کیا مسجد میں دوسری جماعت کی جاسکتی ہے

*محمد قمرالزماں ندوی*

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

جس مسجد میں محلہ والوں نے اذان اور تکبیر کے ساتھ جماعت کر لی ہو,تو اس مسجد میں دوسری جماعت کرنا بہتر اور درست نہیں ہے، علماء کرام اور ماہرین فقہ و فتاوی نے ایسا کرنے کو مکروہ تحریمی لکھا ہے ۔ اس لئے بہتر ہے کہ اپنی اپنی نماز ادا کرے اور جماعت ثانیہ نہ کرے دوسری بات یہ بھی ہے کہ جماعت ثانیہ (دوسری جماعت کرنے سے) سے فتنہ و فساد کھڑا ہونے کا قوی امکان اور اندیشہ ہے، اس لئے اس سے اجتناب ضروری اور لازمی ہے ۔

ائمہ اربعہ میں امام احمد بن حنبل رح کے نزدیک جائز ہے، کیونکہ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک صاحب جماعت کے ختم ہونے کے بعد آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایماء پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر انہوں نے دوبارہ جماعت بنائی۔ (ترمذی) علماء ظواہر اور سلفیوں کے نزدیک بھی اس کی پوری گنجائش ہے، وہ لوگ بھی اسی واقعہ سے استدلال کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں علامہ ابن باز لکھتے ہیں :

نعم تنعقد لھم جماعة، و الواجب علیھم ان یصلوا جماعة اذا فاتھم الجماعة الاولیٰ لعموم الآیات و الاحادیث فی الامر بالصلوات فی الجماعة، ولکن فضلھا لیس کفضل الجماعة الاولیٰ، و قد ثبت ان رجلا دخل المسجد بعد ماصلی الناس فقال النبی ﷺ۔ من یتصدق علی ھذا فیصلی معہ۔ و لقول النبی ﷺ۔۔ صلوۃ الرجل مع الرجل ازکی من صلوتہ وحدہ، و صلوتہ مع الرجلین ازکی من صلوتہ مع الرجل، وما کان اکثر فھو احب الی اللہ۔۔ خرجہ ابو داود

و قولہ صلی اللہ علیہ وسلم صلوۃ الجماعة افضل من صلوۃ الفذ بسبع و عشرین درجة ۔۔ ولکن لا یجوز للمسلم ان یتاخر عن صلوۃ الجماعة، بل یجب علیہ ان یبادر حین یسمع النداء۔۔( مجموع فتاویٰ لابن باز، ٤)

امام ابو حنیفہ رح عام حالات میں جماعت ثانیہ کو منع کرتے ہیں۔ یہی مسلک امام مالک رح کا بھی ہے۔ (المدونة الکبریٰ ٢/ ٨٩)

اسی طرح کی بات امام شافعی رح نے فرمائی ہے۔ (کتاب الام، ١/¹³۶)

ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔

*حدیث شریف* میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے *رسول صلی اللہ علیہ وسلم* دو خاندان کے درمیان صلح صفائی اور پنچہ پنچایت کرنے کے لئے گئے واپس ائے تو مسجد نبوی میں جماعت ہوچکی تھی *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے دوسری جماعت نہیں کی ،گھر جاکر نماز پڑھ لی ۔اگر جماعت ثانیہ میں کوئی قباحت نہیں ہوتی تو ضرور آپ مسجد میں نماز ادا کرنے کی فضیلت سے محرومی کو گوارہ نہیں فرماتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جماعت کا مقصود کا مقصود مسلمانوں کی اجتماعیت اور ان کا کثیر تعداد میں اجتماع ہے، اگر بار بار جماعت کی گنجائش دی جائے تو یہ مقصد فوت ہو جائے گا اور نماز پڑھنے والوں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں بن جائیں گی ۔

اس واقعہ کو دلیل بناکر اکثر علماء اس بات کے قائل ہیں کہ دوسری جماعت کرنا درست نہیں ہے اگر کوئ ایسا کرتا ہے تو یہ عمل مکروہ تحریمی ہے ۔ *و یکرہ تکرار الجماعة باذان و اقامة فی مسجد محلة لا فی مسجد طریق۔ (شامی ۲/ ۲۸۸)

البتہ بازار اور اسٹیشن وغیرہ کی وہ مسجد جہاں باقاعدہ جماعت سے نماز نہیں ہوتی اور جہاں امام اور موذن متعین نہیں ہوتے وہاں دوسری جماعت قائم کرنے میں کوئ حرج نہیں ہے ۔ فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے ۔

استاد محترم جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی اس سلسلہ میں تحریر فرماتے ہیں ۔

*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں معمول مبارک ایک ہی جماعت کا تھا ،ایک سے زائد جماعتوں کا نہیں اور یہی شریعت کے مزاج کے مطابق ہے ،کیونکہ نمازیں تو گھر میں بھی ادا کی جاسکتی ہیں، بلکہ اگر گھر میں نمازیں ادا کی جائیں تو اس میں ریاء اور دکھاوے کا پہلو کم پایا جاتا ہے ،لیکن مسجد میں آکر جماعت کے ساتھ نماز کا حکم اس لئے دیا گیا کہ مسلمانوں کی جماعت کثیر ہو ،اب اگر بار بار چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہونے لگیں ،تو ظاہر ہے کہ جماعت کی کثرت متاثر ہوگی،*حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ* سے روایت ہے کہ *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم* حضرات انصار کے درمیان پیدا ہونے والی ایک نزاع ( لڑائی و جھگڑا ) کو حل کرنے کے لئے تشریف لے گئے ،جب واپس تشریف لائے تو مسجد میں جماعت ہوچکی تھی، *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* بعض ازواج مطہرات کے حجرہ میں تشریف لے گئے اور گھر والوں کو جمع کرکے جماعت فرمائ ۔ ( مجمع الزوائد : ۱/ ۱۶۰) ظاہر ہے کہ مسجد میں فرض نماز کو ادا کرنے کی فضیلت گھر میں ادا کرنے سے زیادہ ہے ،اس کے باوجود *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے مسجد میں دوبارہ جماعت کرنے کی بجائے گھر میں اہل خانہ کے ساتھ جماعت بنانے کو ترجیح دی ۔

البتہ بعض فقہاء نے احادیث و آثار کو سامنے رکھتے ہوئے بعض صورتوں کو اس سے مستنی اور علحدہ رکھا ہے ،مثلا ایک مسجد میں اذان بھی نہیں ہوئی ہے ،کچھ لوگوں نے جماعت بناکر نماز پڑھ لی ،تو اذان کے بعد دوسری جماعت کی جائے گی ،کیونکہ جب تک اذان نہیں ہوتی ہے ،مسجد کے مستقل مصلی( نمازی) نہیں آتے ہیں اور وہ جماعت میں شرکت کے زیادہ حقدار ہیں ،اسی طرح بعض مسجدیں سر راہ یا بازار میں ہوتی ہیں، یہاں محلہ کے نمازی نہیں ہوتے ہیں، بلکہ مختلف لوگ اپنے طور پر نماز پڑھ لیتے ہیں، وہاں بھی ایک سے زیادہ جماعت کی جاسکتی ہے ، یہی حکم اس مسجد کا ہے جس میں امام اور موذن مقرر نہ ہوں ۔ ( بدائع الصنائع : ۱/ ۳۷۹)

مسجد محلہ ہو اہل محلہ نے نماز ادا کرلی ہو لیکن اذان اتنی آہستہ دی کہ لوگ سن نہ سکے اس صورت میں بھی جماعت ثانیہ جائز ہے۔

امام ابو یوسف رح کے نزدیک اگر جماعت ثانیہ کی ہئیت جماعت اولی سے مختلف ہو تو جماعت ثانیہ میں مضائقہ نہیں، اور اختلاف ہئیت کے لیے یہ بات کافی ہے کہ پہلے جس جگہ جماعت ادا کی گئی تھی اب وہاں سے ہٹ کر جماعت کی جائے۔

امام محمد رح کی رائے یہ کہ جماعت ثانیہ اس وقت مکروہ ہے جب اس کے لیے دعوت دی جائے اور اجتماع کیا جائے، چند آدمی پڑھ لیں تو کوئی حرج نہیں، اسی طرح ایک قول امام ابو یوسف رح سے بھی منقول ہے کہ جماعت ثانیہ اس وقت مکروہ ہے، جب اس میں شرکاء زیادہ ہوں۔ (قاموس الفقہ، ٣، ١٢٠)

البتہ چونکہ بعض صحابہ سے اتفاقیہ طور پر جماعت کے بعد دوسری جماعت کرنا ثابت ہے ؛ اس لئے بعض فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے ۔ ایک روایت ملتی ہے کہ ایک صحابی نے نماز شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون ہے جو ان کی مدد کرے، وہ صحابی مسافر تھے یا مقیم اس کی صراحت نہیں ملتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرچکے تھے پھر بھی کھڑے ہوئے اور ان صحابی کے ساتھ نماز ادا کی، یعنی نفل نماز پڑھی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحابی ممکن ہے مسافر اور مسجد کے غیر معلوم نمازی ہوں، ایسے لوگوں کو جو جو مسجد کے معلوم اور عام نمازی نہ ہوں ان کو جماعت ثانیہ کی اجازت ہے۔

سعودی عرب میں زیادہ تر لوگ اسی رائے پر عمل کرتے ،اس لئے اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کو وجہ نزاع بنانا چاہئے ،مگر افضل طریقہ وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا کہ مسجد میں معمولا ایک سے زیادہ جماعت نہ بنانی چاہئے ۔ ( مینارئہ نور منصف جمعہ ایدیشن ۱۹ مارچ ۲۰۱۰ء)

موجودہ حالات میں جب کہ مسجد میں بڑی جماعت کرنے پر پابندی ہے، میری رائے میں اگر اختلاف و انتشار کا خطرہ نہ ہو اور آیندہ دوسری جماعت کے قائم کرنے کا معمول بن جانے کا اندیشہ نہ ہو تو علماء اور اصحاب افتاء کو مخصوص اور غیر نارمل حالات میں اس کی اجازت دینی چاہیے اور اور اختلاف اقوال علماء سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ورنہ اتنی گنجائش ہونی چاہیے کہ جو لوگ جس مسلک کے علماء اور اصحاب افتاء کے اقوال و فتاویٰ پر عمل کرتے ہیں وہ لوگ ان کی بتائی ہوئی رہنمائی اور فتویٰ پر عمل کریں اور اس کو وجہ نزاع اور فساد بین المسلمین کا ذریعہ ہرگز نہ بنائیں، بہت افسوس ہوتا ہے کہ باطل اپنے منصوبہ اور پلانگ میں جٹا ہوا ہے اور ہم فقہی اختلاف میں الجھے ہوئے ہیں، اور فقہی مسالک میں جہاں توسع کی گنجائش ہے وہاں بھی شدت کی راہ و روش اختیار کئے ہوئے ہیں ۔

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔