???? *صدائے دل ندائے وقت*????(806)
*یہ سرکار کی بوکھلاہٹ ہے __!!*
*سی اے اے کے خلاف ملک گیر احتجاج کو دیکھتے ہوئے سرکار کے قدم ڈگمگا گئے ہیں، ان کے اندر عجب سی بوکھلاہٹ پائی جارہی ہے، رام لیلا میدان سے مودی کا بیان کہ ہم نے کبھی بھی NRC پر بات تک نہ کی اور پھر NRC کیلئے امت شاہ کا جگ ظاہر بیان دینا اسی بات کی عکاس ہے، تو وہیں لکھنؤ پہونچ کر سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل ہی یہ فیصلہ سنا دینا کہ ہم کسی حال میں بھی سی اے اے واپس نہ لیں گے، خواہ اس کے خلاف کتنا ہی احتجاج ہوجائے، مظاہرے ہوجائیں. اور پھر اس کے بعد تمام مظاہرین کی ذمہ داری اپوزیشن پارٹیوں پر ڈال دینا بھی اس کا ثبوت ہے، سبھی جانتے ہیں کہ ملک میں جو کام اپوزیشن کو کرنا چاہیے تھا وہ عوام کررہی ہے، ان کے پاس کوئی لیڈرشپ نہیں ہے؛ بلکہ اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب کبھی نیتاوں کی جماعت نے ان کا رخ کیا تو انہیں منہ کی کھانی پڑی ہے، ششی تھرور جامعہ ملیہ گئے مگر کچھ ہاتھ نہ آیا، شاہین باغ دہلی جاکر اکثر کانگریس نیتا اسے اچکنے کی کوشش کرتے ہیں؛ لیکن سب بیکار ہے، اب وہ سب کانفرنس تک محدود ہوگئے ہیں، بیانات جاری کرنے اور مذمت کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں.*
*ان سب کے باوجود اپوزیشن کو بیچ میں لانا اور انہیں ملکی بے چینی کا ذمہ دار قرار دینا افسوس کی بات ہے، مزید یہ کہ سی اے اے کے خلاف وکلاء و ماہرین کو چھوڑ کر انہیں کو بحث کیلئے چیلنج کرنا بھی دماغی خلل ہے، یہ صرف لوگوں پر دھونس جمانے اور اپنی انانیت ظاہر کرنا ہے، اسی طرح ہوگی آدتیہ ناتھ کا کانپور کی سرزمین پر بھونڈا بیان دینا اور یہاں تک کہہ دینا کہ ہم ان احتجاج کرنے والوں سے سختی سے نپٹیں گے، اور ان خواتین کا مزاق بنانا بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی سرکار کس قدر عقل سے محروم ہے، ان کے اندر بے اطمینانی اور بوکھلاہٹ ہے، وہ خود نہیں سمجھتے کہ کیا کہا جائے اور کیا کہا جائے؟ اسی کے ساتھ دہلی کے انتخابات میں تمام بی جے پی نیتاوں کا ذہنی دیوالیہ پن دیکھا جا سکتا ہے، مظاہرہ کرنے والوں کو گولی مارنے کی دھمکی، پاکستان چلے جانے کا واویلا، اور امت شاہ کا یہ کہنا کہ یوں کمل کا بٹن دبائیں کہ شاہین باغ والوں کو کرنٹ لگے وغیرہ..... غور کیجئے! وے اپنے بیانات کے ذریعے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عوام کو بہلانے کی جد وجہد کرتے ہیں، وے نوجوانوں کو ناسمجھ بتاتے ہیں، انہیں قانون کی باریکیوں سے ناواقف گردانتے ہیں، خاص طور سے اسٹوڈنٹس کو یہ کہتے ہیں کہ وہ ابھی نادان ہیں، وہ قانون کو سمجھ نہیں سکتے، اور انہیں تعلیم پر دھیان دینا چاہیے___!!*
*آج کل سب سے زیادہ ملک کی خواتین کو ٹارگٹ کرتے ہیں، اور انہیں میدان میں آنے کا طعنہ دیتے ہیں، یہ عجب طرفہ تماشہ ہے کہ کبھی مسلم خواتین کو گھر میں رہنے کیلئے برا بھلا کہا جاتا ہے اور کبھی وہی میدان میں آکر اپنے اختیارات مانگیں، اپنا حق مانگیں تو انہیں معیوب سمجھا جاتا ہے، پولیس سے بر برتا بھی کروائی جاتی ہے، گھنٹہ گھر لکھنؤ میں خواتین کے احتجاج پر ایکشن لیا گیا، ان سے کمبل اور شامیانے تک چھین لئے گئے، انہیں مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ لوٹ جائیں؛ لیکن وہ خواتین بھی جان گئی تھیں؛ کہ یہ ان کی بوکھلاہٹ ہے، ذرا سوچئے__! ملک کے سو سے زائد شہروں میں احتجاجات چل رہے ہیں، کام کاج سب تھپ ہے، کیرلا کے اندر ٦٢٠ کلومیٹر انسانی چین بنا کر رکارڈ بنایا گیا، بنگال میں ١٢ کلومیٹر تک انسان ایک سلسلہ بنا کر احتجاج کرتے رہے، کئی گاؤں کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے سمادھی یعنی قبر نما میں صبح وشام کر کے احتجاج کر رہے ہیں، اب حکومت کی بے قراری دیکھئے کہ اکثر مقامات پر دفعہ ٤٤ لگادی گئی ہے.*
*اس کے مطابق ایک مقام پر چار سے زائد لوگ جمع نہیں ہوسکتے، گویا یہ کرفیو کے مانند ہے؛ لیکن عوام ان سب کو بھول کر میدان میں اتر چکی ہے، نیز اکثر جگہوں پر انٹرنیٹ بند کردیئے گئے ہیں، تاکہ کسی طرح کی بھی خبر یہاں سے وہاں نہ جائے، ہندوستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں پر سب سے زیادہ انٹرنیٹ بند کردیا جاتا ہے، ملک اس سلسلہ میں گویا سیریا، عراق وغیرہ سے بھی بدتر صورتحال میں ہے، بوکھلاہٹ کی اس فہرست میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آسکتا ہے؛ کہ حکومت کو چار ہفتے دئے گئے، حالانکہ انہوں نے چھ ہفتے کا مطالبہ کیا تھا، یہ بھی ایک خوف وہراس ہے، سرکار دراصل نادانی کررہی ہے، وہ عوام کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہے، انہیں لگتا ہے کہ ان کے پاس ٣٠٣ کی طاقت ہے، اور اب بھی ساڑھے چار سال بچے ہیں، جن میں سب کچھ کنٹرول کر جائیں گے؛ لیکن یہ ان کی بھول ہے، انہیں جاننا چاہئے کہ عوام سے ہی جمہوریت ہے، اگر وہ خاموشی توڑ لیں تو حکومت گر جاتی ہے، اس کی میعاد بھی ختم ہوجاتی ہے، افسوس کی بات ہے کہ یہ سابق حکمرانوں سے بھی سبق نہیں لیتی، اگر یونہی چلتا رہا تو قوی امکان ہے؛ کہ ان کے پانچ سال بھی پورے نہ ہوپائیں اور یہ سرکار اپنی بوکھلاہٹ کے ساتھ دفن ہوجائے، یہ بھی ممکن ہے کہ تاریخ انہیں ایک عبرت بنا کر رکھ دے، اور گزشتہ متعدد پارٹیوں کی طرح قصہ پارینہ بن جائے.*
✍ *محمد صابر حسین ندوی*
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
28/01/2020