???? *صدائے دل ندائے وقت*????(1193)
*کسانوں کا - رَیل روکو- احتجاج اور پیغام.*
https://t.me/joinchat/T78wo9HSWkM5dOhs
*آج ١٢/ بجے سے ٤/ بجے تک کسانوں نے ریل روکو آندولن کیا، جس کا اثر پورے دیش میں دیکھا گیا، جو لوگ اس احتجاج کو کچھ خاص عناصر کے ساتھ مخصوص کر رہے تھے ان کیلئے زبردست پیغام بھی تھا؛ حتی کہ پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اتر پردیش، مدھیہ پردیش ہی نہیں بلکہ کرناٹک، اترا کھنڈ، جمو کشمیر میں بھی لوگوں نے اس تحریک کو کامیاب بنایا، تقریباً ٥٠/ جگہوں پر اسے بھرپور دیکھا گیا، ٣٧/ ٹرینیں متاثر ہوئیں، کسانوں نے اسٹیشنوں، ریل کی پٹریوں پر بیٹھ کر، کسانوں کی حمایت اور زرعی قوانین کی مخالفت والے بینر تھام کر اور جوشیلے نعرے لگا کر احتجاج کیا گیا، سب ایک ہی آواز اور ایک ہی سُر میں تھے، اتحاد و اتفاق میں آہنی دیوار معلوم ہوتے تھے، دہلی کی سرحدوں کو چھوڑ کر ایک لمبے وقفے کے بعد نئے ایجنڈے پر بڑی مہارت کے ساتھ عمل کر رہے تھے، ہر کوئی کسان نیتاؤں کی پیروی اور ان کی اتباع کو لازم بتارہا تھا، چونکہ راکیش ٹکیت نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس میں کسی قسم کا کوئی تشدد نہ ہوگا، سرکاری ملکیت کو نقصان نہ پہنچایا جائے گا، جو کوئی اس کی مخالفت کرے گا ہم اس کی سخت گرفت کریں گے، پھر بھی ریلوے نے بھی ٢٠/ ہزار اسپیشل فورس کی تعیناتی کردی تھی، جو الگ الگ اسٹیشنز پر محاذ سنبھالے ہوئے تھے، مگر کہیں پر ایک پتھر بھی نہ پھینکا گیا، کسی کا ایک قطرہ خون بھی نہ ٹپکا، کہیں جائداد کا کوئی نقصان نہ ہوا؛ بلکہ اس کے برعکس یہ احتجاج بہت ہی نایاب طریقے پر پورا کیا گیا، کسانوں نے ٹرینیں روکیں، ان پر موجود مسافروں کیلئے کھانا، حلوا، جلیبیاں پیش کیں، اگر کوئی بچہ رو رہا ہو تو دودھ دیا، علاج کی ضرورت ہو تو دوائی فراہم کی، ان پر پھول بھی برسائے، ان سے بات چیت بھی کی اور انہیں یہ احساس دلایا کہ وہ کیوں کر احتجاج کر رہے ہیں، زرعی قوانین اور اجارہ داری کا کیا مفہوم ہے، انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ جس ٹرین میں تم سفر کر رہے ہو کل کو اگر یہی ٹرین سرکاری نہ رہے بلکہ پرائیویٹ ہوجائے تو کیا کروگے؟ تیجیس ایکسپریس کی کہانی سب کے سامنے ہے، صرف ایک ہی ٹرین پرائیویٹ کی گئی تو اس کا کرایہ ٢٥/ گُنا زیادہ بڑھایا گیا، نیز پٹنہ میں نوجوانوں نے پٹریوں پر بیٹھ کر نعرے لگائے، حالانکہ وہ کسان نہیں تھے؛ لیکن جانتے ہیں کہ سرکار نے کوئی آپشن نہیں چھوڑا، بیروزگاری اور بےکاری نے آگھیرا ہے، اب بھی اگر اپنے اندر کی بات نہ کہی گئی، سرکار سے ناراضگی کا اظہار نہ کیا گیا تو سب کچھ سے ہی ہاتھ دھو بیٹھیں گے، سونی پت، امبالا، ہاپور، روہتک، ریواڑی، میرٹھ، سہارنپور وغیرہ میں کسانوں نے خوب جلیبیاں تقسیم کیں، اور ریلوے ٹریک پر بیٹھ کر اپنی موجودگی درج کروائی، Ndtv کے ایک رپورٹر نے سینئر کسان سے پوچھا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹے! یہ پریشانیاں ہم انہیں کیلئے تو اٹھا رہے ہیں، تاکہ کل انہیں دقت نہ ہو، ویسے بھی ہم لوگوں کی سہولت کا پورا خیال رکھ رہے ہیں، صرف چند مقامات پر پولس اور کسانوں کے درمیان زورآوی دیکھی گئی، جہاں پولس کسانوں کو احتجاج سے روک رہی تھی، دہلی میں پہلے ہی تحفظاتی بندشیں مضبوط کردی گئی تھیں، ٤/ میٹرو اسٹیشنز کو احتیاطی طور پر بند کردیا گیا تھا، کسانوں کو اندر گھسنے اور اسٹیشنز پر قابو پانے سے پہلے ان پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کرلی گئی تھی.*
*غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ٤/ گھنٹوں کا یہ ملکی پیمانے پر احتجاج ہوا؛ لیکن کہیں پر کوئی قابل اعتراض بات نہ ہوئی، ظاہر ہے کہ مفسد عناصر کو پہلے ہی بھانپ لیا گیا تھا، اس سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دور میں ہونے والی ہلڑبازی کن لوگوں نے کی ہوگی اور اس سے کس کو فائدہ ہوا ہوگا؟ بہرحال اس میں خواتین کی شمولیت بھی بڑی تعداد میں تھی، سینئر صحافی پونیہ پرسون واجپائی نے ان کے ہجوم کی ایک تصویر دکھائی ہے، جس سے صاف محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اس احتجاج کی آگ گھر کے اندر تک لگی ہوئی ہے، جنہوں نے گھر کے کام کاج چھوڑ کر احتجاج کو اہمیت دی ہے، اس کا مطلب صاف ہے کہ کسی بھی قیمت پر کسان پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، ویسے جو لوگ کسانوں کے واپس لوٹ جانے کی بات کر رہے تھے ان کیلئے بھی آج کا دن قابل عبرت تھا، لاکھوں لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر ان کی آنکھیں بھی پھٹی رہ گئی ہوں گی، آسام میں وزیراعظم وِکاس یاترا، پَریوَرتن یاترا کی بات کر رہے تھے؛ وہاں کی عوام کو سنہرے مستقبل اور پالیسیوں کے سبز باغ دکھا رہے تھے، وعدے اور جملے بازی کر رہے تھے، تو پورے ملک میں کسان سرکار پرویرتن کی بات چلارہے تھے، ان کی شادابی کے پیچھے چھپی کنگالی کی تصویر دکھا رہے تھے، جملوں میں حقیقت کا آئینہ لگا رہے تھے، اسی طرح بنگال میں امت شاہ اور تمام بی جے پی کارندے ممتا بنرجی کو چیلینج کر رہے تھے تو ملک بھر میں ان کی پالیسیوں، سیاہ قوانین اور ہٹ دھرمی کو چیلینج کیا جارہا تھا، یہ صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ اس احتجاج سے اب گھر گھر متاثر ہورہا ہے، بلکہ کسانوں کے حسن سلوک اور رواداری سے یہ پیغام بھی گیا ہے کہ ہم کوئی ملک مخالف نعرے نہیں لگا رہے ہیں، ہمارا احتجاج ملک سے نہیں ہے، یہاں کی بنیاد سے نہیں ہے؛ بلکہ ہمارا احتجاج سرکار سے ہے، قوانین سے ہے، عموماً بی جے پی والے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسانوں کا احتجاج ویسا ہی ہے جیسے کہ انگلش دور میں دوسرے احتجاج ہوا کرتے تھے، وہ آندولن الگ تھے جب ملک مخالف عناصر کو یہاں سے بھگانے کی بات کی جاتی تھی، اب ملک کے لوگوں کو سیاہ قوانین، نفرت اور ناجائز سیاست کی بھٹی سے چھٹکارا دلانے کی بات ہے، کسان اپنے کردار سے بتارہے تھے کہ ہم ملک محافظ ہیں، ہمیں ہاتھ سے ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے، اور سرکار کو یہ تنبیہ کرنے کی حاجت ہے کہ وہ ہمارے ووٹوں سے بنی ہوئی ایک سرکار ہے، وہ ہمارے مالک نہیں ہیں، آخر کیا بات ہے کہ عوام کی لاکھ مخالفت کے باوجود کالے قوانین واپس نہیں لئے جاتے، کونسی مجبوری اور کونسی عالمی طاقتیں ہیں جنہوں نے انہیں ہائی جیک کرلیا ہے؟*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
18/02/2021
ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔