی؟ (عبداللہ بہرائچ یوپی)
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
مسلمان میت کو کفن دینا فرض کفایہ ہے؛ اس لیے جہاں تک ممکن ہوسکے اس فریضے کی ادائیگی کی کوشش کرنی چاہئے؛ اگر سرکاری عملہ پلاسٹک سے نکال کر کفن دینے کی اجازت دیتا ہے یا پلاسٹک کے اوپر سے کفن دینے کی اجازت ملتی ہے تو اس صورت میں بھی میت کو کفن دینا ہوگا، لیکن اگر سرکاری عملہ اس کی اجازت نہ دے اور صرف پلاسٹک میں دفن کرنے کو کہے یا جس چیز میں پیک ہے اسی کے ساتھ دفن کرنے کو کہے تو اس پلاسٹک کو ہی کفن کے قائم مقام مان لیا جائے گا، فقہاء کرام نے بوقت ضرورت خواتین کے لئے صرف دو کپڑے اور مردوں کے لیے صرف ایک کپڑے کے کفن کی اجازت دی ہے، نیز فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ہر وہ چیز جس کو بحالت حیات پہننا جائز ہے اسے کفن میں بھی استعمال کرنا جائز ہے، ظاہر ہے پلاسٹک پہننا یا پنی پہننا بحالت حیات ناجائز نہیں ہے؛ بلکہ بارش وغیرہ کے موسم میں اس کے بنے لباس کا استعمال بکثرت ہوتا ہے؛ اس لئے اسی پلاسٹک کو کفن بنانے میں حرج نہیں(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
والمراد بإحسان الكفن نظافته ونقاؤه وكثافته وستره وتوسطه وكونه من جنس لباسه في الحياة لا أفخر منه ولا أحقر ، وليس المراد بإحسانه السرف والمغالاة ونفاسته. (تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي رقم الحديث ٩٩٥ أبواب الجنائز)
وهو فرض على الكفاية كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية ٢٢١/١ كتاب الصلاة باب الجنازة الفصل الثالث زكريا جديد)
و يكره الاقتصار على ثوبين لها و كذا للرجل على ثوب واحد إلا للضرورة كذا في شرح العيني (الفتاوى الهندية ٢٢١/١ كتاب الصلاة باب الجنازة الفصل الثالث زكريا جديد)
كل ما يباح لبسه في حال الحياة يباح تكفينه بعد الوفاة. (الفتاوى الهندية ٢٢٢/١ كتاب الصلاة باب الجنازة الفصل الثالث زكريا جديد)
*سینیٹائزر (Senetizer) کے مسجد میں چھڑکاو کا حکم*
*سوال:* سینیٹائزر (Senetizer) کا استعمال کیسا ہے؟ اس میں الکحل پایا جاتا ہے اور اس قسم کے سینیٹائزر کا مسجد میں چھڑکاؤ کرنا کیسا ہے؟ (حبیب الرحمن خان،ممبئی)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب بعون الوہاب*
مختلف ذرائع سے تحقیقات کے مطابق سینیٹائزر میں الکوحل ملائی جاتی ہے، لیکن جیسا کہ معلوم ہے الکوحل کی گونا گوں قسمیں ہیں اور کئی چیزوں سے تیار بھی کی جاتی ہے! چنانچہ وہ الکوحل جو گندم اور انگور کے کشید سے بنتی ہے وہ حقیقتاً خمر ہے اور وہ نشہ آور ہوتی ہے؛ اس لئے وہ حرام ھوتی ھے اور بلا ضرورت شدیدہ کسی چیز میں اس کا استعمال صحیح نہیں ہے، بعض الکوحل وہ ہوتی ہے جو دیگر پھل پھول سے بنتی ہے وہ عموما نشہ آور نہیں ہوتی ہے اور یہی الکوحل پرفیوم، عطریات اور سینیٹائزر وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ اس میں نشہ ہوتا نہیں ہے؛ یا ہوتا ہے مگر شراب کی تعریف اس پر صادق نہیں آتی؛ اس لئے یہ الکوحل ناپاک نہیں ہوتی ہے، اس لئے وہ اشیاء جن میں اس قسم کی الکوحل ملی ہو استعمال کرنے میں حرج نہیں ہے، دور حاضر میں چونکہ کرونا وائرس جیسی بیماری عام ہوتی تھی جارہی ہے اس لئے الکوحول ملی سینیٹائزر کو استعمال کرنے یا مساجد میں اس کا چھڑکاؤ کرنے میں مضائقہ نہیں (١) فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔
و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة التي عمت بها البلوى اليوم.... فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل إلى حلتها و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل على مذهب أبي حنيفة ولا يحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة ما لم تبلغ حد الاسكار..... و إن معظم الكحول التي تستعمل اليوم في الأدوية و العطور لا تتخذ من العنب أو التمر. (تكملة فتح الملهم ٦٠٨/٣)
*لاک ڈاؤن (Lockdown & Taraveeh) میں تراویح کا مسئلہ*
*سوال:* اگر لاک ڈاؤ بڑھ جائے تو رمضان کے مہینے میں تراویح پڑھنے کا کیا حکم رہے گا؟ قرآن مجید ختم کیا جائے گا یا پھر "الم تر کیف" سے تراویح پڑھی جائے گی؟ کیا حکم رہے گا شریعت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائے. عین نوازش ہوگی
(احمد رمضانی گودھرا گجرات)
*بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم*
*الجواب وباللہ التوفیق*
اس وقت کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی جو صورت حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، لوک ڈاؤن نے اس میں مزید دقتیں اور مصیبتیں پیدا کردی ہیں، ہندوستان کے بہت سے صوبوں میں رمضان تک لوک ڈاؤن کا سلسلہ دراز ہونے کی خبر آچکی ہے اور بعض دیگر صوبوں میں بھی یہی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے، اس صورت میں ظاہر ہے مساجد میں لوگوں کا مجتمع ہوکر نماز تراویح پڑھنا نہ ممکن ہوگا اور نہ ہی مناسب، ایسی صورت میں مساجد کے اندر نماز تراویح کا اہتمام صرف وہی لوگ اتنی ہی تعداد میں کریں جنہیں سرکاری طور پر اجازت دی گئی ہے، مساجد میں مجمع بڑھانے کی کوشش نہ کریں، یہ صورت بیماری سے تحفظ اور ملکی قانون کی پاسداری اور مسلمانوں کے امن و سلامتی کے لیے بہتر ہوگی۔
باقی رہے وہ لوگ جو مساجد میں حاضر نہیں ہوسکتے وہ اپنے گھروں یا چھتوں پر بھی نماز باجماعت اور تراویح کا اہتمام کرسکتے ہیں، اگر کوئی حافظ مل جائے یا گھر میں کوئی حافظ ہو تو پورا قرآن تراویح میں پڑھنے اور سننے کا اہتمام کریں اور اگر نہ مل سکے تو "الم تر کیف" یا دیگر قرآنی سورتوں کے ذریعے بھی تراویح ادا کر لی جائے، تراویح میں مکمل قرآن پڑھنا اور سننا سنت ہے، اس لئے باآسانی ممکن ہو تو اس سنت پر عمل کریں اور اگر مجبوری ہو تو شرعاً چھوڑنے کی گنجائش ہے، ان شاء اللہ ہر شخص کو اس کی نیت کی وجہ سے قرآن مجید سننے کا ثواب مل جائے گا۔
نیز قرآن مجید کی تلاوت کا ہر شخص اہتمام کرے بطورِ خاص وہ لوگ جو حالات کی وجہ سے مکمل قرآن سننے کی سعادت سے محروم ہوں انہیں چاہیے کہ وہ اس رمضان المبارک میں بکثرت قرآن کی تلاوت کریں، کیوں کہ اصل قرآن مجید کی تلاوت ہی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام سے اس مبارک مہینے میں قرآن مجید کثرت سے پڑھنا کتب سیرت و سوانح میں مذکور ہے؛ چنانچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو دور مکمل فرمائے۔
اسی طرح تابعین کے آثار سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے؛ کہ وہ رمضان کی راتوں میں کئی کئی قرآن مکمل کیا کرتے تھے، چنانچہ حضرت ابراہیم نخعی حضرت اسود کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ وہ رمضان کی ہر رات میں ایک قرآن مکمل کرتے تھے، مشہور تابعی حضرت قتادہ رمضان میں ہر تین رات میں ایک قرآن پڑھتے تھے، حضرت مجاہد ہر رات رمضان میں ایک قرآن پڑھتے تھے، اس قسم کے بے شمار آثار موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے صحابہ اور تابعین رمضان کی راتوں میں کئی کئی قرآن مجید مکمل کرنے کا اہتمام کرتے تھے اس لیے رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا خصوصی اہتمام کریں(١). فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔