آپ آئے تو عورت کو عزت ملی ۲

*آپ ائے تو عورت کو عزت ملی* (آخری قسط)

*محمد قمرالزماں ندوی* *مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*عورت* کی دوسری حیثیت بیوی کی ہے ،اہل عرب *زمانہ جاہلیت* میں بیوی کے ساتھ بھی ناروا سلوک کرتے تھے ،اس کے ساتھ بدگوئ کرتے تھے ،گالیاں دیتے تھے ،برا بھلا کہتے تھے ،گالی اور دشنام طرازی کا ایک طریقہ اور صورت یہ تھی کہ عرب غصہ میں آکر بیوی سے ۰۰ ظہار۰۰ کر لیا کرتے تھے یعنی بیوی کو ماں بہن سے تشبیہ دیتے تھے ۔ اسلام نے ان تمام چیزوں سے منع کیا اور حکم دیا گیا کہ اگر کوئ شوہر ایسا کرے تو اس وقت تک بیوی کے پاس نہیں جاسکتا جب تک کہ وہ اس کا کفارہ ادا نہ کرلے اور اس کے لئے کفارہ بھی سخت مقرر کیا گیا ۔ جس کے احکام اور دیگر تفصیلات قرآن مجید میں موجود ہے ۔ ایک طرف اہل عرب کا اپنی بیویوں کے ساتھ یہ رویہ تھا اس کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کا کیا درجہ اور مقام بتایا اور اس کے ساتھ کس طرح پیش آنے کی تلقین کی نیز اس کی صنفی نزاکتوں کا کتنا خیال رکھنے کا حکم دیا آئیے اس کی تفصیلات سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تلاش کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ جس قدر حسن سلوک کی تاکید و تلقین فرمائ اس کی مثال بہت کم ہی کہیں مل پائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر وقت تک بیوی کے ساتھ حسن سلوک اور نیک برتاو کی تلقین کی، خطبئہ حجۃ الوداع میں بھی اس جانب توجہ دلائ اور مرض وفات کے درمیان جو نصیحتیں فرمائیں ان میں بھی اس پہلو پر اور اس جانب خاص زور دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۰۰ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق و کردار عمدہ ہوں اور عمدہ و بہتر اخلاق رکھنے والا وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر برتتا ہو ۔ پھر فرمایا کہ میں تم سب میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر برتاو کرنے والا خود میں ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کی جملہ ضروریات شوہر کے ذمہ کر دی ، اس پہلو سے بھی ذرا غور کیجئے کہ دوسرے کا مال بلا اجازت لینا اور اس کا کھانا ناجائز اور سخت گناہ بلکہ حرام ہے لیکن بیوی کو اجازت دی گئ کہ اگر شوہر باوجود خوش حالی اور مالداری کے خرچ میں تنگی کرتا ہو بخل سے کام لیتا ہو تو ضرورت کی مقدار شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر بھی لے سکتی ہے ۔ اس سلسلہ میں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشہور واقعہ اور اسوہ ہمارے سامنے ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہندہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کسی قدر بخیل آدمی ہیں، ضرورت کے مطابق خرچ بھی نہیں دیتے تو کیا میرے لئے ان کے مال میں سے بلا اجازت کچھ لینا جائز ہوگا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچے کی کفالت کی لئے کافی ہوجائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو حق دیا کہ شادی کے بعد بھی والدین کریں ۔ اسے حق دیا کہ وہ جب مناسب سمجھے اپنے والدین سے مل سکتی ہے ان کی خدمت کرسکتی ہے بلکہ اگر بلا اجازت بھی ہفتہ میں ایک بار والدین سے ملنے جاتی ہے تو ان کا یہ ملنا غلط نہیں ہوگا ۔ اہل عرب زمانئہ جاہلیت میں بیوی سے ناراض ہو کر بے تعلق رہنے کی قسمیں کھاتے تھے ۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں ایلاء کہا جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس طرح کی غلط باتوں کو ختم کیا اور اگر کوئ شخص نہیں ماتا اور وہ قسمیں کھاتا ہے تو شریعت نے حکم دیا کہ اگر کوئ شخص چار ماہ بیوی سے بے تعلق رہنے کی قسم کھا لے اور اس سے ربط نہ رکھے تو میاں بیوی کے درمیان علحدگی کا حکم دیا جائے گا اور اس طرح دونوں کا رشتہ ٹوٹ جائے گا ۔

*رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم* نے بیویوں کے ساتھ لطف و کرم اور الفت ومحبت کا جو معاملہ فرمایا اور ان کی صنفی نزاکتوں کا جس درجہ اور جس حد تک خیال رکھا تاریخ انسانی میں اس کی کوئ مثال اور نظیر نہیں ملتی ۔ *رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم* کا عام سلوک اور برتاو اپنی ازواج مطہرات (پاک بیویوں) کے ساتھ نہایت شفقت و درگزر لطف و کرم اور بے تکلفی کا تھا ،بعض اوقات *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کی ازواج میں سے کوئ کسی بات کا جواب دے دیتیں تو *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* اس کا برا نہیں مانتے ،مثالیں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔ *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کا ازواج مطہرات کے ساتھ بے تکلفی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تب بھی میں اس کا اندازہ کر لیتا ہوں اور جب ناراض ہوتی ہو ،جب بھی اندازہ ہو جاتا ہے اور اس طور سے کہ جب ناخوش ہوتی ہو اور قسم کھانی ہوتی ہے تو کہتی ہو *برب ابراھیم* ابراہیم کے رب کی قسم اور جب خوش ہوتی ہو اور قسم کھانی ہوتی ہے تو کہتی ہو *برب محمد* محمد کے رب کی قسم ! عائشہ رضی اللہ عنہا ہنسی اور فرمایا کہ یہ صرف زبان کی حد تک ہوتا ہے ،ورنہ دل میں ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جلوہ فرما ہوتی ہے ،اس سے اندازہ کیا جا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ کس خوش مزاجی اور دلداری کا معاملہ فرمایا کرتے تھے ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی دلبستگی کے لئے اور ان کے مزاج کو فرحت و تازگی بخشنے کے لئے کبھی کبھی رات میں ماضی کے سچے اور اچھے واقعات بھی سناتے تھے ام زرع والا واقعہ تو مشہور و معروف ہے جس کا تذکرہ احادیث کی کتابوں میں موجود ہے ۔ *ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا* حرم مبارک میں آئیں تو کم عمر تھیں ، ان کی اس کم سنی کا آپ نے ایسا خیال رکھا کہ خود کھڑے ہوکر حبشیوں کا کھیل دکھایا اور جب تک تھک نہ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے،حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت میں آئیں تھی تو ان کے پہلے شوہر کے کئ بچے یتیم ہوکر آپ کے ساتھ تھے لیکن حضرت سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ان بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا سلوک کیا کہ ان بچوں کو کبھی آپ نے یتیمی کا احساس ہونے نہیں دیا اور خود حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خود کبھی ان یتیموں کے وجود کو اپنے لئے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے بار خاطر نہیں سمجھا ۔ بیوی کے ساتھ ہنسی مذاق شگفتہ مزاجی سے پیش آنا اور اس کے ساتھ کھیل کود میں کبھی کبھی مقابلہ بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا پہلی بار آپ جیت گئے اور پھر دوسرے موقع پر مقابلہ ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں اور وہ جیت گئیں واقعہ یہ تھا کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بھاری تھا آپ موبدن اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پھرتیلی اور تیز رفتار تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو معاملہ برابر سرابر ہوگیا ۔ بیوی کو روپیے پیسے دے دینا زیورات سے ان کو اراستہ کر دینا اور زیورات و ملبوسات میں نہا دینا مالدار اور روپیئے پیسے والوں کے لئے کچھ دشوار نہیں، لیکن گھر کے باہر اتنی مصروف و مشغول زندگی ہو اور کاموں اور ذمہ داریوں کے بوجھ بندھے ہونے کے باوجود قدم قدم پر پر جذبات و احساسات کی یہ پاسداری اور مزاج کی ایسی رعایت آسان نہیں ہے ۔ یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال تھا اور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر باہر کی زندگی میں پوری انسانیت کے لئے سب سے عظیم نمونہ اور آدئیل ہیں داخلی اور گھریلو زندگی میں بھی اسی قدر آپ سب کے لئے بہترین اور بے مثال اسوہ اور نمونہ ہیں ۔

*عورت* کی تیسری حیثیت ماں کی ہے ۔ اس حیثیت سے عورت کو اسلام نے جو قدر و منزلت اور مقام و مرتبہ دیا اس کی مثال کسی بھی مذھب اور سماج میں نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ماں کو جو عزت عطا فرمائ ،شاید اس سے بڑھ کر عزت و احترام ممکن نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ جہاں ازدواجی حقوق میں شوہر سے زیادہ بیوی کا خیال رکھا اور کی تاکید فرمائ ،اسی طرح ماں کے حقوق، باپ کے مقابلے میں زیادہ رکھے اور ماں کی فضیلت زیادہ بیان کی ،آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ماں کے قدموں کے نیچے باغ و بہشت (جنت ) ہے اور باپ کے بارے میں فرمایا کہ وہ جنت کا دروازہ ہے ۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک اور میری خدمت کا سب زیادہ مستحق اور حقدار کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں تین مرتبہ ماں کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تمہاری ماں ،اور چوتھی بار میں باپ کا ذکر کیا، اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں ماں کا درجہ کتنا اونچا اور بلند ہے ۔ انسان پر ضروری ہے کہ وہ ماں اور باپ دونوں کی کفالت کرے اور ان کے معاش اور ان کے نفقہ کی ذمہ داری اپنے کندھے پر لے اگر وہ محتاج اور ضرورت مند ہیں، لیکن اگر کوئ شخص ان دونوں میں سے صرف ایک ہی کی کفالت کر سکے اور ان میں سے ایک ہی کا نفقہ برداشت کر سکے تو فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ماں کی کفالت اس صورت میں واجب ہوگی اور اس کی ضروریات مقدم ہوں گی ۔ اسلام نے ماں کے حقوق کی اتنی اور اس درجہ رعایت رکھی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ایمان لے آئے، لیکن ان کی والدہ نے اسلام قبول نہیں کیا، ایمان نہیں لائیں اور بیٹے سے ماں نے پوچھا کہ تمہارے رسول اور پیغمبر ماں کے ساتھ کیسے برتاو اور سلوک کا حکم دیتے ہیں ؟ اس صحابی رسول نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہتر اور نیک سلوک و برتاو کا حکم اور تاکید فرماتے ہیں، روایت میں آتا ہے کہ ان کی والدہ نے خورد و نوش (کھانا پینا) ترک کر دیا اور کہا جب تک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان سے باز نہیں آتے میں کھانا نہیں کھاوں گی ،صحابی رضی اللہ کے لئے یہ صورت حال بہت ہی مشکل اور پریشانی کا باعث تھی ،وہ صحابی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی پریشانی اور مشکل کا اظہار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی بر قراری بھی ضروری ہے اور والدہ کو کھانا کھلانا بھی، روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے بعد وہ صحابی ایک دو وقت فاقہ کے بعد جبرا والدہ کو کھانا کھلاتے اور ان کی ہر طرح کی کڑوی کسیلی اور کھری کھوٹی کو برداشت کرتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا دیا کہ اگر ماں باپ ظلم بھی کریں پھر بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک اور بہتر معاملہ کرو ۔ ہاں خلاف شریعت باتوں میں ان کی اطاعت و فرمانبرداری نہیں کی جائے گی ۔ کیوں کہ خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کی اطاعت درست نہیں ہے ۔ *لا طاعت لمخلوق فی معصیت الخالق*۔ شریعت نے وراثت میں جس طرح بیوی اور بیٹی کو حصہ دار اور شریک و سہیم بنایا ہے ماں کو بھی حصہ دیا ہے ۔ حکم شریعت یہ ہے کہ اگر اولاد کا انتقال ماں کی زندگی میں ہو جائے تو اس کے ترکہ میں سے ماں کو بھی حصہ دیا جائے ۔ اور ماں بھی ان ورثاء میں سے ہے جو کسی دوسرے رشتہ داروں کی موجودگی کی وجہ سے ترکہ سے محروم نہیں ہو سکتی ۔ خلاصہ یہ کہ اسلام نے عورت کو عزت و احترام اور قدر و منزلت کے جس مقام پر پہنچایا اور خاص طور پر ماں کی شکل میں اسلام نے جو عزت و رفعت ان کو عطا کی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جس اہتمام اور تاکید کے ساتھ ماں کے حقوق کی طرف توجہ دلائ اس بڑھ کر کسی مذہب اور سماج نے عورت کو ایسی عزت و احترام اور رفعت و بلندی نہیں دی ۔ عورت کے حوالے سے ان سنہری تعلیمات کے باوجود جن کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اور بعد کے مسلمانوں نے عملا برت کر دکھایا اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اسلام عورت کے معاملے میں امتیازی رویہ اور سلوک کا معاملہ کرتا ہے تو گویا وہ تنگ نظر اور متعصب ہے اور وہ انصاف اور حقیقت پسندی کی عینک سے نہیں بلکہ تنگ نظری اور عناد کی عینک سے چیزوں اور ثابت شدہ حقیقتوں کا مشاہدہ کر تا ہے ۔

تبصرہ کریں

تبصرے

ابھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔