کیڑوں کو جلا کر دوا بنانے کا حکم

*????سوال وجواب????*

????مسئلہ نمبر 1258????

*کتاب الحظر و الاباحہ، باب العلاج*

*کیڑوں کو جلا کر دوا بنانے کا حکم*

*سوال:* کچھ کیڑے مکوڑے ایسے ہو تے ہیں جن کو تیل میں جلا کر دوا تیار کی جاتی ہے۔کیا یہ درست ہے؟ اگر ان کو جلانے سے پہلے مارا جائے گا تو سارا تیل زمین میں نکل جائے گا اور مارنے میں دقت ہو تی ہے۔ (ضیاء الرحمن، مشرقی یوپی)

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*الجواب و باللہ التوفیق*

طبی نقطۂ نظر سے یہ بات مسلم ہے کہ بہت سی مفید اور مؤثر دوائیں کیڑوں مکوڑوں اور ان کے تیل و چربی سے حاصل ہوتی ہیں، اور جیساکہ سوالنامہ میں بتایا گیا کہ اگر کیڑوں کو مار کر تیل حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو مشقت بھی ہے اور خاطر خواہ تیل بھی حاصل نہیں ہو سکتا؛ جب کہ انسانی فائدے کے لئے دوا کی ضرورت دامن گیر ہے؛ اس لیے جلا کر تیل حاصل کرنے میں حرج نہیں، انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے اور دنیا کی تمام چیزیں اس کے استفادے اور استعمال کے لئے ہیں؛ اس لیے اس طرح بھی کیڑوں سے تیل حاصل کیا جاسکتا ہے(١)۔ فقط والسلام واللہ اعلم بالصواب۔

*????والدليل على ما قلنا????*

(١) وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا (الإسراء 70)

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرة 29)

قالَ ابْنُ كَيْسانَ: ﴿خَلَقَ لَكُمْ﴾ أيْ مِن أجْلِكم، وفِيهِ دَلِيلٌ عَلى أنَّ الأصْلَ في الأشْياءِ المَخْلُوقَةِ الإباحَةُ حَتّى يَقُومَ دَلِيلٌ يَدُلُّ عَلى النَّقْلِ عَنْ هَذا الأصْلِ، ولا فَرْقَ بَيْنَ الحَيَواناتِ وغَيْرِها مِمّا يُنْتَفَعُ بِهِ مِن غَيْرِ ضَرَرٍ، وفي التَّأْكِيدِ بِقَوْلِهِ: جَمِيعًا أقْوى دَلالَةً عَلى هَذا. (فتح القدير — الشوكاني البقرة ٢٩)

*كتبه العبد محمد زبير الندوى*
دار الافتاء و التحقیق بہرائچ یوپی انڈیا
مؤرخہ 13/1/1442
رابطہ 9029189288

*دینی مسائل عام کرنا ثواب جاریہ ہے*

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔