ہم بھی سیاہ باب میں لکھے جائیں گے

???? *صدائے دل ندائے وقت*????(999)
*ہم بھی سیاہ باب میں لکھے جائیں گے__!!*

*صرف بابری مسجد کی شہادت اور ہندوازم کا تشدد، اس کے اثرات اور مسلم سماج میں بکھراؤ ہی وقت کا عظیم بحران نہیں ہے، یقیناً اکثریت کا ستم ایک سیاہ باب ہے، جب جب مستقبل میں منصف قلم حرکت کرے گا تو وہ اکثریت کو کوسے گا، دھارمک سیاست اور مفاد پرستی کی خاطر پورے ملک کو ایک ہی رنگ میں خلط ملط کرنے اور انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے جمہوریت کو طاق پر رکھنے اور سیکولرازم کی کو کہاوت بنانے پر افسوس کرے گا، وہ ہندوؤں کے تعصب اور اقلیت کے خلاف منتقامانہ سوچ کو لیکر فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے؛ رام مندر کو ایک ایسے نشان کے طور پر ابھارے گا کہ جس سے انسانیت شرمسار ہوجائے، جور و ظلم کی عبارت نقش ہوجائے، سیاست میں کمزوری کا انجام سامنے آجائے، تعلیم یافتہ اور حقیقی معنوں میں سیکولرازم کو ماننے والے تو اپنی پیشانی جھکادیں گے اور ممکن ہے؛ کہ وہ خود اس مندر کے خلاف ہوجائیں؛ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا صرف وہی مجرم ہیں؟ کیا صرف انہیں کی زوردستی کا اثر ہے؟ کیا انہوں نے ہی سب کچھ کیا ہے؟ نہیں __ ہرگز نہیں. جرم ہمارا بھی ہے، قصور ہم نے بھی کیا ہے، تاریخ ان سے زیادہ ہمیں طعنے دے گی، ہمیں نکما، بے بس اور خودپاند کہی کر پکارے گی، لاریب آئندہ نسلیں یہ سوچنے پر مجبور ہوں گی؛ کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر ایک بدیہی حقیقت سے ہاتھ دھونا پڑا، ساری کاوشیں کافور ہوگئیں.*
*بابری مسجد کی پانچ سو سالہ تاریخ کو مسمار ہوتے دیکھنا پڑا، خانہ خدا کو صنم خانہ میں بدلنے اندوہناک منظر کا سامنا کرنا پڑا؟ وہ ہمارے اندرونی اختلافات، مفاد پرستی، دین بیزاری، اور تفرقہ بازی پر ماتم کرے گا، ہمارے مسلک و مذہب کی غیر رواداری اور انسانیت سوز مباحث و سوچ پر آنسو بہائے گا، اور وہ اس فکر میں ڈوب جائے گا کہ آخر کونسا عیب ہمارے اندر موجود نہیں، جو لاتحزن سے دور کردے، "أنتم الأعلون" سے پرے کردے؟ کہتے ہیں جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا، جبکہ ہماری حقیقت یہ ہے کہ ہم صرف بانسری ہی نہی بجا رہے ہیں؛ بلکہ پورا کنسرٹ کر رہے ہیں، سنگیت کے ساتھ ساتھ موج و مستی ہے، چنانچہ پوری امت ایک ایسے اندھیرے کی طرف دوڑ رہی ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، تاریکی کی طرف بڑھتے قدموں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے، آزدی ہند کے وقت مسلمانوں نے پورے بھارت پر اپنی چھاپ بنا رکھی تھی، کوئی شعبہ ایسا نہ تھا کہ انہیں نظر انداز کیا جائے؛ لیکن پچھلے ستر سالوں میں ترقی کے بجائے تنزلی کا یہ حیران کن سفر طے کیا گیا ہے، خدا جانے ماہرین کیا کر رہے تھے؟ اکابرین کی مالا جپنے والے اور ان کے پیروں کی دھول کو آنکھوں کا سرمہ باننے والے کیوں جواب نہیں دیتے؛ کہ امت اس موڑ پر کیسے پہونچ گئی، یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اس قوم کی ساری آبادی چند اشخاص کے ارد گرد گھومتی رہی، ان کے اندر کچھ خاص موضوعات گردش کرتے رہے، اور زمانہ ترقی کی طرف سرپٹ دوڑتا رہا.*
*ذرا غور کیجئے__! صدیوں تک ایک ہی طرز کا نصاب، ادارہ اور تعلیمی نہج، حکومت سے کوئی تال میل نہیں، سیاست میں کوئی دسترس نہیں، آئینی حقوق تک پہونچنے کی کوئی راہ نہیں، ڈاکٹرز اور انجینئرز غیروں کے ہیں، سرکاری دفاتر میں میں مسلمانوں کی شرح نہ کے برابر ہے، تحفظات کے شعبے میں وہ دور دور تک دکھائی نہیں دیتے، چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارا اعلی شعبوں اور اداروں میں کوئی حصہ نہیں، ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دوسری سب سے بڑی آبادی کے درمیان رہ کر بھی کسی جزیرہ میں قید ہوگئے ہیں، ہمارے سروکار میں کوئی ربط نہیں، تعلقات میں بہتری نہیں، حتی کہ بنیادی تعارف میں بھی کوئی نام نہیں، ایسے میں یہ سوچنا چاہیئے؛ کہ جس ایک مسجد کیلئے آج واویلا کیا جارہا ہے، کیا امت نے سوچا ہے کہ ہم نے بقیہ مساجد کے ساتھ کیا رویہ اپنا رکھا ہے، ہماری زندگی میں مساجد کی کیا اہمیت ہے؟ بلاشبہ ہماری مسجدیں صرف ایک رسمی عبادت گاہیں بن کر رہ گئیں ہیں، وہاں سے نہ کوئی پیغام جاتا ہے نہ کوئی تحریک اٹھتی ہے اور ناہی کوئی انقلابی تبدیلی پیدا ہوتی ہے، جو امت کی قسمت بدل دے، ہماری زندگی کا مقصد تبدیل کردے، اس کے برعکس ہمارے سرمایہ دار زکات دیتے ہیں؛ لیکن وہ ایک ہی طبقہ تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، ہمیں بڑی تعداد اسکول و کالجز کی ضرورت ہے، سول سروسز میں ہماری نمائندگی بڑھانے کی حاجت ہے، اور وقت کا تقاضہ ہے کہ نوجوانوں کو تیار کیا جائے، انہیں ایمان کے ساتھ تکنیکی دنیا سے لیس کرکے، اسلام کا نمائندہ بنایا جائے، جب تک یہ نہ ہوگا تو ظالم ظلم نہ کرے تو کیا کرے__!!*
*قوم کے نام نہاد رہبر رہبری و قیادت کے نام پر تقریروں کی جاذبیت سے مسحور کرتے رہے ہیں؛ مگر میدانی کارنامے نہ کے برابر رہے، ایک پل کو رکئے__!! ذرا سوچئے آخر کیسے یہ سب ہوگیا، تخت وتاج سے فوٹ پاتھ تک کیسے آگئے- پندرہ سال قبل بھی سچر کمیٹی کی رپورٹ آئی اور ہمیں دلتو سے بھی بدتر کیٹیگری میں رکھا گیا، اگر اس کے بعد کا بھی جائزہ لیا جائے، تو یقیناً کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے رپورٹ کے بعد بھی ہوش نمکھ ناخن نہ لئے، اس پرزے کو لیکر موجودہ سیاسی صورتحال کو لعن و طعن کرتے رہے، مگر اتنی توفیق نہ ہوئی کہ خود کو کم از کم دلتوں سے کمتر کی علامت ہٹائیں __ آج دلت کی ایک آواز ہے، وہ مظلوم ہیں؛ لیکن ان کی مظلومیت پر دوسرے رحم کھاتے ہیں، ان کی سیاسی کیفیت بھی کہیں بہتر ہے؛ مگر ہماری سیاسی کمر ٹوٹ چکی ہے، متحدہ آواز کا کوئی پتہ نہیں، حتی کہ اب ہمارے حق میں کوئی بولنا تک نہیں چاہتا؛ کیونکہ یہ ان کی سیاسی خودکشی کا سبب بن سکتی ہے، اب بس مظلوم رہو اور خود کے زخم سیتے رہو، ایسے میں بھلا کیوں کر تاریخ ہمیں سیاہ باب میں نہ لکھے! کاش ہم متحدہ محاذ تیار کریں، قیادت سوجھ بوجھ اور فعال ہو، وہ پوری مسلم امہ کو جوڑ کر ایک سرکل بنائے، حکومت کو مجبور کریں کہ وہ ہمیں مؤثر سمجھیں اور ملک کی ترقی کا ایک اہم عنصر جانیں __!!*

✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
08/08/2020

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔