کیا قبرستان کےلئے وقف زمین پر سرکاری پانی ٹینکی بنوا سکتے ہیں

*????سوال وجواب????*

????مسئلہ نمبر 1238????

(کتاب الوقف، تبدیل وقف)

*سوال:* کیا قبرستان کےلئے وقف زمین پر سرکاری پانی ٹینکی بنوا سکتے ہیں؟ (عبد الحنان انصاری، نیپال)

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*الجواب و باللہ التوفیق*

وقف کے بارے میں واقف کے منشا کی رعایت ضروری ہے، چنانچہ اگر واقف نے عیدگاہ کے لئے زمین وقف کی تھی تو کسی اور مصرف مثلا بیچنا، ھبہ کرنا یا راستہ و ٹنکی وغیرہ بنانا شرعاً درست نہیں ہوگا، لیکن اگر واقف زندہ ہے اور وہ خود ٹنکی کے لئے جگہ دینا چاہتا ہے تو درست ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*????والدليل على ما قلنا????*

(١) عن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ : صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ، وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ، وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ ". هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. (سنن الترمذي رقم الحديث ١٣٧٦ أَبْوَابُ الْأَحْكَامِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. | بَابٌ : فِي الْوَقْفِ)

"إذا صح الوقف لم یجز بیعه ولا تملیکه، أما امتناع التملیک؛ فلما بینا من قوله علیه السلام: تصدق بأصلها، لایباع ولایورث ولایوهب". (الهدایة، کتاب الوقف، 3/14 بیروت)

’’وعندهما: حبس العين على حكم ملك الله تعالى؛ فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد؛ فيلزم، ولا يباع ولا يوهب ولا يورث‘‘. (فتح القدير للكمال ابن الهمام (6 / 203)، کتاب الوقف، ط؛ دار الفکر)

’’شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به‘‘. (فتاوی شامی، 4/433، کتاب الوقف، ط: سعید)

*كتبه العبد محمد زبير الندوى*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 22/12/1441
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔